نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اہلِ محلہ چاہتے ہیں کہ مسجد کیلئے سولر پینل خریدے لیکن مسجد کا فنڈ اتنا نہیں کہ اس سے سولر پینل خریدا جاسکے بلکہ سولر پینل کیلئے جتنی رقم درکار ہے اس میں سے تقریبا ً آدھی رقم مسجد کے فنڈ میں موجود ہے۔ہمارا ایک پڑوسی ہے جس کا گھر مسجد کے بالکل متصل ہے۔وہ چاہتا ہے کہ مزید آدھی رقم جو سولر پینل خریدنے کیلئے درکار ہے وہ اپنی طرف سے جمع کرکے اپنی گھر میں بھی اسی سولر پینل کی بجلی استعمال کرے یعنی اس کے حصے کی رقم سے جو بجلی بنے وہ یہ خود بھی گھر میں استعمال کرے اور مسجد میں بھی استعمال ہو اور یہ سولر پینل مسجد کا ہی رہے اور کل کو اگر اس کو بیچنا پڑے تو اس کے حصے کی رقم بھی مسجد کی ہی ہوگی۔اب آپ حضرات اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ مسئلہ کا کیا حکم ہے؟آیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟جزاکم اللہ خیرا ً
بصورت مسؤلہ اگر مذکورہ شخص سولر پینل کیلئے پیسے دیتے وقت یہ شرط لگائے کہ اس سولر پینل سے پیدا ہونے والی بجلی وہ اپنے گھر میں بھی استعمال کرے گا پھر تو اس کیلئے جائز ہے کہ اس سولر کی بجلی اپنے گھر میں بھی استعمال کرے لیکن اگر پیسے دیتے وقت وہ یہ شرط نہ لگائے تو بعد میں اس کیلئے اس سولر کی بجلی اپنے گھر میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔
الدر المختار:
(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى . . . . .الخ
تحته في الشامية:
(قوله: وجاز جعل غلة الوقف لنفسه إلخ) أي كلها أو بعضها وعند محمد لا يجوز بناء على اشتراطه التسليم إلى متول وقيل هي مسألة مبتدأة أي غير مبنية على ذلك . . . . .الخ
(كتاب الوقف ،مطلب في اشتراط الغلة لنفسه ، 4/ 384 ، دار الفكر)
البناية شرح الهداية:
قال: وإذا جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه جاز عند أبي يوسف، . . . . . وقال الولوالجي - رحمه الله - في " فتاواه " ومشايخ بلخ - رحمهم الله - أخذوا بقول أبي يوسف - رحمه الله -، والصدر الشهيد - رحمه الله - أيضا كان يفتي به أيضا ترغيبا للناس في الوقف.
(كتاب الوقف ، شرط الواقف الغلة لنفسه ، 7/ 447 ، دار الكتب العلمية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
(وإن جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه صح) أي لو شرط عند الإيقاف ذلك اعتبر شرطه أما الأول فهو جائز عند أبي يوسف ولا يجوز على قياس قول محمد . . . . . . ولأبي يوسف ما روى أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يأكل من صدقته والمراد منها صدقته الموقوفة ولا يحل الأكل منه إلا بالشرط فدل على صحته ولأن الوقف إزالة الملك إلى الله تعالى على وجه القربة على ما بيناه فإذا شرط البعض أو الكل لنفسه فقد جعل ما صار مملوكا لله تعالى لنفسه لا أن يجعل ملك نفسه لنفسه وهذا جائز. . . . . وفي فتح القدير فقد ترجح قول أبي يوسف قال الصدر الشهيد والفتوى على قول أبي يوسف ونحن أيضا نفتي بقوله ترغيبا للناس في الوقف واختاره مشايخ بلخ وكذا ظاهر الهداية حيث أخر وجهه ولم يدفعه . . . . . .الخ
(كتاب الوقف ،5/ 237 ، دار الكتاب الإسلامي)
Mufti
تاریخ جواب: 14 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔