سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-231 Fatwa no: 1447-231

مزارع كا دوسرے مزارع كو بٹائی پر زمین دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے گاؤں میں زیادہ تر لوگ زمیندار ہیں ،بعض لوگ اپنی زمینیں خود ہی کاشت کرتے ہیں جبکہ بعض لوگ کاشتکاروں کو اپنی زمین بٹائی پر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کو کاشت کریں اور ان کے ساتھ وہ پیداوار کی ایک مقدار مقرر کرلیتے ہیں کہ  پیداوار میں اتنا حصہ میرا ہوگا اور اتنا آپ کا  ،پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بٹائی پر زمین لینے والا کاشتکار اس کو خود کاشت نہیں کرتا بلکہ وہ بھی یہ زمین آگے کسی دوسرے کاشتکار کو بٹائی پر دے دیتا ہےمثلاً زمین دار سے اگر پہلے والے کاشتکار کی یہ  بات طے ہوئی ہے کہ پیداوار میں سے دو حصے کاشتکار لے گا اور ایک حصہ زمین دار کو دے گا تو یہ کاشتکار آگے دوسرے کاشکار سے اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ دو حصے پیداور میں سے میرے ہوں گے اور ایک حصہ تمہارا اور یوں وہ دوسرے کاشتکار سے دو حصے پیداوار وصول کر کے ایک حصہ خود لیتا ہے اور ایک حصہ زمین دار کو دیتا ہے۔آیا اس طرح معاملہ کرنا شرعا ً جائز ہے؟

جواب :

بصورت مسؤلہ اگر زمین دار کی طرف سے اس بات کی اجازت ہو کہ کاشتکار اس کی زمین کسی دوسرے کاشتکار کو بٹائی پر دے سکتا ہے تو اس صورت میں پہلا کاشتکار سوال میں مذکورہ ترتیب کے مطابق  زمین کسی دوسرے کاشتکار کو بٹائی پر دے سکتا ہے بصورت دیگر دوسرے کاشتکار کو بٹائی پر زمین دینا جائز نہیں  ۔
في الهندية:
إذا أراد المزارع أن يدفع الأرض إلى غيره مزارعة فإن كان البذر من قبل رب الأرض ليس له أن يدفع الأرض إلى غيره مزارعة إلا إن أذن له رب الأرض بذلك نصا أو دلالة بأن يقول رب الأرض: اعمل فيه برأيك ويكون له أن يستأجر أجراء بماله لإقامة عمل المزارعة إذا لم يشترط عليه العمل بنفسه فلو أنه دفعه إلى غيره مزارعة بالنصف مع أن رب الأرض ما أذن له بذلك لا نصا ولا دلالة . . . . . وأما إذا أذن رب الأرض والبذر للمزارع بذلك نصا أو دلالة بأن قال له: اعمل فيه برأيك وقد كان شرط رب الأرض للمزارع الأول النصف فدفع الأول إلى الثاني مزارعة بالنصف جازت المزارعة الثانية وما أخرجت الأرض من الزرع فنصفه لرب الأرض ونصفه للمزارع الثاني وخرج المزارع الأول من البين . . . . . الخ
(كتاب المزارعة، الباب الخامس في دفع المزارع إلى غيره مزارعة، دار الفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب