سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-229 Fatwa no: 1447-229

متبنی کو کاغذات میں حقیقی بیٹا لکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری شادی کو کافی عرصہ گزرچکا تھا لیکن ہماری  کوئی اولاد نہیں تھی۔پھر میرے بھائی نے مجھے اپنا ایک بیٹا دیا کہ تمہاری چونکہ اولاد نہیں ہے تو تم اسی کو اپنا بیٹا بناکر اس کی پرورش کرو اور ان کے کہنے پر میں نے اس بچے کی پرورشروع کی ۔اب اس بچے کو لئے ہوئے تقریباً کوئی پانچ سال ہوچکے ہیں  اور اب ہم میاں بیوی کا ارادہ ہے کہ ہم عمرے پہ جائیں اور ساتھ میں بچے کو بھی لے جائیں لیکن اس کے لئے ہمیں اس کا بے فارم اور پھر پاسپورٹ وغیرہ بھی بنانا ہوگا۔چونکہ میرا بھائی وہ بچہ مجھے مکمل طور پر دے چکا ہے یہ کہہ کر کہ تم ہی اس کو اپنا بیٹا بناو اس لئے میرا ارادہ تھا کہ بے فارم اور پاسپورٹ میں اس کو اپنا نام دوں یعنی اپنے حقیقی بیٹے میں اس کا نام لکھوں لیکن میرے ایک دوست نے مجھے کہا کہ اس طرح میرے لئے اس کو اپنا حقیقی بیٹا لکھنا اسلام میں جائز نہیں حالانکہ میں نے اس طرح کی بات پہلی بار سنی ہے۔کیا واقعی میں اس بچے کو اپنا نام نہیں دے سکتا اور اس کو  کاغذات میں اپنا حقیقی بیٹا نہیں لکھ سکتا ؟اسلام اس حوالے سے کیا کہتا ہے اس کے بارے میں برائے کرام جواب عنایت فرمائیں۔

جواب :

زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ لے پالک کو حقیقی اولاد کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن اسلام نے اس رواج کو ختم کر کے یہ بات واضح کردی کہ گود لینے والے کو لے پالک کی تعلیم و تربیت اور اس کی پرورش کا توحق حاصل ہوتا ہے اور اس پر وہ عند اللہ ماجور بھی ہوگا لیکن محض گود لینے اور اس کی تعلیم و تربیت کرنے سے وہ حقیقی اولاد نہیں بنتی اگرچہ لے پالک کے حقیقی والدین  گود لینے والے کو اس بات کی اجازت ہی کیوں نہ دے دیں کہ وہ اس کو اپنی حقیقی اولاد بنالیں،  لہذا بصورت مسولہ آپ کیلئے پاسپورٹ ، بے فارم اور باقی کاغذات میں اپنے گود لئے بچے کو اپنا حقیقی بیٹا لکھنا شرعا جائز نہیں ،باپ کے خانے میں اس کے حقیقی باپ کا نام لکھنا ضروری ہے البتہ آپ سرپرست کے خانے میں اپنا لکھ سکتے ہیں کیونکہ سرپرست کے خانے میں اپنا نام لکھنے سے بھی آپ اس کو اپنے ساتھ عمرے وغیرہ پہ لے جاسکتے ہیں۔
قال تبارك و تعالى:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.        (الاحزاب: 5)
تفسير روح المعانى:
ویعلم من الآیة أنه لا یجوز انتساب شخص إلی غیر أبیه وعد ذلک بعضهم من الکبائر لما أخرج الشيخان و أبو داؤد عن سعد بن أبي وقاص أن النبي قال:" من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام .
(سورة الاحزاب ، 21/ 200، مکتبة رشيدية)
صحيح البخاري :
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»
(كتاب الفرائض ،باب من ادعى إلى غير أبيه ، 8/ 156، دار طوق النجاة)
سنن أبي داود:
ن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة إلى يوم القيامة"
(أول كتاب الأدب ، باب في الرجل ينتمي إلى غير مواليه، 7/ 437، دار الرسالة العالمية)
مجلة مجمع الفقه الإسلامي:
حرم الإسلام الانتساب لغير الوالدين تحريمًا قاطعًا في الكتاب والسنة، وانعقد على ذلك الإجماع؛
- فمن الكتاب العزيز: {ادْعُوهُمْ لِآَبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب 5] .
- ومن السنة المشرفة: ((من انتسب إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله له صرفًا ولا عدلًا)) .
- وانعقد على ذلك الإجماع.
فقد حرم الإسلام التبني بنص القرآن الكريم، وأن ينتسب الإنسان لأحد غير أبيه، اللهم إلا أن يكون انتسابًا مقيدًا بعلم أو بسلوك.
(العدد الثاني عشر،حقوق الأطفال والمسنين ، 2/ 1818، غير موافق للمطبوع)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب