سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-227 Fatwa no: 1447-227

لنڈے کی اشیاء میں نکلنے والے سامان کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص نے بیرونِ ملک سے کباڑ کے پرانے بوٹ، چپل وغیرہ منگوائے اور اپنی دکان میں ایک مزدور رکھا ہوا ہے جو ان کی مرمت (سیلائی وغیرہ) کرتا ہے۔ مرمت کے دوران ایک بوٹ کے تلوے سے مزدور کو کچھ دینار یا قیمتی غیر ملکی کرنسی ملی، جسے اس نے بینک میں پاکستانی کرنسی میں تبدیل کروایا، اور اس کی مالیت تقریباً سولہ ہزار(16000) روپے بنی۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً یہ رقم کس کی ملکیت شمار ہوگی ؟کیا دکان کے مالک کی، جس نے بوٹ منگوائے تھے؟یا مزدور کی، جسے مرمت کے دوران یہ رقم ملی؟بینوا توجروا 

جواب :

کسی بھی چیز کی خریداری چاہے لنڈے و کباڑ سے ہو چاہے نئے اشیاء کی کسی دکان وغیرہ سے ہوبہر دو صورت  وہی متعین چیز خریدی جاتی ہے نہ کہ اس میں موجود اشیاء خریدی جاتی ہیں اس لئے کہیں سے کوئی بھی چیز خریدنے کی صورت میں خریدار صرف اس چیز کا مالک بنتا ہے جبکہ اس میں ملنے والی اشیاء لقطہ شمار ہوں گی۔
بصورت مسولہ مذکورہ رقم نہ مالکِ دکان کی ملکیت ہے اور نہ مزدور کی بلکہ یہ رقم لقطہ ہے اور چونکہ یہ دینار کی صورت میں تھا جو مسلم ملک کی کرنسی ہے اس لئے غالب گمان یہی ہے کہ یہ کسی مسلمان کا لقطہ ہے اس لئے اگر اصل مالک تک پہنچانا ممکن ہو تو اس تک پہنچایا جائے ورنہ اصل مالك کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور اگر دکان کا مزدور مستحق زکوۃ ہوتو وہ بھی اس کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔
الفتاوى الهندية:
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء،كذا في خزانة المفتين،ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين. . . .  الخ
(كتاب اللقطة ، 2/ 289، دار الفكر)
الدر المختار:
(وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها وفي الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها
تفسد إن بقيت كالأطعمة) والثمار(كانت أمانة) لم تضمن بلا تعد. . . .(فينتفع) الرافع (بها
لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير . . . . . (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة 
 فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه) والظاهر أنه ليس للوصي والأب إجازتها نهر.
(كتاب اللقطة ، 4/278، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
إذا أخذ اللقطة فإنه يعرفها لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «عرفها حولا» حين سئل عن اللقطة. . . . . وإذا تصدق بها على الفقراء فإذا جاء صاحبها كان له الخيار إن شاء أمضى الصدقة وله ثوابها، وإن شاء ضمن الملتقط أو الفقير إن وجده . . . .  الخ
(كتاب اللقطة ،فصل في بيان ما يصنع باللقطة ، 6/202 ، دار الكتب العلمية)

 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب