نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج سے تقریبا 6 مہینے پہلے کی بات ہے کہ گھریلوں باتوں کی وجہ سے میرا اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑا ہوا اور اس دوران میرے شوہر نے مجھے کہا کہ اب تم میری طرف سے فارغ ہو جو دل میں آئے تم وہ کرو اور جہاں مرضی ہو آؤ جاؤ ،میں تمہیں نہیں پوچھوں گا کہ تم کہاں گئی تھی اور کہاں سے آرہی ہو۔اس کے بعد ہماری بول چال بند رہی اور اس دوران وہ مجھے جو تھوڑا بہت خرچہ دے دیتے میں وہ لے لیتی اور اس طرح وقت گزرتا رہا اور پھر دو تین ماہ گزرنے کے بعد ہمارا دوبارہ جھگڑا ہوا۔میں نے ان سے کہا کہ میں عید ملنے جارہی ہوں جس پر انہوں نے دوبارہ وہی الفاظ دہرائیں یعنی تم میری طرف سے فارغ ہوجہاں مرضی ہو جاو۔عید گزرنے کے بعد سے لیکر اب تک وہ مجھے 2 یا 3 ہزار روپے خرچہ دے رہے ہیں اور بس یہی کہہ دیتے ہیں کہ کام نہیں ہے اس لئے خرچہ اتنا ہی دے رہا ہوں جس پر میں بھی چپ ہوجاتی ہوں ۔اب آپ حضرات رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں کہیں ہماری طلاق تو نہیں ہوئی ؟
طلاق کے باب میں لفظ"فارغ " کا شمار ان الفاظ کنائی میں ہوتا ہے جن سے بلا نیتِ طلاق کے بھی طلاق ہوجاتی ہے بشرطیکہ قرینہ ِ طلاق موجود ہو مثلاً غصہ کی حالت میں ہو یا طلاق کا مذاکرہ چل رہا ہو۔
بصورت صحت سوال چونکہ آپ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ " اب تم میری طرف سے فارغ ہو "عام حالات میں نہیں کہے بلکہ جھگڑے اور غصے کے دوران کہے ہیں اس لئے پہلی بار جب انہوں نے آپ کو مذکورہ الفاظ کہے ہیں اس وقت سے آپ کو ایک طلاق بائن ہوچکی تھی اور دو تین ماہ بعد جو انہوں نے دوبارہ آپ کو طلاق دی وہ طلاق لغو تھی اس لئے آپ ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوچکی ہے اور اس ایک طلاق کے بعد آپ دونوں پر لازم تھا کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے لیکن ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے آپ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرچکے ہیں اس لئے جتنا جلد ہوسکے ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور اپنے اس گناہِ کبیرہ پر توبہ و استغفار کریں۔
سوال سے واضح ہے کہ آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے کیونکہ آپ کو پہلی طلاق ہوئے تقریبا ً 6 ماہ ہوچکے ہیں اس لئے آپ ابھی دوسرے نکاح کے معاملہ میں آزاد ہیں جدھر اور جس کے ساتھ چاہیں دوسرا نکاح کرسکتی ہیں اور اگر دوبارہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ رہنا چاہیں تو اس صورت میں نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا پڑے گا۔
في الدر المختار و حاشية ابن عابدين:
" (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي ...(تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما، مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية، ثم في كل موضع تشترط النية فلو السؤال بهل يقع بقول نعم إن نويت، ولو بكم يقع بقول واحدة ولا يتعرض لاشتراط النية بزازية فليحفظ.
(قوله فالحالات ثلاث) لما كان الغضب يقابله الرضا فهو مفهوم منه صح التفريع... (قوله: والكنايات ثلاثة إلخ) حاصله أنها كلها تصلح للجواب: أي إجابته لها في سؤالها الطلاق منه، لكن منها قسم يحتمل الرد أيضا: أي عدم إجابة سؤالها، كأنه قال لها لا تطلبي الطلاق فإني لا أفعله وقسم يحتمل السب والشتم لها دون الرد، وقسم لا يحتمل الرد ولا السب بل يتمحض للجواب كما يعلم من القهستاني وابن الكمال، ولذا عبر بلفظ يحتمل وفي أبي السعود عن الحموي أن الاحتمال إنما يكون بين شيئين يصدق بهما اللفظ الواحد معا، ومن ثم لا يقال يحتمل كذا أو كذا كما نبه عليه العصام في شرح التلخيص من بحث المسند إليه."
( کتاب الطلاق، باب الکنایات،3/298-296 ، دار الفكر)
و في النهر الفائق شرح كنز الدقائق:
(لا) يلحق البائن (البائن) أراد به ما كان بلفظ الكناية عرف ذلك من استدلالهم الذي أطبقوا عليه كذا في (الفتح) وفي (تحرير الكرماني) لفظ الكنايات التي تقتضي البينونة لا يقع على المبانة...الخ
(كتاب الطلاق ، فصل في الطلاق قبل الدخول ، 2/ 363 ، دار الكتب العلمية )
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔