نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نکاح سمیرا بی بی سے 2005 میں ہوا ۔شروع میں حالات ٹھیک تھے لیکن بعد میں ہم دونوں میں ناچاقیاں پیدا ہونے لگیں اور مسائل حل ہونے کی طرف نہیں گئے جس وجہ سے میرے پاس طلاق کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا اور میں نے 14 جولائی 2025 ء کو سٹامپ لکھنے والے سے ایک طلاق رجعی کا نوٹس لکھنے کا کہا۔سٹامپ پیپر لکھنے والے نے ان الفاظ کے ساتھ سٹامپ پیپر لکھا کہ " میں بقائمی ہوش و حواس ِ خمسہ مذکور مسماۃ سمیرا کو نکاح کے بندھن اور اپنی زوجیت سے آزاد کر کے طلاق ِ اول دیتا ہوں" ۔اب ہم نے دوبارہ اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سسرال والے کہتے ہیں کہ کہیں سے فتوی لے لو کہ اس طرح جائز ہے یا نہیں۔اب آپ حضرات اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ مسئلہ میں ہمارا دوبارہ رجوع ممکن ہے؟جزاکم اللہ خیرا ً۔
تنقیح: سائل سے فون کے ذریعے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کی سابقہ بیوی کی عدت گزر چکی ہے۔
بصورت مسؤلہ چونکہ آپ کی سابقہ بیوی کی عدت مکمل ہوچکی ہے جس طرح کہ آپ نے خود وضاحت کی ہے اس لئے آپ دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے اور اگر دوبارہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں نئے مہر کے ساتھ اور نئے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور آئندہ کیلئے آپ کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
قال تبارك و تعالى:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (البقرة: 229)
الفتاوى الهندية:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
(كتاب الطلاق ، الباب السادس في الرجعة ،1/ 470، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة. . . . .الخ
(كتاب الطلاق ، الرجعة ، 3/ 183 ، مؤسسة الرسالة)
رد المحتار:
والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة.
(كتاب الطلاق ، باب الرجعة ، 3/ 400 ، دار الفکر)
لسان الحكام:
إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك
أو لم ترض لقوه تعالى {فأمسكوهن بمعروف} الآية من غير فصل ولا بد من قيام العدة
لأن الرجعة استدامة الملك.
(الفصل الرابع عشر في الطلاق، ص 328 ، البابي الحلبي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔