سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-224 Fatwa no: 1447-224

لڑکی کا اپنے نان نفقہ کی ذمہ داری خود اٹھانے کی شرط پر نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے عدالت کے ذریعے مجھ سے طلاق لے لی کیونکہ میں اس کے معیار کے مطابق اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اب وہ چاہتی ہے کہ میں اس سے اس شرط پر دوبارہ شادی کروں کہ وہ مالی ذمہ داریاں خود سنبھالے گی۔ میں پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا اسلام میں عورت سے اس شرط پر نکاح کرنا جائز ہے کہ وہ تمام اخراجات برداشت کرے گی ؟
جواب :

شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق بیوی کا نان نفقہ شوہر پر اس کی استطاعت کے مطابق  واجب ہے چاہے بیوی مالدار ہو یا تنگ دست اور بیوی کا اپنے نان نفقہ کی ذمہ داری خود اٹھانے سے شوہر کے ذمہ سے بیوی کا نفقہ کلی طور پرساقط نہیں ہوتابلکہ بیوی کسی بھی وقت اپنے نان نفقہ کا مطالبہ کرنی کی شرعا ً مجاز ہے۔
بصورت مسؤلہ چونکہ شریعت نے بیوی پر اپنے نان نفقہ کی ذمہ داری نہیں ڈالی اس لئے عقد ِ نکاح میں مذکورہ شرط نہیں لگانی چاہئے لیکن اگر دوران ِ عقدیہ شرط لگائی بھی جائے تب بھی اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں رہتی کیونکہ شرطِ فاسد ہونے کی وجہ سے یہ شرط خود باطل ہوجاتی ہے اور نکاح منعقد ہوجاتا ہے بشرطیکہ عقدِ نکاح کے صحیح ہونے کی دیگر شرائط پائی جائیں۔ 
قال تبارك وتعالىٰ:
وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 233)
سنن أبي داود:
عن سعيد بن حكيم، عن أبيهعن جده معاوية القشيري قال: أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: فقلت: ما تقول في نسائنا؟ قال: "أطعموهن مما تأكلون، واكسوهن مما يكتسون، ولا تضربوهن، ولا تقبحوهن".
(أول كتاب النكاح ، باب في حق المرأة على زوجها، 3/ 478، دار الرسالة العالمية)
الفتاوى الهندية:
تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة 
أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة . . . . .الخ
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، 1/ 544 ، دار الفكر)
الدر المختار:
(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط
 فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط بخلاف ما لو علقه بالشرط.
(كتاب النكاح ، 3/ 53 ، دار الفکر)
العناية شرح الهداية:
قال (وإذا تزوجها على ألف على أن لا يخرجها من البلدة) قد تقدم أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فإذا تزوج امرأة على ألف على أن لا يخرجها من البلدة (أو على أن لا يتزوج عليها) أو على أن يطلق فلانة فالنكاح صحيح وإن كان شرط عدم التزوج وعدم المسافرة وطلاق الضرة فاسد لأن فيه المنع عن الأمر المشروع . . . . .الخ
(كتاب النكاح ،باب المهر، 3/ 350 ، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب