نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج کل مختلف کنسٹرکشن کمپنیاں کلائنٹس سے پیسے لیکر ان کیلئے گھر یا فلیٹ وغیرہ بناتی ہے تو میں نے ایک فلیٹ بنوانے کے لیے ایک کمپنی کو 57 لاکھ روپے کیش دیے لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی بلڈنگ کا کام شروع تک نہیں ہوا اور فلیٹ کی جگہ جوں کی توں پڑی رہی اس لئے میں نے کمپنی سے کہا کہ جس جگہ فلیٹ بنانے کی آپ سے بات ہوئی تھی وہاں تو آپ لوگ اتنے عرصے میں کام شروع نہ کرسکے لہذا مجھے کسی اور اچھی سی جگہ میں جہاں آپ کوئی تعمیر کرچکے ہو وہاں کوئی فلیٹ وغیرہ دے دیں، اس کمپنی نے بحریہ ٹاؤن میں اپنے ایک ہوٹل کی تعمیر شروع کی تھی جس کا اکثر اسٹرکچر تیار ہو چکا تھا، چند منزلیں اور بنانا باقی تھی جو ان کے مطابق ڈیڑھ سال میں مکمل ہونا تھا تو اس کمپنی نے مجھے وہ فلیٹ جو کہ نہ بن سکا اس کی جگہ اس ہوٹل کا ایک بہترین کمرہ ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت کر دیا اور سٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دے دیا ،یعنی کمرہ تو بعد میں مکمل ہونا تھا لیکن معاملہ اسی طرح ہوا جیسے فلیٹ کاہوا تھا کہ پیسے لیکر مکمل ہونے کے بعد انہوں نے مجھے وہ کمرہ حوالہ کرنا تھا البتہ جو ڈیڑھ کروڑ قیمت طے ہوئی تھی اس کا انہوں نے یہ طریقہ کیا کہ 10 لاکھ روپے مجھ سے کیش لے لئے اور میرے پاس ایک دوسرے پلاٹ کی فائل تھی جس پلاٹ کی قیمت تقریبا ً 40 لاکھ روپے تھی تو میں نے کمپنی کو وہی فائل 40 لاکھ کی فروخت کی تو یہ ٹوٹل 50 لاکھ بن گئے۔اس کے علاوہ جو 57 لاکھ روپے میں کمپنی کے پاس پہلے سے جمع کرا چکا تھا فلیٹ بنوانے کے لیے ،اس کے بارے میں کمپنی نے خود کہا کہ چونکہ آپ کی یہ رقم ہمارے پاس پڑے ہوئے 2 سال گزر گئے ہیں اس لئے ہم اس کو اب 57 کی بجائے 80 لاکھ مانیں گے گویا کہ آپ کے ہمارے پاس اس فیلٹ کے 80 لاکھ روپے ہیں لہذا اس ہوٹل کے کمرے کے ڈیڑھ کروڑ روپے میں سے آپ ہمیں ایک کروڑ تیس لاکھ روپے پیمنٹ کرچکے ہیں جبکہ باقی کے 20 لاکھ آپ قبضہ ملنے کے بعد ہمیں ادا کرینگے ۔ یہ ساری تفصیل انہوں نے سٹامپ پیپر پر بھی لکھ کے دے دی ۔
وقت گزرنے کے ساتھ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ کمپنی ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی اس ہوٹل کا کام مکمل نہ کر سکی اس لیے میں اب کمپنی سے اپنے پیسے واپس لینا چاہتا ہوں جس میں اب درجہ ذیل دو صورتیں بنتی ہیں؛
(1) میں کمپنی سے کہوں کہ جس طرح طے ہوا ہے اور سٹامپ پیپر پر بھی لکھ کر دیا ہوا ہے کہ ایک کروڑ 30 لاکھ روپے میرے آپ کے پاس جمع ہیں ،لہذا مجھے اپنی یہ رقم فوری طور پر واپس کر دیں ،کیونکہ اس میں میرا فائدہ بھی ہے ۔
(2) اگر اوپر والی صورت جائز نہیں تو میں کمپنی سے کہوں کہ میرے 57 لاکھ روپے کو 80 لاکھ نہ مانا جائے بلکہ 57 ہی مانے اور باقی فائل کے 40 لاکھ اور نقد 10 لاکھ جو لئے تھے یہ کل ملاکر ایک کروڑ 7 لاکھ روپے بنتے ہیں بس یہی مجھے واپس کئے جائے۔
اس حوالے سے آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کونسی صورت اختیار کی جائے؟
سوال کے ابتداء میں ذکر شدہ صورت(فلیٹ بنانے کیلئے جو 57 لاکھ کیش دیا گیا تھا) تعمیرات میں استصناع کی صورت ہے اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق عقد استصناع میں وصول کیا جانے والا ثمن چیز بیچنے والے کی ملکیت ہوتا ہے لیکن کسی وجہ سے عقد ختم کرنے کی صورت
میں بیچنے والا ،خریدار کیلئے صرف اتنے ہی ثمن کا ضامن ہوگا جتنا وہ وصول کرچا ہو۔
بصورت مسؤلہ آپ نے ابتداء میں مذکورہ کمپنی کو فلیٹ بنانے کیلئے جو 57 لاکھ روپے کیش دیا تھا اس کے بدلہ کمپنی سے زائد رقم وصول کرنا آپ کیلئے جائز نہیں کیونکہ یہ زائد رقم سود ہے ، اس لئے کل ملاکر آپ کمپنی سے ایک کروڑ 7 لاکھ روپے وصول کرسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔
في درر الحكام شرح مجلة الاحكام:
إذا تقايل المتبايعان البيع بعد قبض ثمن المبيع فيجب رد مثل الثمن أو مقداره الذي اتفق عليه حين العقد ولو كان المقبوض أجود أو أدنى من ذلك . . . . . . . مثال ذلك: إذا باع رجل من آخر مالا بخمسين ريالا وبعد أن قبض الثمن تقايلا البيع واتفقا على أن يدفع البائع للمشتري خمسة وأربعين ريالا عوضا عن الثمن الذي قبضه فالإقالة صحيحة وعلى البائع أن يرد الخمسين ريالا للمشتري دون زيادة ولا نقصان.
وكذلك إذا باع رجل ماله من آخر بخمسين ريالا ثم اتفق هو والمشتري على أن يدفع المشتري ثمانية دنانير أو عشرة بدلا من الخمسين ريالا وبعد قبض البائع لهذه الدنانير تقايلا البيع فعلى البائع أن يرد إلى المشتري الخمسين ريالا المسماة ثمنا حين العقد وليس عليه أن يرد الدنانير التي قبضها؛ لأن قبض البائع للثمانية الدنانير أو العشرة بدلا من الخمسين ريالا عقد آخر لا تعلق له بالبيع والشراء الذي وقع سابقا وليس من قبيل تمليك الدين للمدين.
(الكتاب الأول البيوع،الفصل الرابع في إقالة البيع ،1/ 171 ،دار الجيل)
و في الفقه البيوع:
الثمن المدفوع مقدما عند إبرام العقد مملوک للصانع یجوز له الانتفاع والاسترباح به ،وتجب علیه الزکاة فیه، ولکنه مضمون علیه،بمعنی: أنه إذا انفسخ العقد لسبب من الاسباب ، یجب علیه رد الثمن علی المستصنع، ویکون ربحه للصانع بحکم الضمان . . . . الخ
(الباب الخامس ، الاستصناع ، 1 / 590 ، معارف القرآن كراتشي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔