سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-217 Fatwa no: 1447-217

قرآنی آیات و اسماء ِمبارکہ والے پوسٹرز غیر محفوظ مقام پر لگانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج کل جگہ جگہ عام طور پر دیواروں پراشتہارات  کے پوسٹرز  لگائے جاتے ہیں جس کے نیچے گندی نالیاں ہوتی ہیں ایک دو دن کے بعد یہ پوسٹرز  نالیوں میں گر جاتے ہیں اور ان پوسٹرز میں اللہ تعالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام، آیات اور  احادیث مبارکہ بھی  ہوتے ہیں اور نالیوں میں گرنے کی وجہ سے  ان کی بے ادبی ہوتی ہے۔ نیز عوام الناس ان ارباب مدارس وغیرہ سے بدظن ہوتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالی  اور آیات و احادیث  اور ناموں کا خیال نہیں۔ الغرض آج کل کے دور میں اشتہارات کیلئے کاغذی پوسٹرز کی بجائے  دیگرمتبادل  ذرائع  جیسے فیس بک، واٹس ایپ  ،انسٹاگرام اور جلسہ جات میں اعلانات وغیرہ موجود ہیں جو کہ کاغذی اشتہارات سے قیمتاً بھی آسان ہیں اور تشہیر کے مؤثر ذرائع بھی ہیں۔ لہذا ان متبادل ذرائع کے ہوتے ہوئے اشتہارات کیلئے ان کاغذی پوسٹرزکا استعمال شرعا ً کیسے ہوگا؟ کیا تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور ارباب جلسہ کا اس پر مواخذہ اخروی ہوگا؟

جواب :

تشہیر کی خاطر پوسٹرز یا بینرز پراللہ تعالیٰ کے اسماء ،انبیاء علیہم التسلیمات کے اسماء ،قرآنی آیات و احادیث مبارکہ لکھنا فی نفسہ  جائز ہے لیکن اس قسم کے پوسٹرز اور بینرز  کو ایسے مقامات پر لگانا  یا آویزا کرنامکروہ تحریمی اور ممنوع ہے جہاں ان کی بے ادبی  یا اہانت  کا اندیشہ ہو جیسےگندے نالوں کے قریب لگانا  جو بعد میں انہیں نالوں میں گرتے ہوں یا جہاں بچے اس کو پھاڑ کر زمین پر پھینکتے ہوں اور ایسے مقامات پر    لگانا کہ جہاں ان کے پیروں سے روندے جانے کا قوی اندیشہ ہو بالکل ناکائز اور حرام ہے۔
بصورت مسؤلہ چونکہ مذکورہ پوسٹرز اور بینرز کا مقصد تشہیر ہوتا ہے  اس لئے تشہیر کی حد تک تو ان پوسٹرز کو لگانا جائز ہے لیکن روزمرہ کا مشاہدہ اس بات کا شاہد ہے کہ بعد میں ان پوسڑز اور بینرز کی بے ادبی اور بے توقیری ہی کی جاتی ہیں اور چونکہ آج کے دور میں تشہیر کے اور بھی بہت سے ذرائع موجود ہیں جیسا کہ سوال میں مذکور ہے اور ان  میں قرآنی آیات و احادیت مبارکہ اور مبارک اسماء کی بے ادبی کا اندیشہ بھی نہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان پوسٹرز اور بینرز کی بجائے تشہیر کیلئے وہی ذرائع اپنائے جائیں ورنہ  ان پوسٹرز اور بینرز کو غیر محفوظ مقام پر لگانے کے بعد ان کی بے ادبی اور بے توقیری کی صورت میں منتظمین   اور لگانے والے اس گناہ میں شامل ہوں گے۔
رد المحتار على الدر المختار:
(قوله ولا ينبغي الكتابة على جدرانه) أي خوفا من أن تسقط وتوطأ بحر عن النهاية . . . .الخ
(كتاب الصلاة ، فروع أفضل المساجد ، 1/ 663، دار الفكر)
الفتاوى الهندية:
ولو كتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، وبعضهم كرهوا ذلك
مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوى قاضي خان. كتابة القرآن على ما يفترش ويبسط مكروهة، كذا في الغرائب.
بساط أو مصلى كتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله، وعلى هذا قالوا: لا يجوز أن يتخذ قطعة بياض مكتوب عليه اسم الله تعالى علامة فيما بين الأوراق لما فيه من الابتذال باسم الله تعالى
(كتاب الكراهية ، الباب الخامس ، 5/ 323، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب