سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-214 Fatwa no: 1447-214

عقد استصناع میں مکان قبضہ میں آنے سے پہلے بیچنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں نے ایک پانچ مرلہ کا گھر ایک کمپنی سے خریدا ہے جس کی قیمت 104 لاکھ کے قریب تھی لیکن کمپنی نے رعایت کر کے وہ گھر مجھے 100 لاکھ کا دے دیا اور میں نے تمام رقم ادا کردی ہے۔اب مکان بن رہا ہے،نیچے اور اوپر کی منزل کے کمرے بن گئے ہیں اور پلستر بھی کچھ کمرون کا ہوچکا ہے یعنی سٹرکچر بن گیا ہے لیکن دیگر کام رنگ ، پلستر ، الیکٹریشن وغیرہ کا کام ابھی باقی ہے۔پچھلے دنوں بارشوں کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ یا  شاید کسی اور وجہ سے بعض دیواروں میں بڑے بڑے کریک آگئے ہیں اس وجہ سے کمپنی نے کریک والے تام مکانوں کا کام مؤخر کردیا ہے۔کمپنی والے کہتے ہیں کہ پہلے صحیح والے مکان مکمل کرنے کے بعد کریک والے مکانوں کو صحیح کریں گے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کریک شدہ دیواروں  والے مکان کو قبضہ کمپنی کے پاس ہی ہے وہ شائد ایک سال میں اس کی مرمت کر کے اور مکمل کر کے مجھے قبضہ اور ملکیت دیں گے۔ابھی تک ملکیت اور قبضہ کمپنی کا ہی ہے تو کیا اس حالت میں میں یہ گھر کسی اور پارٹی کو فروخت کرسکتا ہوں ؟ برائے مہربانی اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب :

آپ کا سوال واضح نہیں ہے کیونکہ آپ نے سوال میں پہلے یہ لکھا ہے کہ آپ نے کمپنی سے مکان خریدا ہے اور آگے پھر آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ  مکان اب بن رہا ہے جو  بظاہر  تعمیرات میں عقد استصناع  کی  صورت ہے یعنی  پہلے سے  گھر وغیرہ کا کوئی وجود نہیں ہوتا لیکن صانع (آرڈر پر بنانے والا شخص یا کمپنی) کے ساتھ کسی متعین جگہ میں متعین صفات کا گھر یا کوئی پلازہ وغیرہ بنانے کا عقد کر لیا جاتا ہے  اور صانع متعین صفات کی عمارت مکمل کرنے کے بعد  خریدار کو حوالہ کرتی ہے۔
چونکہ عام طور پر دونوں طرح کے عقود ہورہے ہیں یعنی تعمیرات میں عقد استصناع بھی ہورہا ہے اور نامکمل تعمیر کی صورت میں بھی مکانات اور پلازے فروخت کئے جارہے ہیں اس لئے بصورت مسؤلہ؛
 اگر تو آپ نے مذکورہ مکان میں عقد استصناع کیا ہےتو چونکہ عقد استصناع میں مصنوع (آرڈر پر بنائی جانے والی چیز)  حوالہ کرنے سے پہلے صانع (آرڈر پربنانے والا) کی ملکیت ہوتی ہے اس لئےیہ  مکان ابھی تک آپ کی ملک میں نہیں آیا ہے لہذاآپ کیلئے  اس مکان کو کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہیں لیکن اگر آپ نے مذکورہ مکان اس کمپنی سے نامکمل حالت میں خریدا ہے تو اس صورت میں آپ اس مکان کے مالک ہیں اور اس صورت میں آپ اس مکان  کو قبضہ ملے بغیر بھی فروخت کرسکتے ہیں بشرطیکہ خریدنے والے کو اس مکان کا نقص واضح کردیں۔
في بدائع الصنائع:
وأما حكم الاستصناع: فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة، وثبوت الملك للصانع في الثمن ملكا غير لازم . . . . . وأما صفة الاستصناع: فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل في الجانبين جميعا، بلا خلاف، حتى كان لكل واحد منهما خيار الامتناع قبل العمل، كالبيع المشروط فيه الخيار للمتبايعين: أن لكل واحد منهما الفسخ؛ لأن القياس يقتضي أن لا يجوز؛ لما قلنا.وإنما عرفنا جوازه استحسانا؛ لتعامل الناس، فبقي اللزوم على أصل القياس.(وأما) بعد الفراغ من العمل قبل أن يراه المستصنع، فكذلك، حتى كان للصانع أن يبيعه ممن شاء.
( كتاب الاستصناع، فصل في حكم الاستصناع،5/3، دار االكتب العلمية)
و في فقه البيوع:
3-والمصنوع قبل التسلیم ملک للصانع و لهذا ذكر الفقهاء انه يجوز له ان يبيعه من غيره... الخ
4-ان المضمون قبل التسليم مضمون عليه ، فيتحمل الصانع جميع تبيعات الملك من صيانته و حفظه، فان هلك قبل التسليم هلك من مال الصانع.
5-وبما ان المصنوع ملك للصانع و ليس ملكا للمستصنع قبل التسليم ، فلا يجوز للمستصنع ان يبيعه قبل ان يسلم اليه.
( الباب الخامس، المبحث الثاني في السلم والاستصناع،2/585، معارف القرآن كراتشي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب