سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-208 Fatwa no: 1447-208

طلاقِ مغلظہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے شوہر نے مجھے ماضی میں کئی مرتبہ بحالت غصہ ان الفاظ سے طلاق دی کہ "میں تمہیں  طلاق دیتا ہوں" لیکن ہر بار اس کا یہ کہنا ہوتا تھا کہ غصہ میں طلاق نہیں ہوتی ۔اب  تقریبا کوئی ڈیڑھ سال قبل شوہر نے مجھے گھر سے جانے کیلئے  کہا اور میں نے جانے سے انکار کیا تو شوہر نے مجھے یہ الفاظ کہے کہ " میں تجھے طلاق دیتا ہوں " یہ الفاظ انہوں نے تین سے زیادہ مرتبہ کہے اور اس کے بعد سے اب تک شوہر نے نہ مجھ سے  فون پر کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کسی کے ذریعے کوئی پیغام بھیجا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ میں مجھے اپنے شوہر سے طلاق ہوچکی ہے یا نہیں اب بھی کوئی گنجائش باقی ہے؟

جواب :

بصورت مسؤلہ آپ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور آپ کی عدت بھی گزر چکی ہے جیسا کہ سوال سے واضح ہے اس لئے اب آپ نکاح کے معاملہ میں آزاد ہیں جدھر اور جس کے ساتھ چاہیں آپ نکاح کر سکتی ہیں ،تاہم اگر دوبارہ سابق خاوند کے ساتھ نکاح  کرنا چاہیں تو اس صورت میں حلالہ شرعیہ ضروری ہے اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے مرد سے نکاح کریں اور دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد خود اپنی مرضی سے آپ کو طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے ،اس کے بعد آپ عدت مکمل کر کے اپنے سابقہ شوہر سے  گواہوں کی موجودگی میں ازسر نو نیا نکاح کرلیں۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ         (البقرة: 230)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]
(كتاب الطلاق، الرجعة، 3/ 187 ، دار الكتب العلمية)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
أما التحليل فقد شدد الشرع في ثبوته، ولذا قالوا: إن شرعيته لإغاظة الزوج عومل بما 
يبغض حين عمل أبغض ما يباح فلذا اشترطوا فيه الوطء الموجب للغسل بإيلاج الحشفة بلا حائل في المحل المتيقن احترازا عن المفضاة والصغيرة من بالغ، أو مراهق قادر عليه بعقد صحيح لا فاسد ولا موقوف ولا بملك يمين.
(كتاب الطلاق، مطلب في حيلة إسقاط عدة المحلل، 3/ 411 ، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب