سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-232 Fatwa no: 1447-232

مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ ِ سہو کا سلام پھیرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مسبوق کہ جس کی کچھ رکعتیں جماعت سے رہ چکی ہوں اور بعد میں امام کے ساتھ شریک ہوچکا ہو اور امام جب اپنی نماز پوری کر کے سجدہِ سہو کا سلام پھیرے اور اس کے ساتھ یہ مسبوق بھی سلام پھیرے تو آیا اس مسبوق کی نماز پر کوئی اثر پڑتا ہے؟پہلے ہم نے یہ مسئلہ سنا تھا کہ مسبوق کو امام کے ساتھ سجدہِ سہو میں سلام نہیں پھیرنا چاہئے ورنہ اس کی نماز خراب ہوجاتی ہے لیکن چند دن قبل ہماری مسجد میں امام صاحب سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے یہ کہا کہ اگر مسبوق کو پتہ ہو کہ امام سجدہ سہو کیلئے سلام پھیر رہا ہے اور مسبوق اس کے ساتھ سلام پھیرے پھر تو مسبوق کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا البتہ اگر مسبوق کو یہ اندازہ نہ ہو کہ یہ سجدہ سہو کا سلام ہے بلکہ وہ اس کو نماز ختم کرنے کا سلام سمجھ کر امام کے ساتھ سلام پھیرے تو اس صورت میں مسبوق کی نماز ٹوٹ جائے گی اور اس کو دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی۔
یہ مسئلہ ہم نے پہلی مرتبہ ان سے سنا ہے اس لئے برائے مہربانی اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ مسئلہ واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ ہمارے امام صاحب نے بیان کیا ہے یا نہیں؟

جواب :

اگر مذکورہ امام صاحب نے واقعی مسئلہ ایسا ہی بیان کیا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو انہوں نے یہ مسئلہ غلط بیان کیا ہے کیونکہ مسبوق کو سجدہ ِ سہو کے سلام کے یقین ہونے یا یقین نہ ہونے سے مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ جان بوجھ کر یا سہوا ً سلام پھیرنے سے مسئلہ پر اثر پڑتا ہے جس کی تفصیل درجہ ذیل ہیں؛
اگر مسبوق جان بوجھ کر امام کے ساتھ سجدہ ِسہو کا سلام پھیرے چاہے مسبوق کواس بات کا یقین ہو کہ امام سجدہ سہو کے لئے سلام پھیر رہا ہے یا اس کو یہ یقین نہ ہو بہر دو صورت مسبوق کی نماز ٹوٹ جاتی ہےجس کو ازسر ِ نو پڑھنا ہوگا اور جان بوجھ کر سلام پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ سلام پھیرتے وقت اس کو اپنا مسبوق ہونا یاد ہو یعنی اس کو پتہ ہو کہ اس کی ایک یا چند رکعات فوت ہوچکی ہیں اور پھر بھی وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیردے ۔البتہ اگر وہ سہوا ً امام کے ساتھ سجدہِ سہو کا سلام پھیرے یعنی اس کو اپنا مسبوق ہونا یاد نہ ہو اور اس کا خیال ہو کہ اس کی نماز پوری ہوچکی ہےتو اس کی پھر درجہ ذیل تین صورتیں ہیں؛
(1)امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق سلام پھیر دے۔اس صورت میں مسبوق، امام کی نماز پوری ہونے کے بعد اپنی نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو اس کی نماز درست ہوجائے گی۔
(2)مسبوق ٹھیک امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دے۔اس صورت میں مسبوق اپنی نماز پوری کرے اور اس پر سجدہِ سہو واجب نہیں ہوتا  لیکن یہ صورت نادر ہی ہوتی ہے  اس لئے اس صورت میں بھی مسبوق سجدہ سہو کر لیا کرے۔ 

(3)مسبوق امام سے پہلے سلام پھیرے۔اس صورت مسبوق کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور  آخر میں سجدہ ِ سہو کی بھی ضرورت نہیں۔
رد المختار:
(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. وفيه: ولو سلم على ظن أن عليه أن يسلم فهو سلام عمد يمنع البناء.. . . . .الخ
 (كتاب الصلاة، باب سجود السهو ، 2/ 82 ، دار الفكر)
الدر المختار:
ولو سلم ساهيا إن بعد إمامه لزمه السهو وإلا لا.
و تحته في الشامية:
(قوله وإلا لا) أي وإن سلم معه أو قبله لا يلزمه لأنه مقتد في هاتين الحالتين. وفي شرح المنية عن المحيط إن سلم في الأولى مقارنا لسلامه فلا سهو عليه لأنه مقتد به، وبعده يلزم لأنه منفرد اهـ. ثم قال: فعلى هذا يراد بالمعية حقيقتها وهو نادر الوقوع. اهـ. قلت: يشير إلى أن الغالب لزوم السجود لأن الأغلب عدم المعية، وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس فليتنبه له.
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/ 599 ، دار الفکر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
فإذا سلم مع الإمام فإن كان ذاكرا لما عليه من القضاء فسدت صلاته؛ لأنه سلام عمد، وإن لم يكن ذاكرا له لا تفسد؛ لأنه سلام سهو فلم يخرجه عن الصلاة.
وهل يلزمه سجود السهو لأجل سلامه؟ ينظر إن سلم قبل تسليم الإمام أو سلما معا لا يلزمه؛ لأن سهوه سهو المقتدي، وسهو المقتدي متعطل، وإن سلم بعد تسليم الإمام لزمه؛ لأن سهوه سهو المنفرد فيقضي ما فاته ثم يسجد للسهو في آخر صلاته.. . . .الخ
(كتاب الصلاة،فصل بيان من يجب عليه سجود السهو، 1/ 176، دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب