نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میاں بیوی میں ناچاقی کی وجہ سے بیوی اپنے والدین کے گھر گئی۔ اس ناچا قی کو دور کرنے کے لیے جرگہ ہو رہا تھا اور جرگہ نے دونوں فریقین کا موقف سن کر فیصلہ سنانے سے پہلے لڑکے کو اپنے سسرال جانے سے منع کیا ۔اس دوران لڑکا اپنے سسرال آیا اور اپنی بیوی کو بلا کر گھر کے قریب کھیت میں لے گیا اور کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تو بیوی نے کہا جب تک جرگے کا فیصلہ نہیں آتامیں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتی اور شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کیا، تب شوہر نے غصے میں آ کر کہا کہ اگر آپ ابھی میرے ساتھ میرے گھر نہیں آئی تو تجھے ایک طلاق دو طلاق تین طلاق ۔صریح الفاظ میں کہا اور ہر طلاق کے ساتھ پتھر بھی پھینکا ۔اس کے بعد بیوی شوہر کے ساتھ اس کے گھر نہیں گئی بلکہ اپنے والدین کے گھر آئی اور شوہر بھی ساتھ میں بیوی کے والدین کے گھر گیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ بیوی کااپنے شوہر کے ساتھ اس کے گھر نہ جانے سے تین طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
بصورت مسؤلہ شوہر نے تین طلاقیں بیوی کے اس کے ساتھ گھر نہ جانے پر معلق کیےتھے اور چونکہ بیوی اس کے ساتھ اس کے گھر نہیں گئی اس لئے بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ طلاق مغلظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہیں ،اب عدت گزارنے کے بعد بیوی نکاح کے معاملہ میں آزاد ہوگی جدھر اور جس کے ساتھ چاہے نکاح کر سکتی ہے ۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرة: 230)
الهندية:
" وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك. . . . . . . . " الخ
(كتاب الطلاق ،الباب الرابع،1/420، دار احياء التراث العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔