نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں سکاٹ لینڈ میں کام کرتا ہوں اور تقریباً سال بعد گھر آتا ہوں اس بار جب تقریبا ً ایک ماہ قبل گھر آرہا تھا تو ائیرپورٹ جانے کیلئے روڈ پر نکل آیا تو سو ڈالر کا ایک نوٹ پڑا ہوا تھا اور وقت بھی رات کا تھا کوئی قریب تھا بھی نہیں کہ جس سے اس کے بارے میں پوچھتا اس لئے اس وقت یہ بات ذہن میں آئی کہ راستے میں کوئی غریب مل جائے گا تو اس کو دے دوں گا لیکن گاڑی میں بیٹھنے کے بعد مجھے یاد ہی نہ رہا اور میں پاکستان واپس پہنچ گیا تو جب میں ہاتھ ڈالنے کے بعد یاد آیا کہ ڈالر تو میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں ۔اب گھر میں ایسے ہی بھائی سے تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ یہ چھوٹی بات ہے جو سو ڈالر آپ کو ملے ہیں وہ آپ ہی کے ہیں لیکن میرے دل کو تسلی نہیں ہوئی اس لئے مفتی صاحب آپ کے پاس تحریر بھیجی کہ آپ صحیح جواب دیں کہ کیا وہ سو ڈالر واقعی میرے ہیں یا نہیں وہ میرا حق نہیں ہے؟اگر وہ میرا حق نہیں ہے تو اس کا اب میں کیا کروں؟
راستے میں گری پڑی چیز لقطہ کہلاتی ہے اور لقطہ اگر کسی مسلمان کا ہو تو اس کو تشہیر کے بعد بغیر نیت ِ ثواب صدقہ کرنا جائز ہے اور اس کو پانے والا اگر فقیر ہو تو اس کیلئے خود اس سے نفع اٹھانا بھی جائزہے لیکن اگر وہ لقطہ کسی غیر مسلم کا ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو بغیر نیتِ ثواب کے بیت المال میں جمع کیا جائے اور اگر کسی جگہ بیت المال کا نظام نہ ہو تو اس کو رفاعی کاموں میں استعمال کیا جائے ۔
بصورت مسولہ مذکورہ رقم لقطہ ہے اور چونکہ سکاٹ لینڈ کی اکثر آبادی غیرمسلم ہیں اور وہاں جو آپ کو ڈالر ملے ہیں وہ بھی غیر مسلم ملک کی کرنسی ہے اس لئے غالب گمان یہی ہے کہ یہ کسی غیر مسلم کا لقطہ ہے اس لئے آپ کیلئے یہ سو ڈالر خود استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ ان کو کسی رفاعی کام مثلا ً مدرسہ وغیرہ میں صرف کردیں ۔
الفتاوى الهندية:
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء،كذا في خزانة المفتين،ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين. . . . الخ
(كتاب اللقطة ، 2/ 289، دار الفكر)
الهندية:
كل لقطة يعلم أنها كانت لذمي لا ينبغي أن يتصدق بها ولكن تصرف إلى بيت المال لنوائب
المسلمين، كذا في السراجية.
(كتاب اللقطة ، 2/290، دارالفكر)
الدر المختار:
(وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها وفي الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها
تفسد إن بقيت كالأطعمة) والثمار(كانت أمانة) لم تضمن بلا تعد. . . .(فينتفع) الرافع (بها
لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير . . . . . (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة
فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه) والظاهر أنه ليس للوصي والأب إجازتها نهر.
(كتاب اللقطة ، 4/278، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
إذا أخذ اللقطة فإنه يعرفها لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «عرفها حولا» حين سئل عن اللقطة. . . . . وإذا تصدق بها على الفقراء فإذا جاء صاحبها كان له الخيار إن شاء أمضى الصدقة وله ثوابها، وإن شاء ضمن الملتقط أو الفقير إن وجده . . . . الخ
(كتاب اللقطة ،فصل في بيان ما يصنع باللقطة ، 6/202 ، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔