نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرےشوہر بیرون ملک ہوتے ہیں،چند دنوں پہلے میرے بھائی کی شادی تھی جس کے لئے میں نے اپنے والد کے گھر جانا تھا تو میں نے اپنی ساس کو کہا کہ میں نے شادی پہ جانا ہے۔میری ساس میرے شوہر سے فون پر میرے حوالے سے اجازت لنیے لگی کہ وہ گھر چلی جائے جس پر میرے شوہر نے جواب دیا کہ اگر وہ گھر چلی گئی تو مجھ پر حرام ہے۔چونکہ سپیکر آن تھا اس لئے میں نے یہ بات سنی ۔اس کے بعد میں چند گھنٹے ادھر ہی رکی روتی رہی کہ انہوں نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چند گھنٹوں بعد پھر میں اپنے والد کے گھر آئی۔اب میرے شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ آئندہ اگر یہ گئی تو مجھ پر حرام ہے جبکہ میں نے خود سنا ہے کہ اس وقت انہوں نے آئندہ کی کوئی بات نہیں کی تھی بلکہ صرف اتنا کہا تھا کہ اگر یہ گئی تو مجھ پر حرام ہے۔اب اس حوالہ سے میری رہنمائی فرمائیں کہ میرا نکاح برقرار ہے یا مجھے طلاق ہوچکی ہے؟میں اسی دن جو اپنے والد کے گھر آئی ہوں تو ابھی تک واپس نہیں گئی ہوں۔
شوہر کا بیان:
میں اپنی والدہ سے فون پہ بات کر رہا تھا تو میری والدہ نے مجھ سے میری بیوی کے بارے میں کہا کہ وہ گھر جانا چاہتی ہے اور میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ میری یا میری والدہ کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں جانا۔میری بیوی چونکہ دو ہفتوں میں دو بار اپنے والد کے گھر جاچکی تھی اور اب اس مرتبہ مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے بھائی کی شادی ہے جس پہ اس کو جانا تھا اور جب میری بیوی اپنے والد کے گھر چلی جائے تو والدہ کو گھر کے کام کرنے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو کافی مشکلات ہوتی ہیں اس وجہ سے میں نے کہا کہ وہ تو دو ہفتوں میں دو مرتبہ جاچکی ہے اس لئے آئندہ اگر وہ میری اجازت کے بغیر جائے گی تو وہ مجھ پر حرام ہے لیکن چونکہ سگنل کا مسئلہ تھا اس لئے شاید ان کو آئندہ کا لفظ سنائی نہیں دیا۔فون بند کرنے کے بعد چونکہ میں اپنے کام میں لگ گیا اس لئے تھوڑے وقت بعد جب کافی دیر ہوچکی تھی تو میرے دل میں یہ بات تھی کہ میں جیسے ہی کام سے فارغ ہوجاؤں گا میں بیوی کو فون کر کہ کہوں گا کہ چلو ٹھیک ہے تمہیں اجازت ہے تم چلی جاو لیکن بعد میں مجھے میرے ایک ساتھی سے پتہ چلا کہ میری بیوی نے سب لوگوں کو بتایا ہوا ہے کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے اور طرح طرح کی باتیں اب لوگ کریں گے تو پھر میں نے بعد میں فون نہیں کیا ۔اب آپ لوگ دیکھیں کہ اس آئندہ کے لفظ سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟
تنقیح:یہ جو آئندہ کا لفظ میں نے کہا تھا اس وقت اس طرح کچھ نہیں سوچا تھا کہ آئندہ کب البتہ ذہن میں یہ بات تھی کہ دو مرتبہ تو ان دو ہفتوں میں جاچکی ہے اب آئندہ جب بھی اگر میری اجازت کے بغیر جائے گی اور اس وقت جو فون پر بات ہورہی تھی تو اس وقت میری اجازت اس کو جانے کیلئے نہیں تھی ۔
حرام کا لفظ طلاق کے باب میں عرفا ًصریح ہے اور اس سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔
بصورت مسؤلہ آپ نے اپنی بیوی کی طلاق کو اس کے بغیر اجازت کے گھر سے جانے کی شرط پر معلق کیا تھا اور آپ کی بیوی کے گھر سے بغیر اجازت جانے سے وہ شرط پوری ہوچکی ہے لہذا آپ کی بیوی کو ایک طلاقِ بائن ہوچکی ہے،عدت مکمل ہوجانے کے بعد نکاح کے معاملہ میں وہ آزاد ہوگی جس سے اور جہاں چاہے دوسرا نکاح کرسکتی ہیں البتہ اگر آپ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس صورت میں عدت کے اندر یا عدت گزرنے کے بعد کسی بھی وقت گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑے گا اور اس نکاح کے بعد آپ کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔
في الدر المختار:
ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف. . . . . الخ
و تحته في الشامية:
(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية
(كتاب الطلاق ،باب صريح الطلاق،3/ 252 ، دار الفكر)
و في رد المحتار ايضا:
(قوله حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع، أريد بها هنا الوصف ومعناه الممنوع فيحمل ما سبق، وسيأتي وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف، لا فرق في ذلك بين . . . . . وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال، ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع، ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ
(كتاب الطلاق ،باب الكنايات،3/ 298 ، دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔