سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-207 Fatwa no: 1447-207

طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری شادی کو چند سال ہوچکے ہیں ،آج سے تقریبا چار  سال پہلے میرا اپنی بیوی اور اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا ہوا،بہنیں بھی موجود تھیں،بھائی کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی اور معاملہ کافی خراب ہوا۔بھائی کی طبیعت خراب ہوئی لہذا میں اس کو ہسپتال لے جانے لگا اور اس کو گاڑی میں بٹھانے سے پہلے میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں پنجابی میں کہا کہ تم کیا  چاہتی ہو ، طلاق چاہتی ہو، صبر رکھو  میں تمہیں طلاق دیناواں ، میں تمہیں طلاق دینا واں ، میں تمہیں طلاق دیناواں(اردو میں ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ صبر کرو میں تمہیں  طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں )اس کے بعد میں جب جانے لگا تو بیوی سامنے آئی تو اس کو میں نے کہا کہ یہاں  سے ہٹ جاؤ ، یہاں سے دور ہوجاؤ۔ پھر میں بھائی کو گاڑی میں بٹھا کر دوبارہ گھر آیا اور  سب بہنیں اور بیوی کھڑی تھیں تو میں نے سب گھر والوں کو کہا کہ آج واپس آکر میں تم لوگوں کا فیصلہ کرتا  ہوں۔ اس واقع کے بعد سے ابھی تک ہم اکٹھے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے ہیں لیکن ابھی کسی نے بتایا کہ آپ لوگوں کی طلاق ہوچکی ہے۔برائے مہربانی شرعی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔

جواب :

عام طور پر لفظ " طلاق دیناواں  " یعنی طلاق دیتا ہوں حال میں طلاق دینے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے لیکن  مسؤلہ صورت میں آپ نے ان الفاظ کے سیاق و سباق میں جو " صبر رکھو" اور " آج واپس آکر میں تم لوگوں کا فیصلہ کرتا  ہوں" کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے ان الفاظ سے طلاق نہیں دی بلکہ طلاق کی دھمکی  دی تھی ،لہذا صورت مسؤلہ میں آپ کے الفاظ "صبر رکھو  میں تمہیں طلاق دیناواں ، میں تمہیں طلاق دینا واں ، میں تمہیں طلاق دیناواں" طلاق نہیں بلکہ  طلاق کی دھمکی ہے  اور ان الفاظ سے   سے آپ کی بیوی کو کوئی طلاق نہیں ہوئی  بلکہ آپ دونوں بدستور میاں بیوی ہیں  ۔
في الفتاوى الهندية:
فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك. في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا . . . . . الخ
(كتاب الطلاق، الفصل السابع، 1/ 384، دار الفکر)
و في الدر المختار:
بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة . . . . .الخ
(كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، 3/ 319، دار الفکر)
وفي خلاصة الفتاوى:
"إمرأة قالت لزوجها:"من باتو نمى باشم"فقا ل الزوج "مباش"فقالت :" طلاق بدست تست  مرا طلاق کن" فقال الزوج :" کنم "لأنه إستقبال ،تحقيقا للشك .وفي المحيط  :لو قال بالعربية :أطلق لا ىكون طلاقا إلا إذا غلب إستعماله في الحال لايكون طلاقا."
(كتاب النكاح ،جنس آخر في ألفاظ الطلاق، 2/81،رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب