نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک آدمی آج سے چار پانچ سال قبل ایک شادی شدہ خاتون کو اغواء کرکے لے گیا اور پھر عدالت سے دونوں نے طلاق وغیرہ لے کر عدالتی نکاح بھی کرلیا۔جبکہ اس کے پہلے خاوند نے اس عورت کو طلاق نہیں دی۔اب ان دونوں خاندانوں کے درمیان معاملات صلح کی طرف جارہے ہیں پوچھنا یہ ہے کیا عدالتی طلاق واقع ہوگئی تھی یا نہیں ؟اور اب اگر اس کا خاوند اس خاتون کو طلاق دے تو کیا وہ عدت گزارے گی؟اور پھر دوسرےنکاح کی کیا ترتیب ہوگی مہر وغیرہ کے لحاظ سے؟واضح رہے اس خاتون کے نئے خاوند سے دوتین بچے بھی ہیں۔
تنقیح:سائل کا بیان ہے کہ عورت نے عدالت میں جھوٹ بول کر خلع لیا ہے کہ شوہر مجھ پر ظلم و زیادتی کرتا تھا اور میرے حقوق پورے نہیں کرتا تھا لیکن اس کے بعد سائل سے خلع کے عدالتی کاغذات منگوائے گئے ۔عدالتی کاغذات میں بیوی نے ظلم و زیادتی کی بنیاد پر فسخ نکاح کا کیس دائر کیا تھا اور واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ شوہر نے اس کو مارا پیٹا اور خالی ہاتھ گھر سے نکالا اور اس کے بعد خاوند نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ کوئی خرچہ وغیرہ بھیجا جس کی وجہ سے اس کے دل میں اپنے شوہر کیلئے نفرت پیدا ہوگئی اور وہ اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی لہذا عدالت سے درخواست ہے کہ ان دونوں کا نکاح فسخ کردے۔
عدالتی فیصلہ پڑھ کر یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ عدالت نے شوہر کو کئی بار سمن بھی بھیجا لیکن اس کے باوجود شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی۔
خلع دیگر مالی عقود کی طرح ایک مالی عقد ہے جو فریقین(میاں بیوی) کی رضامندی سے تام ہوتا ہے اور اگر فریقین میں سے کوئی ایک بھی راضی نہ ہو تو خلع درست نہیں ہوتا اور جہاں تک مروّجہ عدالتی خلع کی بات ہے تو اس کو عام طور پر خلع کہا جاتا ہے لیکن وہ درحقیقت فسخ ِ نکاح ہوتا ہے اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق قاضی کو تنسیخِ نکاح کا اختیار صرف اس صورت میں حاصل ہوتا ہے کہ یا تو شوہر اپنی بیوی کو ظلماً ناقابل برداشت مارتا پیٹتا ہو،یا اس کا شوہرمتعنت ہو یعنی باوجود قدرت کےبیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہواور بیوی نے بھی اسی تعنّت یا ظلم و زیادتی کو بنیاد بناکر کیس دائر کیا ہو بصورت دیگر عدالتی خلع شرعا معتبر نہیں۔
بصورت مسؤلہ اگر مذکورہ شخص(شوہر) واقعی اپنی بیوی کو ظلماً مارتا پیٹتا تھا جیسا کہ عدالتی فیصلہ میں اس ظلما ً مارنے پیٹنے کو بنیاد بنایا گیا ہے پھر تو عدالت کا مذکورہ فیصلہ شرعا ً معتبر ہے اور اس فیصلے کے ذریعے دونوں میاں بیوی کا نکاح فسخ ہوچکا تھا ،اس کے بعد اگر دوسرے مرد نے مذکورہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد اس سے نکاح کیا تھا تو اس صورت میں ان کا نکاح جائز طریقہ سے ہوچکا ہے بشرطیکہ نکاح کے باقی شرائط پورے ہوں اور اس نکاح کے نتیجے میں ہونے والی اولاد دوسرے شوہر کی طرف منسوب ہوگی لیکن اگر ان دونوں نے دورانِ عدت نکاح کیا تھا تو اس صورت میں ان کا نکاح باطل ہے یعنی وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا اس لئے ان دونوں پر لازم ہے کہ فورا ً جدا ہوجائیں اور جتنا وقت اکٹھے میاں بیوی کی حیثیت سے گزار چکے ہیں اس دوران وہ حرام میں ملوث رہے ہیں اس لئے اپنے اس فعل پر خوب توبہ و استغفار کریں اور خوب رو رو کر اللہ سے معافی مانگیں اور اس صورت میں جو اولاد پیدا ہوچکی ہے ان کا نسب نہ پہلے خاوند سے ثابت ہوگا اور نہ دوسرے خاوند سے بلکہ وہ اولاد اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگی ،تاہم اگر عورت دوبارہ دوسرے مرد کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو از سرِ نو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کریں ۔
مذکورہ بالا تفصیل تو اس صورت میں ہے کہ جب عدالت کا فیصلہ شرعا معتبر ہو لیکن اگر مذکورہ عورت نے جھوٹا کیس دائر کیا تھا اور شوہر کی طرف سے کوئی ظلما ً مار پیٹ یا تعنّت نہیں تھا جس طرح کہ سائل کا بیان ہے تو اس صورت میں عدالت کے مذکورہ فیصلہ کا شرعا ً کوئی اعتبار نہیں اور اس عورت کا پہلے شوہر کے ساتھ نکاح ابھی تک برقرار ہے اور وہ دونوں بدستور میاں بیوی ہیں اور اس صورت میں دوسرا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا اس لئے مذکورہ عورت اور دوسرے مرد پر لازم ہیں کہ فوراً جدا ہوجائیں اور جتنا وقت ایک دوسرے کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے گزار چکے ہیں اس دوران وہ حرام میں ملوث رہے ہیں اس لئے اپنے اس فعل پر خوب توبہ و استغفار کریں اور خوب رو رو کر اللہ سے معافی مانگیں اور اس صورت میں بھی دوسرے مرد سے ناجائز تعلقات کی بنیاد پر جو اولاد پیدا ہوچکی ہے ان کا نسب نہ پہلے شوہر سے ثابت ہوگا اور نہ دوسرے مرد سے بلكہ وہ اولاد اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگی لہذا مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ اپنے شوہر(پہلا مرد) کے پاس واپس چلی جائے بشرطیکہ شوہر اس کو ساتھ رکھنے پر راضی ہو،بصورت دیگر وہ شوہر سے طلاق یا خلع شرعی لیکر عدت گزارنے کے بعد نکاح کے معاملہ میں آزاد ہوگی جدھر اور جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ ۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
(قَوْلُهُ: وَشَرْطُهُ كَالطَّلَاقِ)... وَأَمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ كَمَا فِي الْبَدَائِعِ: إذَا كَانَ بِعِوَضٍ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ، فَلَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ، وَلَا يُسْتَحَقُّ الْعِوَضُ بِدُونِ الْقَبُولِ...الخ
(كتاب الطلاق ، باب الخلع ، 3/ 441 ، دار الفكر)
و فيه ايضا:
والظاهر أن المراد بالباطل ما وجوده كعدمه، ولذا لا يثبت النسب ولا العدة في نكاح المحارم أيضا ...... أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ.
(كتاب الطلاق ، باب المهر3/ 132، دار الفكر)
و في الفتاوي الهندية:
الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.
(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 488 ، دار الفكر)
و فيه ايضا:
قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط. (والثانية) أم الولد، والحكم فيها أن يثبت النسب من غير دعوة وينتفي بمجرد النفي كذا في الظهيرية..... (الثالثة) الأمة إذا جاءت بولد لا يثبت النسب بدون الدعوة عندنا كذا في الظهيرية.
(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 536 ، دار الفكر)
و في الموسوعة الفقهية الكويتية:
ويتفقون كذلك على وجوب العدة وثبوت النسب في النكاح المجمع على فساده بالوطء كنكاح المعتدة، وزوجة الغير والمحارم إذا كانت هناك شبهة تسقط الحد، بأن كان لا يعلم بالحرمة ؛ ولأن الأصل عند الفقهاء: أن كل نكاح يدرأ فيه الحد فالولد لاحق بالواطئ. أما إذا لم تكن هناك شبهة تسقط الحد، بأن كان عالما بالحرمة، فلا يلحق به الولد عند الجمهور، وكذلك عند بعض مشايخ الحنفية؛ لأنه حيث وجب الحد فلا يثبت النسب. وعند أبي حنيفة وبعض مشايخ الحنفية يثبت النسب لأن العقد شبهة. وروي عن أبي يوسف ومحمد أن الشبهة تنتفي إذا كان النكاح مجمعا على تحريمه والمنكوحة محرمة على التأبيد، كالأم والأخت، وعلى ذلك فلا يثبت النسب عندهما في المحرمة على التأبيد، فقد ذكر الخير الرملي في باب المهر عن العيني ومجمع الفتاوى أنه يثبت النسب عند أبي حنيفة خلافا لهما، إلا أنه روي عن محمد أنه قال سقوط الحد عنه لشبهة حكمية فيثبت النسب.
(حرف الباء ، العدة والنسب ، 8/ 123، وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔