نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں نے آپ کے دار الافتاء سے ایک استفتاء کیا تھا جس پر آپ کے دار الافتاء سے فتوی نمبر 6443 جاری ہوچکا ہے لیکن اس میں مجھ سے یہ غلطی ہوئی تھی کہ میں نے اس میں رجوع کی بات لکھی ہی نہیں تھی کہ میں رجوع کرچکا ہوں۔لہذا میں دوبارہ پورا مسئلہ ذکر کردیتا ہوں تاکہ اس کے مطابق مجھے فتوی دیا جائے۔
میرا نکاح سمیرا بی بی سے 2005 میں ہوا ۔شروع میں حالات ٹھیک تھے لیکن بعد میں ہم دونوں میں ناچاقیاں پیدا ہونے لگیں اور مسائل حل ہونے کی طرف نہیں گئے جس وجہ سے میرے پاس طلاق کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا اور میں نے 14 جولائی 2025 ء کو ایک طلاق کی نیت کر کے سٹامپ لکھنے والے سے ایک طلاق رجعی کا نوٹس لکھنے کا کہا۔سٹامپ پیپر لکھنے والے نے ان الفاظ کے ساتھ سٹامپ پیپر لکھا کہ " میں بقائمی ہوش و حواس ِ خمسہ مذکور مسماۃ سمیرا کو نکاح کے بندھن اور اپنی زوجیت سے آزاد کر کے طلاق ِ اول دیتا ہوں" ۔میں نے اس طلاق نامہ کو خود پڑھ کر یہ سمجھتے ہوئےاس پر دستخط کئے کہ میں نے ایک ہی طلاق کا کہا تھا اور یہ ایک ہی طلاق ہے اور مجھے کوئی اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس میں جو مزید نکاح کے بندھن اور اپنی زوجیت سے آزاد کرنے والے الفاظ لکھے ہیں ان کا کوئی اثر ہوگا بھی یا نہیں۔بہر حال میں نے اس طلاق کے تقریبا ً چالیس دن بعد یونین کونسل میں رجوع کا تحریر نامہ بھی لکھا کہ میں اپنی طلاق سے رجوع کرتا ہوں۔ اب طلاق کے بعد سے میری بیوی میکے میں ہے اور کئی بار ہماری ملاقات بھی ہوچکی ہے اور اب ہم نے دوبارہ اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سسرال والے کہتے ہیں کہ کہیں سے فتوی لے لو کہ اس طرح جائز ہے یا نہیں۔اب آپ حضرات اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ مسئلہ میں ہمارا دوبارہ ایک ساتھ رہنا ممکن ہے؟جزاکم اللہ خیرا ً۔
بصورت مسؤلہ اگر آپ نے واقعی سٹامپ لکھنے والے کو صرف ایک طلاق رجعی لکھنے کا کہا تھا اور اس نے "نکاح کے بندھن اور اپنی زوجیت سے آزادکرتے ہوئے" کے الفاظ اپنی طرف سے لکھے ہیں اور آپ نے ایک طلاق رجعی کی نیت سے ہی اس پر دستخط کئے ہیں تو اس صورت میں آپ کی بیوی کو صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے لیکن اس طلاق کے چالیس دن بعد رجوع کرنے کی وجہ سے آپ دونوں کا رشتہ ازدواج برقرار ہے اور آپ دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ۔
قال تبارك و تعالى:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (البقرة: 229)
الفتاوى الهندية:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
(كتاب الطلاق ، الباب السادس في الرجعة ،1/ 470، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة. . . . .الخ
(كتاب الطلاق ، الرجعة ، 3/ 183 ، مؤسسة الرسالة)
رد المحتار:
والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة.
(كتاب الطلاق ، باب الرجعة ، 3/ 400 ، دار الفکر)
لسان الحكام:
إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك
أو لم ترض لقوه تعالى {فأمسكوهن بمعروف} الآية من غير فصل ولا بد من قيام العدة
لأن الرجعة استدامة الملك.
(الفصل الرابع عشر في الطلاق، ص 328 ، البابي الحلبي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔