سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-228 Fatwa no: 1447-228

لے پالك كے حقیقی والدین کا اپنے بچے کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 
بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کو اپنی بیٹی دے دی اس لیے کہ چھوٹے بھائی کی اولاد نہیں تھی لیکن بعد میں چھوٹے بھائی کی اولاد ہو گئی جن میں اس کا ایک بیٹا  بھی ہے،اب بڑا بھائی اپنی بیٹی واپس لینا چاہتا اس لیے کہ چھوٹے بھائی کی اپنی اولاد ہو چکی ہے اب بڑے بھائی کو پردہ وغیرہ کے حوالےسے کچھ تحفظات ہیں اس لیے وہ بیٹی واپس لینا چاہتا ہے مگر چھوٹا بھائی بیٹی واپس نہیں کر رہا اور دونوں بھائیوں میں جھگڑا چل رہا ہے فیصلہ شریعتِ محمدی پر کرنا ہے رہنمائی فرما دیں جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

جواب :

شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق کسی دوسرے کے بچے یا بچی کو گود لینا جائز ہے لیکن گود لینے سے وہ گود لینے والے کی حقیقی اولاد نہیں بنتی  بلکہ وہ بدستور اپنے حقیقی والدین ہی کی اولاد رہتی ہے اور میراث و دیگر معاملات میں   لے پالک کو اپنے حقیقی والدین ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا،البتہ گود لینے سے لے پالک کی کفالت، ان کی تعلیم و تربیت  اور ان کی پرورش گود لینے والے کے ذمہ ہوتی ہے ،تاہم لے پالک کے حقیقی والدین کو کسی بھی وقت اپنی اولاد واپس لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
بصورت مسؤلہ بڑے  بھائی کو اپنی  بیٹی  واپس لینا کا پورا حق حاصل ہے اور چونکہ اب اللہ رب العزت نے چھوٹے بھائی کو بھی اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اس لئے چھوٹے بھائی پر لازم ہے کہ بڑے بھائی کے اس احسان کا شکریہ ادا کرے اور بغیر کسی جھگڑے کے اس کو اس کی حقیقی بیٹی واپس کرے۔
قال تبارك و تعالى:
 ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمً    (الأحزاب: 5)
و في التفسير المظهري:
فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الاية ردّ لما كانت العرب تقول من ان اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها ..... الخ
(سورة الاحزاب ، 7/ 284 ، مكتبة الرشيدية)
و في أحكام القرآن للجصاص:
{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} فِيهِ إبَاحَةُ إطْلَاقِ اسْمِ الْأُخُوَّةِ وَحَظْرُ إطْلَاقِ اسْمِ الْأُبُوَّةِ مِنْ غَيْرِ جِهَةِ النَّسَبِ; وَلِذَلِكَ قَالَ أَصْحَابُنَا فِيمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ: هُوَ أَخِي: لَمْ يُعْتَقْ إذَا قَالَ: لَمْ أُرِدْ بِهِ الْأُخُوَّةَ مِنْ النَّسَبِ; لِأَنَّ ذَلِكَ يُطْلَقُ فِي الدِّينِ، وَلَوْ قَالَ: هُوَ ابْنِي عَتَقَ; لِأَنَّ إطْلَاقَهُ مَمْنُوعٌ إلَّا مِنْ جِهَةِ النَّسَبِ. وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ ادَّعَى إلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
(سورة النور ، في إباء أحد الزوجين اللعان ، 3/ 464 ، دار الكتب العلمية بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب