نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک ساتھی نے کاروبار کی تشہیر کے لئے کوئی کمپنی بنائی جس کا کام لوگوں کے کاروبار کی تشہیر کرنا ہے اور ساتھ میں لوگوں کو بھی اس کمپنی میں حصہ دار بنایا ۔ایک بندے سے اس نے دس لاکھ روپے لئے کہ پاکستان میں جو کاروبار ہے اس میں تین فیصد نفع میں سے دوں گا اور برطانیہ میں جو کاروبار ہے اس کے نفع میں سے پانچ فیصد دوں گا ۔ جس نے روپے دئیے ہیں دس لاکھ اس کو اس کاروبار چلانے والے نے اپنا اسسٹنٹ بنایا ہے کہ لوگوں کے جو کام میرے ذمے ہوں وہ مجھے یاد دلانے ہیں اس کام کی آپ کو تنخواہ یعنی اجرت دوں گا ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ وہ دوسرا بندہ کاروبار میں شریک بھی ہے اور اس کاروبار میں کام کرنے کی الگ اجرت بھی لے رہا ہے تو یہ الگ اجرت لینا اس کے لئے جائز ہے یا نہیں؟
فقہاء کے نزدیک شراکت اور اجارہ کا اجتماع ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے بعض فقہاء اس کے عدم ِ جواز کے قائل ہیں لیکن بعض معاصر علماء کی رائے اس حوالے سے جواز کی ہے اس لئے بصورت مسؤلہ اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ مذکورہ شریک کو اس کے عمل کی الگ سے اجرت دینے کی بجائے اسکے لئے نفع کا تناسب بڑھایا جائے لیکن اگر اس شریک کو نفع میں سے اس کے حصے کے علاوہ اس کے عمل کی الگ سے اجرت دینا چاہے تو باقی معاصر علماء کی رائے پر عمل کرتے ہوئے درج ذیل شرائط کے ساتھ اس کی بھی گنجائش ہے؛
(1) اس شریک سے عقد شرکت سے ہٹ کر ایک الگ اور مستقل عقد اجارہ کیا جائے جس میں اس کو اجیر کی حیثیت سے لیا جائے۔
(2) عقد اجارہ میں مذکورہ شریک کیلئے ایک متعین اجرت مقرر کی جائے۔
(3) اگرکسی مرحلہ پر مذکورہ شریک کے ساتھ عقدِ اجارہ ختم کرنا ہوتو اس کی وجہ سے عقدِ شرکت پر کوئی اثر نہ پڑے،یعنی عقد اجارہ ختم کرنے کے بعد ایسا نہ ہو کہ عقد شرکت بھی ختم ہوجائے۔
(4)جس کام کیلئے شریک کے ساتھ عقد اجارہ کیا جارہا ہےیعنی کمپنی کے مالک کو لوگوں کو کام یاد دلانا ،وہ کام عقد شرکت میں شریک پر لازم نہ کیا گیا ہو۔
(5)چاہے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان ،مذکورہ اجیر(شریک) اپنی اجرت کا مستحق ہوگا۔
نوٹ:سائل نے سوال میں اس حوالے سے کوئی تفصیل ذکر نہیں کی کہ مذکورہ کمپنی کس قسم کے کاروبار کی تشہیر کرتی ہے بلکہ اس کا مقصود صرف یہ پوچھنا ہےکہ شریک کو اجیر بنانا جائز ہے یا نہیں اس لئے مذکورہ بالا جواب صرف سائل کے مقصودی سوال کا ہے ،باقی اگر سائل مذکورہ کمپنی کے کاروبار کے بارے میں پوچھنا چاہے تو اس کے لئے الگ سے سوال مرتب کرے جس میں کمپنی کی طرف سے تشہیر کئے جانے والے کاروبار کی مکمل تفصیل ذکر کریں تاکہ مذکورہ کمپنی کے کاروبار اور اس میں شریک کو اجیر رکھنے کے جواز و عدم جواز کے حوالے سے جواب دیا جاسکے۔
في شرح المجلة للعلامة الاتاسي:
اذا تساوى الشريكان في رأس المال و شرطا من الربح حصة زائدة لأحدهما مثلا كثلثي الربح و
كان ايضا عمل الأثنين مشروطا فالشركة صحيحة و الشرط معتبر،اما اذا شرط عمل أحدهما وحده فينظر إن كان العمل مشروطا على الشريك الذي حصته من الربح زائدة فكذالك الشركة صحيحة والشرط معتبر و يصير ذالك الشريك مستحقا ربح رأس ماله و الزيادة بعمله. . . . .الخ
(الباب السادس، الفصل السادس،المبحث الاول المادة:1371 ، 4/269 ، انوار القرآن)
و في النتف في الفتاوى للسغدي:
لو كان طعام بين رجلين فقال احدهما لصاحبه احمله الى موضع كذا ولك في نصيبي من الاجر كذا او قال اطحنه ولك في نصيبي كذا من الاجر جاز ذلك في قول زفر ومحمد بن صاحب ولايجوز ذلك في قول ابي حنيفة وابي يوسف ومحمد.
(كتاب الاجارة ،اجارة الشريك شريكه والعاشر، 2/ 575 ، دار الفرقان)
و في المعايير الشرعية:
لا يجوز تخصيص أجر محدد في عقد الشـركة لمن يسـتعان به من الشـركاء في الإدارة أو فيمهمات أخرى مثل المحاسـبة، ولكن يجوز زيادة نصيبه من الأرباح على حصته في الشركة.
يجـوز تكليـف أحـد الشـركاء بالمهمـات المذكورة ... بعقد منفصل عن عقد الشركة بحيث يمكن عزله دون أن يترتـب علـى ذلك تعديـل عقد الشـركة أو فسـخه، وحينئذ يجوز تخصيص أجر محدد له.
(الشركة و الشركات الحديثة، 329 ، هيئة المحاسبة والمراجعة للمؤسسات المالية الاسلامية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔