نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اکثر لوگوں سے یہ بات سننے میں ملتی ہے کہ جب بھی خریداری کریں تو ایک ہی جگہ جاکر خریداری نہ کریں بلکہ دو یاتین جگہ معلومات کر کے اور تینوں جگہ ریٹ معلوم کر کے خریداری کیا کریں کیونکہ دو یا تین جگہ معلومات کرنا اور ریٹ معلوم کرنا سنت ہے اور یہ بات تبلیغ میں وقت لگاتے ہوئے بھی سامنے آتی ہے کہ جماعت کا امیر یا باقی ساتھی کہتے رہتے ہیں کہ جب سامان لینے جائیں تو ایک ہی دکان جاکر خریداری نہ کریں بلکہ دو تین دکانوں میں معلومات کر کے پھر جہاں ریٹ کم ہو وہیں سے سامان خریدیں۔اب اس حوالے سے آپ رہمنائی فرمائیں کہ کیا یہ واقعی سنت ہے کہ خریداری کرتے ہوئے دو یا تین جگہوں سے ریٹ معلوم کیا جائے یا نہیں ؟اس حوالے سے کوئی حدیث ہو تو برائے مہربانی اس کا بھی حوالہ دیں۔جزاکم اللہ خیرا ً
ہماری معلومات کے مطابق خریداری کرتے ہوئے دو یا تین جگہ سے ریٹ معلوم کرنے کے حوالے سے کوئی حدیث ثابت نہیں البتہ ریٹ میں بھاؤ تاؤ اور کمی کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہےاس لئے خریداری میں نقصان سے بچنے اور مناسب قیمت پر خریداری کیلئے دو تین جگہ سے معلومات لینا فی نفسہ جائز تو ہے لیکن اس کو سنت یا مستحب یا شرعی حکم کہنا اور سمجھنا درست نہیں ۔
صحيح مسلم:
عن عامر، حدثني جابر بن عبد الله، أنه كان يسير على جمل له قد أعيا، فأراد أن يسيبه، قال: فلحقني النبي صلى الله عليه وسلم فدعا لي، وضربه، فسار سيرا لم يسر مثله، قال: «بعنيه بوقية»، قلت: لا، ثم قال: «بعنيه»، فبعته بوقية، واستثنيت عليه حملانه إلى أهلي، فلما بلغت أتيته بالجمل، فنقدني ثمنه، ثم رجعت، فأرسل في أثري، فقال: «أتراني ماكستك لآخذ جملك، خذ جملك، ودراهمك فهو لك»،
(كتاب المساقاة ، باب بيع البعير واستثناء ركوبه، 3/ 1221، دار إحياء التراث العربي)
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج:
واعلم أن في حديث جابر هذا فوائد كثيرة إحداها هذه المعجزة الظاهرة لرسول الله صلى الله عليه وسلم في انبعاث جمل جابر وإسراعه بعد إعيائه الثانية جواز طلب البيع ممن لم يعرض سلعته للبيع الثالثة جواز المماكسة في البيع .... الخ
(كتاب البيوع ، باب بيع البعير واستثناء ركوبه، 11/ 35، دار إحياء التراث العربي)
مسند الإمام أحمد بن حنبل:
عن جابر بن عبد الله، قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة ذات الرقاع مرتحلا على جمل لي ضعيف، فلما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلت الرفاق تمضي، وجعلت أتخلف حتى أدركني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " ما لك يا جابر؟ " قال: قلت: يا رسول الله، أبطأ بي جملي هذا. قال: " فأنخه "، وأناخ رسول الله صلى الله عليه وسلم.... فقال: " أتبيعني جملك هذا يا جابر؟ " قال: قلت: يا رسول الله، بل أهبه لك. قال: " لا، ولكن بعنيه " قال: قلت: فسمني به. قال: " قد أخذته بدرهم "، قال: قلت: لا. إذا يغبنني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " فبدرهمين؟ " قال: قلت: لا. قال: فلم يزل يرفع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بلغ الأوقية، قال: قلت: فقد رضيت، قال: " قد رضيت؟"، قلت: نعم، قال نعم قلت: هو لك، قال: " قد أخذته "،.
(مسند جابر بن عبد الله رضي الله عنه ، 23/ 271، مؤسسة الرسالة)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔