سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-216 Fatwa no: 1447-216

فصل کو منڈی تک پہنچانے کا کرایہ عشر ادا کرنے سے پہلے منہا کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ
آج کل ہمارے کھیتوں میں ٹماٹر پک چکے ہیں ،اگر ہم کھیت ہی میں عشر نکالیں تو فقراء کیلئے انفع نہیں کیونکہ ہمارے یہاں گاؤں میں  20 روپے کلو ہے اس لئے ہم اپنے سارے ٹماٹر مختلف شہروں میں بھیجتے ہیں جیسے اسلام آباد ، سوات وغیرہ ۔اگر ہم عشر نکالے بغیر اپنے ٹماٹر دوسرے شہروں میں بھیجیں اور پھر نقدی آنے کے بعد اس میں سے عشر ادا کریں تو یہ فقراء کیلئے انفع ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ دوسرے شہروں کی طرف مال بھیجنے میں گاڑیوں کا کرایہ ایک ہفتہ میں تقریبا ً 20 سے 40 ہزار تک آتا ہے تو کیا یہ کرایہ نکال کر باقی پیسوں سے عشر نکالیں گے یا عشر نکالنے کے بعد یہ کرایہ ہم اپنے مال سے الگ سے دیں گے؟

جواب :

عام طور پر فصل پر جو خرچہ ہوتا ہے وہ دو قسم کا ہوتا ہے؛
(1)وہ خرچہ جوابتداء سے لیکر  فصل  کٹنے  تک ہوتا ہےیعنی وہ خرچہ جو زراعت کے امور سے متعلق ہو جیسے بیج اور کھاد کا خرچہ ،زمین ہموار کرنے کیلئے ہل چلانے کا خرچہ،ٹریکٹر اور تھریشر کا خرچہ   وغیرہ وغیرہ۔
(2)وہ خرچہ جو فصل کٹنے کے بعد سے لیکر اس فصل کو منڈی تک پہنچانے میں ہوتا ہے جیسے پیٹیوں یا کریٹوں کا خرچہ اور اور گاڑی کا کرایہ وغیرہ۔
مذکورہ بالا دونوں قسموں میں سے پہلی قسم کا خرچہ فصل کا عشر نکالنے سے پہلے منہا کرنا جائز  نہیں بلکہ اس خرچہ کو شامل کر کے عشر (بارانی زمین کی صورت میں) یا نصف عشر(زمین اپنے خرچہ پر سیراب کرنے کی صورت میں) ادا کرنا لازمی ہے جبکہ دوسرے قسم کا  خرچہ منہا کر کے باقی ماندہ فصل کا عشر یا نصف عشر نکالا جائے گا۔
بصورت مسؤلہ آپ پر   فصل کو منڈی تک پہنچانے کا خرچہ اپنے مال سے الگ سے دینا لازم نہیں بلکہ فصل بیچ کر آپ کو جو رقم وصول ہوگی اس رقم میں سے  آپ گاڑی کا کرایہ اور وہ دیگر اخراجات جو مذکورہ بالا تفصیل میں دوسری قسم کے اخراجات میں ذکر ہوچکے ہیں ان کو منہا کرکے باقی ماندہ رقم کا دسواں حصہ(بارانی زمین کی صورت میں) یا بیسواں حصہ(زمین اپنے خرچہ پر سیراب کرنے کی صورت میں)ادا کریں گے۔
في البحر الرائق شرح كنز الدقائق          
(ولا ترفع المؤن) أي لا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر وكري الانهار وأجرة الحافظ وغير ذلك لان النبي صلى الله عليه وسلم حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها. أطلقه فشمل ما فيه العشر وما فيه نصفه فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الارض عشرا أو نصفا إلا أن ما تكلفه يأخذه بلا عشر أو نصفه ثم يخرج الواجب من الباقي كما توهمه بعض الناس.
(كتاب الزكوة، باب العشر ، 2/ 416، دار الكتاب الاسلامي)
في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولا يحتسب لصاحب الأرض ما أنفق على الغلة من سقي، أو عمارة، أو أجر الحافظ، أو أجر العمال، أو نفقة البقر؛ لقوله - صلى الله عليه وسلم - «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر» ، أوجب العشر ونصف العشر مطلقا عن احتساب هذه المؤن ولأن النبي - صلى الله عليه وسلم - أوجب الحق على التفاوت لتفاوت المؤن ولو رفعت المؤن لارتفع التفاوت.
(كتاب الزكوة، فصل زكوة الزروع و الثمار، 2/ 62، دار الكتب العلمية)
و في الهداية في شرح بداية المبتدي:
" وكل شيء أخرجته الأرض مما فيه العشر لا يحتسب فيه أجر العمال ونفقة البقر " لأن النبي عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها.
(كتاب الزكوة،باب زكوة الزروع والثمار ، 1/ 109، دار احياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب