سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-219 Fatwa no: 1447-219

كميٹی (بی سی) ڈالنا اور سربراہِ کمیٹی کو پہلی باری دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
چند آدمی آپس میں کمیٹی ڈال لیتے ہیں  اور پھر مقررہ وقت پر قرعہ اندازی کے ذریعے باری باری ان میں سے  ہر ایک کی  کمیٹی نکلتی ہے اور وہ پیسے لیتے ہیں  اور اس پورے سسٹم  میں  ایک ایسا آدمی بھی ہوتا ہے جو  اس کمیٹی کا سربراہ ہوتا ہے اور پیسے جمع کر کے اس کی حفاظت بھی کرتا ہے ۔اب جب کمیٹی کی شروعات ہوتی ہے تو تمام کمیٹی والے یہ طے کرتے ہیں کہ پہلی کمیٹی بغیر قرعہ اندازی کے ہم اپنی رضامندی سے اس سربراہ کو دینگے اور اس کے بعد باری باری جس کا نمبر قرعہ اندازی میں نکلے گا اس کو کمیٹی کے پیسے دئے جائیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا  کمیٹی ڈالنا ناجائز تو نہیں اور دوسرا یہ کہ سربراہِ کمیٹی کیلئے اس طرح بغیر قرعہ اندازی کے پہلی کمیٹی لینے میں کوئی قباحت تو نہیں؟

جواب :

کمیٹی کا مروّجہ معاملہ درحقیقت قرض کا معاملہ ہے اور اس کا مقصد قرض دیکر مالی معاملات میں ایک دوسرے  کی مدد و تعاون کرنا ہے اس لئے مذکورہ کمیٹی درجہ ذیل  شرائط کے ساتھ جائز ہے؛
(1)کمیٹی میں حصہ لینے والے ممبران  کیلئے یہ شرط نہ لگائی جائے کہ وہ  کمیٹی کیلئے  دی ہوئی اپنی رقم  واپس نہیں لے سکتے بلکہ ہر ممبر کواس بات کا پورا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی مرحلہ پر کمیٹی سے دستبردار ہوکر اپنی اصلی رقم واپس لے سکتا ہے کیونکہ کمیٹی میں دی ہوئی رقم کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا اور قرض دینے کے معاملہ میں کسی کو مجبور کرنا شرعا ً جائز نہیں ۔ 
(2)کمیٹی کے تمام ممبران ایک جتنی رقم جمع کرائیں ،کسی ممبر سے دوسرے کی نسبت کم یا زیادہ رقم نہ لی جائے اور ایسے ہی قرعہ اندازی میں نام آنے والے تمام ممبران کو ایک ہی جتنی رقم دی جائے یہ نہ ہو کہ رقم لینے یا دینے میں بعض  ممبران کے ساتھ امتیازی معاملہ کیا جائے۔
(3)تمام ممبرانِ کمیٹی آخر تک شریک رہیں،یہ نہ ہو کہ کوئی ممبر اپنا نام نکلنے پر رقم لیکر باقی قسطوں سے  بری ہوجائے،تاہم جو ممبر اپنی باری پر رقم لے چکا  ہو اور پھر بعد میں کسی مجبوری کی وجہ سے متعین مدت سے پہلے کمیٹی سے دستبردار ہونا چاہتا ہو تو اس صورت میں  کمیٹی سے اپنی رقم کے علاوہ جتنی زائد رقم لی گئی ہو اس زائد رقم کا لوٹانا  لازم ہوگا۔
(4)بولی لگا کر کمیٹی کی رقم فروخت نہ کی جائے بلکہ قرعہ اندازی میں جس ممبر کا نام نکل آئے اس کو بغیر کسی عوض کے مکمل رقم حوالہ کی جائے۔
بصورت مسؤلہ جس کمیٹی میں مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھا جائے وہ کمیٹی بھی جائز ہے اور اس کمیٹی میں تمام ممبران کی رضامندی سے سربراہِ کمیٹی کو بغیر قرعہ اندازی کے سب سے پہلے رقم دینا بھی جائز ہے لیکن جس کمیٹی میں مذکورہ بالا شرائط ملحوظ نہ ہوں  وہ کمیٹی سرے سے جائز ہی نہیں چاہے کوئی پہلے رقم لے چاہے کوئی آخر میں کیونکہ وہ کمیٹی سود اور جوئے کے زمرے میں آتی ہے جو ناجائز اور حرام ہے ۔ 

في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
وفصل صاحب التنوير مسألة القرض لكثرة الاحتياج إليها في المعاملات فقال القرض هو عقد 
مخصوص يرد على دفع مال مثلي لرد مثله ...الخ
(كتاب البيوع ،باب المرابحة والتولية، 5/271 ، دار إحياء التراث العربي)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
والأجل لا يلزم في القرض - سواء كان مشروطا في العقد أو متأخرا عنه - بخلاف سائر الديون، والفرق من وجهين: أحدهما - أن القرض تبرع.ألا يرى أنه لا يقابله عوض للحال.وكذا لا يملكه من لا يملك التبرع؛ فلو لزم فيه الأجل؛ لم يبق تبرعا؛ فيتغير المشروط، بخلاف الديون -، والثاني- أن القرض يسلك به مسلك العارية، والأجل لا يلزم في العواري
(كتاب القرض،فصل في شرائط ركن القرض،7/ 396 ، دار الكتب العلمية)
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
(القرض) فلا يلزم تأجيله (قوله: فلا يلزم تأجيله) أي أنه يصح تأجيله مع كونه غير لازم فللمقرض الرجوع عنه، لكن قال في الهداية: فإن تأجيله لا يصح؛ لأنه إعارة وصلة في الابتداء حتى يصح بلفظة الإعارة ولا يملكه من لا يملك التبرع كالوصي والصبي، ومعاوضة في الانتهاء فعلى اعتبار الابتداء لا يلزم التأجيل فيه كما في الإعارة إذ لا جبر في التبرع، وعلى اعتبار الانتهاء لا يصح؛ لأنه يصير بيع الدراهم بالدراهم نسيئة وهو ربا اهـ.
(كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،5/ 158، دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب