سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-222 Fatwa no: 1447-222

کسی جگہ کو وطن اقامت بنانے کیلئے وہاں پندرہ دن قیام کی نیت کرنا ضروری ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ایک مدرسہ میں پڑھاتا ہوں ۔میرے وطن اصلی اور مدرسہ کے درمیان فاصلہ مسافت ِ شرعی ہے۔اب مدرسہ جس علاقہ میں ہے ادھر میں نے ابھی تک نہ ہی پندرہ دن اکٹھے گزارے ہیں اور نہ ہی پندرہ دن گزارنے کی  نیت کی ہے بلکہ ہر جمعرات کو یا دس دنوں بعد میں گھر جاتا ہوں۔اب اگر میں کبھی اپنے گھر یعنی اپنے وطن اصلی سے پشاور جاتا ہوں جو کہ میرے وطن اصلی سے مسافتِ شرعی پر ہے اور واپسی پر گھر کی بجائے مدرسہ میں گاڑی سے اتر کر وہیں ایک دو دن کیلئے ٹہرتا ہوں تو اس صورت میں میں قصر کروں گا یا اتمام کروں گا؟برائے مہربانی  رہنمائی فرمائیں؟

جواب :

مسافتِ شرعی کی نیت سے نکلنے والے مسافر کاکسی جگہ مقیم بننے کیلئے اس جگہ میں مکمل پندرہ دن اقامت کی نیت کرنا ضروری ہے بصورت دیگر   وہ مسافر ہی رہے گا ۔
بصورت مسولہ آپ جس مدرسہ میں مدرس ہیں وہ مدرسہ آپ کے وطن اصلی سے مسافتِ شرعی پر واقع ہے اور آپ نے اس مدرسہ میں ابھی تک پندرہ دن قیام کی نیت نہیں کی اس لئے وہ جگہ آپ کا وطن اقامت نہیں ہے  اور پشاور سے واپسی پر مدرسہ میں ٹہرنے کی صورت میں آپ  ادھر مسافر ہوں گے اور قصر کریں گے۔
الفتاوى الهندية:
وكذا إذا عاد من سفره إلى مصره لم يتم حتى يدخل العمران ولا يصير مسافرا بالنية حتى يخرج ويصير مقيما بمجرد النية، كذا في محيط السرخسي.
 (كتاب الصلاة ، الباب الخامس عشر، 1/ 139، دار الفكر)
الدر المختار:
(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس: «إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعا والمسافر ركعتين» ، ولذا عدل المصنف عن قولهم قصر لأن الركعتين ليستا قصرا حقيقة عندنا بل هما تمام فرضه والإكمال ليس رخصة في حقه بل إساءة. . . .( (حتى يدخل موضع مقامه) إن سار مدة السفر، وإلا فيتم بمجرد نية العود لعدم استحكام السفر (أو ينوي) ولو في الصلاة إذا لم يخرج وقتها ولم يك لاحقا (إقامة نصف شهر) . . . . . (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر.
(كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر، 2/123، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب