نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری شادی جون 2020 میں فاطمہ بی بی بنت خالد خان سے ہوئی،شادی کے دو سال بعد ہم دونوں میاں بیوی میں حالات کشیدہ ہوئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے پتہ چلا کہ میری بیوی کا کسی غیر مرد کے ساتھ موبائل پر رابطہ رہتا ہے ،یہ بات میں نے اپنی بیوی کی بڑی بہن کو جاکر بتائی جس پر اس کی بہن نے بھی اس کو سمجھایا کہ ایسا مت کرو اور ہمارے درمیان اس کی بہن نے صلح بھی کی جس کے بعد میں نے اس کو معاف کیا اور ہم دوبارہ ایک ساتھ رہنے لگے،پھر میں نے اپنے گھر والوں سے مشورہ کئے بغیر اپنی بیوی اور سسر کے کہنے پر ایک پلاٹ 3 مرلہ کا خریدا اور یہ پلاٹ خریدنے کیلئے میں نے بیوی کا زیور جو ہم نے مہر میں دیا تھا وہ بیوی کی رضامندی سے بیچا اور میرے سسر نے ایک لاکھ روپے پلاٹ خریدنے کیلئے دئے اور باقی میں نے کچھ اپنے پیسے ساتھ ملائے اور مذکورہ پلاٹ خریدا۔پلاٹ خریدنے کے بعد جب میں نے وہ پلاٹ اپنی بیوی کے نام کیا تو اس کے بعد میری بیوی نے مجھے اس لڑکے کے میسجز اور تصویریں دکھائی جس سے وہ رابطہ کرتی تھی اور اس نے مجھ سے خلع کا مطالبہ کیا جس پر مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کو ایک تھپڑ مارا۔اس کے بعد سسرال والے میری بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے اور ہمیں بتائے بغیر انہوں نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا ۔میرا گاؤں کشمیر ہے لیکن وہاں میں سال میں ایک بار ہی کبھی چلاجاتا ہوں جب کوئی شادی یا فوتگی کا موقع ہوتا ہے اور میرے سسرال والوں کو پتہ ہے کہ میرا موجودہ پتہ پنڈی کا ہے اور میں ادھر پنڈی میں ہی رہتا ہوں اس کے باوجود انہوں نے عدالت میں میرے گاؤں کا پتہ دیا ہے جبکہ ادھر ڈاک وغیرہ ٹھیک طریقہ سے پہنچ بھی نہیں پاتا۔میں اپنی بیوی کو خرچہ بھی دیتا تھا اور مار پیٹ بھی نہیں کی سوائے ایک مرتبہ کے جو اوپر میں ذکر کرچکا ہوں۔جب تک وہ میرے ساتھ گھر میں تھی میں اس کا نان نفقہ کا پورا انتظام کیا کرتا تھا لیکن پچھلے ایک سال سے جب کہ وہ میری اجازت کے بغیر سسرال گئی ہے اور وہاں رہ رہی ہے تو اس ایک سال میں میں نے اس کو کوئی نان نفقہ نہیں دیا۔
اب کورٹ نے ان کو باقاعدہ خلع کی ڈگری جاری کر دی ہے اور ہمیں ڈگری جاری ہونے کا تب پتہ چلا جب یونین کونسل سے ہمیں خبر پہنچی اور جب مجھے خبر ہوئی کہ سسرال والوں نے اس پوری کارروائی میں میرے گاؤں کا پتہ دیا ہے تو پوچھنے پر مجھے بتایا گیا کہ آپ کو عدالت سے کئی بار سمن بھیجا جا چکا ہے لیکن جب گاؤں کے ڈاک خانہ میں پتہ کیا تو وہ کہتے ہیں کہ آپ کے نام پر کوئی ڈاک آیا ہی نہیں۔بہر حال جب ہم نے یونین کونسل سے خلع کے کاغذات نکالے تو پتہ چلا کہ میری بیوی نے خلع کا کیس اس بنیاد پر دائر کیا ہے کہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے اور میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور اس بنیاد پر کورٹ نے ان کو خلع کی ڈگری جاری کی ہےلیکن ابھی یونین کونسل سے ان کو طلاق کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں ہوا کیونکہ عدالتی خلع کے بعد یونین کونسل کوشش کرتی ہے کہ اگر دونوں میں صلح ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر وہ لڑکی کو طلاق کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے اس کے بعد میں نے یونین کونسل میں سٹے لیا کہ ہم اس معاملہ کو اپنے درمیان جرگہ کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں یونین کونسل فی الحال آگے کوئی کارروائی نہ کرے۔
اب عرض یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو نہ طلاق دینا چاہتا ہوں اور نہ ہی میں خلع کیلئے راضی ہوں کیونکہ میں اس کو بسانا چاہتا ہوں لیکن اگر اس کے باوجود وہ خلع پر بضد ہے اور بسنا نہیں چاہتی تو میں اس کو اس شرط پر خلع دوں گا کہ میں نے جو ایک پلاٹ اس کے نام سے خریدا ہے جس میں زیادہ پیسہ میری بیوی کا شامل ہے وہ یہ پلاٹ مکمل طور پر میرے حوالہ کرے۔
اگر وہ مجھ سے خلع لینے کی بجائے عدالت سے خلع لے لے تو شریعت میں اس خلع کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا شرعا ً یہ خلع درست ہوگا اور کیا اس طرح خلع سے میرا اور اس کا رشتہ ختم ہوجائے گا اور وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکے گی؟
خلع دیگر مالی عقود کی طرح ایک مالی عقد ہے جو فریقین(میاں بیوی) کی رضامندی سے تام ہوتا ہے اور اگر فریقین میں سے کوئی ایک بھی راضی نہ ہو تو خلع درست نہیں ہوتا اور جہاں تک مروّجہ عدالتی خلع کا حکم ہے تو اس کو عام طور پر خلع کہا جاتا ہے لیکن وہ درحقیقت فسخ ِ نکاح ہوتا ہے اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق قاضی کو تنسیخ نکاح کا اختیار صرف اس صورت میں حاصل ہوتا ہے کہ یا تو شوہر اپنی بیوی کو ظلماً ناقابل برداشت مارتا پیٹتا ہو،یا اس کا شوہرمتعنت ہو یعنی باوجود قدرت کےبیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہواور بیوی نے بھی اسی تعنّت کو بنیاد بناکر کیس دائر کیا ہو بصورت دیگر عدالتی خلع شرعا معتبر نہیں۔
بصورت مسؤلہ اگر سوال میں مذکورہ تفصیل واقعی درست ہے اور آپ کی طرف سے تعنّت نہیں اور آپ کی بیوی نے واقعی محض اس بنیاد پر خلع کا کیس دائر کیا ہے کہ و ہ آپ سے نفرت کرتی ہے اور آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو اس صورت میں عدالت نے جو خلع کی ڈگری جاری کی ہے شریعت میں اس ڈگری کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور آپ کی بیوی آپ کی نکاح سے نہیں نکلی بلکہ وہ بدستور آپ کی نکاح میں ہے اور وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کے سلسلے میں ابھی تک آزاد نہیں لہذا اگروہ آپ سے طلاق یا خلع لئے بغیر دوسرا نکاح کرے گی تو یہ شرعا ً ناجائز اور حرام ہوگا اور اس طرح کرنے سے وہ پوری زندگی حرام کاری میں ملوث رہے گی۔
خلع میں چونکہ بیوی کی طرف سے خاوند کو کسی مال کی پیشکش ہوتی ہے کہ وہ اس مال کے بدلہ میں بیوی کو چھوڑ دے اس لئے اگر آپ کی بیوی آپ کو خلع کے طور پر مذکورہ پلاٹ کی پیشکش کرتی ہے اور آپ اس پر راضی ہو یا اس کی طرف سے کوئی اور پیشکش ہو جس پر آپ راضی ہو تو اس صورت میں خلع درست ہوگا۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
(قَوْلُهُ: وَشَرْطُهُ كَالطَّلَاقِ)... وَأَمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ كَمَا فِي الْبَدَائِعِ: إذَا كَانَ بِعِوَضٍ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ، فَلَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ، وَلَا يُسْتَحَقُّ الْعِوَضُ بِدُونِ الْقَبُولِ...الخ
(كتاب الطلاق ، باب الخلع ، 3/ 441 ، دار الفكر)
و في الفتاوي الهندية:
الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء
وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.
(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 488 ، دار الفكر)
الحیلہ الناجزہ میں ہے:
جس عورت كا شوہر بیوی کے حقوق سے لاپرواہ ہواس کے شرعی حقوق نان و نفقہ ادا نہ کرتا ہو اس عورت کو ضروری ہے کہ وہ ایسے شوہر سے خلع حاصل کرے لیکن اگر کافی اور حتی الامکان کوشش کے باوجود کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کیونکہ ان کے نزدیک زوجہ متعنت(یعنی مذکورہ بالا قسم کے شوہر سے )کو تفریق کا حق مل سکتا ہے۔
(مظلوم خواتین کی مشکلات کا شرعی حل ، ص293 ، ج 1 ، مکتبہ رضی دیوبند)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔