نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔مجھے ایک مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
مختلف ڈگری ہولڈرز جب عرب ممالک میں کام کرنا چاہتے ہیں تو عرب ممالک میں ان سے باقاعدہ ایک ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور اس ٹیسٹ میں وہی ڈگری ہولڈرز پیش ہوسکتے ہیں جن کے دستاویزات(ڈگری وغیرہ ) کی جانچ پڑتال ڈیٹا فلو (یہ دستاویزات کی تصدیق کا ایک خاص ادارہ ہے) کے ذریعے سے ہوچکی ہوتی ہے ورنہ وہ ٹیسٹ کے اہل ہی نہیں سمجھتے۔ اب ڈیٹا فلو پر اپنے دستاویزات کی جانچ پڑتال ہر کوئی خود سے نہیں کرا سکتا، بلکہ کسی ماہر شخص کے ذریعے کروایا جاتا ہے، اور وہ اس خدمت کے عوض الگ سے پیسے لیتا ہے کیونکہ اس پر اس کا وقت اور محنت لگتی ہے۔ یہ عمل تقریباً 2 سے 3 مہینے میں وقتاً فوقتاً کرنا پڑتا ہے، اور مجھے یہ سب طریقہ کار آتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کے پیسے لینا میرے لیے جائز ہے؟
دوسری بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں تقریباً 2 سے 3 مرتبہ رقم جمع کرنی پڑتی ہے اور یہ رقم غیر ملکی کرنسی (مثلاً سعودی ریال یا برطانوی پاؤنڈ) میں ادا کی جاتی ہے۔ اگر ہم پاکستان سے یہ رقم جمع کریں تو اس پر اضافی ٹیکس لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر اصل رقم 50 ہزار روپے ہے تو ہم سے تقریباً 55 ہزار روپے کٹوتی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر یہی رقم اسی ملک کی کرنسی میں ادا کی جائے تو اس پر کوئی ٹیکس نہیں آتا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں پاکستان سے 55 ہزار روپے لے کر دوسرے ملک میں موجود اپنے کسی دوست کے ذریعے یہ کام 50 ہزار روپے میں کروا لوں تو جو 5 ہزار روپے بچ جائیں، کیا وہ میرے لیے لینا جائز ہے یا ناجائز؟
اگر میں صارفین سے اس طرح بات کروں کہ آپ کے اس عمل پر 55 ہزار خرچہ آتا ہے ، اور میری اپنی فیس 10 یا 15 ہزار جتنے پر وہ راضی ہو جائے اتنے میں الگ لونگا تا کیا اس طرح سے فیس اور وہ پانج ہزار روپے میرے لئے لینا جائز ہے؟
بصورت مسؤلہ چونکہ مذکورہ کام میں آپ کی محنت شامل ہے اور آپ کا وقت بھی اس میں ٖصرف ہوتا ہے لہذا آپ کیلئے اس کا عوض لینا جائز ہے لیکن یہ عوض ابتداء ہی میں متعین کرنا ضروری ہے بصورت دیگر یہ معاملہ درست نہیں ہوگا ،البتہ دوسری کرنسی میں ادائیگی کرنے سے 5 ہزار روپے بچنے کی صورت میں وہ رقم خود رکھنا جائز نہیں بلکہ وہ رقم صارف کی ہوتی ہے اور اس کو یہ رقم واپس کرنا لازم ہے،تاہم اگر آپ شروع سے صارف سے یہ بات نہ کریں کہ آپ کے عمل پر 55 ہزار روپے خرچہ آتا ہے بلکہ اس کو اس پورے عمل کا ایک متعین عوض بتادیں ،مثلا ً اس سے اس طرح بات کریں کہ آپ کے اس عمل پر میری فیس سمیت کل 65 یا 70 ہزار خرچہ آئے گا تو اس صورت میں آپ کیلئے یہ 5 ہزار روپے رکھنا بھی جائز ہے۔
و في شعب الايمان:
عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " يطبع المؤمن على كل خلق ليس الخيانة، والكذب ".
(حفظ اللسان عما لا يحتاج اليه،6/ 454 ، مكتبة الرشد للنشر والتوزيع)
في الهندية:
وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما
يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. ومنها بيان محل المنفعة . . . . (وأما بيان) (أنواعها) فنقول إنها نوعان: نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط.
(كتاب الإجارة، الباب الأول تفسير الإجارة،4 / 411 ، دار الفكر)
و في الهداية:
"الإجارة: عقد على المنافع بعوض". . . . "ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة" لما روينا، ولأن الجهالة في المعقود عليه وبدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع " . . . . "وتارة تصير معلومة بنفسه كمن استأجر رجلا على صبغ ثوبه أو خياطته أو استأجر دابة؛ ليحمل عليها مقدارا معلوما أو يركبها مسافة سماها"وليس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب.
(كتاب الاجارات ،3/ 230 ، دار احياء التراث العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔