سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-218 Fatwa no: 1447-218

كسی شخص کے کہے بغیر روزہِ رسولﷺ پر اس کا سلام پیش کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اکثر عمرہ کیلئے جاتا رہتا ہوں ۔جب میں جانے لگتا ہوں اس وقت بھی اور ادھر پہنچنے کے بعد بھی کافی لوگ مجھے روزہِ رسول ﷺ پر سلام کا کہتے ہیں اور میں ان کا سلام ادھر پہنچا بھی دیتا ہوں لیکن بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھے کسی نے کہا نہیں ہوتا لیکن موقع پر مجھے کوئی قریبی تعلق والا یاد آجاتا ہے تو میں اس کی طرف سے بھی سلام پیش کرلیتا ہوں۔تو آیا کسی کے کہے بغیر اس کی طرف سے روزہ ِ رسولﷺ پر سلام پیش کرنا درست ہے؟
جواب :

کسی انسان تک  دوسرے انسان کا  سلام  پہنچانا درحقیقت اس بات کی اطلاع دینا ہوتا ہے کہ فلاں بندے نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے  اوراگر سلام پہنچانے والا اس پر رضامندی ظاہر کرے تو یہ سلام اس کے پاس امانت ہوجاتا ہے جس کا پہنچانا اس پر لازم ہوتا ہے جبکہ کسی كے کہے بغیر اس کا سلام   دوسرے کی خدمت میں پیش کرنا خلافِ حقیقت اور جھوٹ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، لہذا بصورت مسؤلہ کسی کے کہے بغیر اس کی طرف سے    روزہِ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنا جائز نہیں اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
الدر المختار:
ولو قال لآخر: أقرئ فلانا السلام يجب عليه ذلك . . . . . .الخ
و تحته في الشامية:
(قوله يجب عليه ذلك) لأنه من إيصال الأمانة لمستحقها، والظاهر أن هذا إذا رضي بتحملها تأمل.ثم رأيت في شرح المناوي عن ابن حجر التحقيق أن الرسول إن التزمه أشبه الأمانة وإلا فوديعة اهـ. أي فلا يجب عليه الذهاب لتبليغه كما في الوديعة قال الشرنبلالي: وهكذا عليه تبليغ السلام إلى حضرة النبي - صلى الله عليه وسلم - عن الذي أمره به؛ وقال أيضا: ويستحب أن يرد على المبلغ أيضا فيقول: وعليك وعليه السلام اهـ.
(كتاب الحظر والإباحة ، فصل في البيع ، 6/ 415 ، دار الفکر)
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:
وتبلغه سلام من أوصاك به فتقول: السلام عليك يا رسول الله من فلان بن فلان يتشفع بك إلى ربك فاشفع له وللمسلمين ثم تصلي عليه وتدعو بما شئت عند وجهه الكريم مستدبرا القبلة.
و تحته في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:
قوله: "وتبلغه سلام من أوصاك" ذكروا أن تبليغ السلام واجب لأنه من أداء الأمانة. . . .الخ
(كتاب الحج ، فصل زيارة النبي صلى الله عليه وسلم ، ص 749، دار الكتب العلمية) 
الفتاوى الهندية:
ويبلغه سلام من أوصاه فيقول: السلام عليك يا رسول الله من فلان بن فلان يستشفع بك إلى ربك فاشفع له ولجميع المسلمين ثم يقف عند وجهه مستدبر القبلة ويصلي عليه ما شاء.. . الخ
 (كتاب المناسك ، الباب التاسع في الصيد،  1/ 226، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب