سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-235 Fatwa no: 1447-235

مکرہ کا زبانی طلاق دینے کی صورت میں غیر مذہب پر فتوی دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا سرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 2012 میں میرا نکاح رمشا جدون سے ہوا اور تقریبا ڈھائی سال ہماری شادی چلی، اللہ نے دو بچے دیے لیکن پھر اس کے نفسیاتی مریض ہونے کی وجہ سے طلاق کی نوبت آئی  اور بالآخر باقاعدہ طلاق ثلاثہ سے طلاق واقع ہو گئی پھر وہ تقریبا اڑھائی سال اپنے والدین کے گھر رہی اور پھر اس کی کہیں اور شادی ہوئی جو 18 دن چلی اور وہاں سے بھی طلاق ہو گئی۔
2017 میں عدت گزرنے کے بعد ہمارا دوبارہ باقاعدہ نکاح ہوا اور اللہ نے مزید دو بچے عطا کیے اس دوران نفسیاتی امراض چلتے رہے اور بڑھتے ہی رہے اور یہاں تک کہ خودکشی کی نوبت آئی اور اس نے خود کو گولی ماری جس کی صورتحال کچھ یوں تھی کہ اس کو  شدید دورے پڑے اور اس  کیفیت میں خود کو مارنے کے لیے میری عدم موجودگی میں پستول سے  فائر کیا  اور گولی اس کے پسلی اور پھیپڑے کو نقصان پہنچاتے ہوئے دوسری طرف سے پار ہو گئی۔ خودکشی کی کوشش میں فائر لگنے کی وجہ سے پولیس کیس بن گیا اور ایف آئی آر درج ہو گئی اور میں شامل تفتیش ہوا ۔جج صاحب نے موصوفہ کا تمام میڈیکل ریکارڈ اور پولیس انکوائری کی رپورٹ کے بعد موصوفہ کو بری کر دیا لیکن جج صاحب نے کہا کہ اگر اس کی زندگی نہ بچتی تو اس کے گھر والے تم کو مجرم ڈکلیئر کرتے۔ اس کے بعد اس کے والدین نے اس کو اپنے گھر آنے سے منع کیا اور   پورے میکے نے اس کے مریضہ ہونے کی وجہ سے قطع تعلقی کی۔اس کو جب بھی دورہ آتا ہے تو اس وقت اسکی کیفیت الگ ہوتی ہے،ایک مرتبہ اسی کیفیت میں مجھ سے کہنے لگی کہ میں تمارے پاس بچوں کو نہیں رہنے دوں گی ان کو میں مار ڈالوں گی اور سب سے چھوٹی بیٹی کے بارے میں کہا کہ اس کوضرور مار کے مروں گی اور یا تمہیں سوتے ہوئے ذبح کردوں گی۔بہر حال وقت گزرتا گیا اور2022 میں ایک شب انتہائی معمولی بات پر تکرار کر کے اضطرابی کیفیت شدید ہو گئی اور بچوں کو مارا، موبائل دیوار پر مار کر توڑ دیا ،بڑی بیٹی کو بددعائیں دینے لگی اور مجھ سے بھی بدتمیزی کرنا شروع کر دی لیکن میں دورے کی کیفیت کو سمجھ کر الگ کمرے میں چلا گیا لیکن شدت بڑھتی گئی اور طلاق دینے کا مطالبہ شروع کر دیا میرے انکار پر کہ بچوں کو دیکھو ایسا نہ کرو میرا گریبان پکڑ کر ہاتھا پائی شروع کر دی اور گالم گلوچ کے ساتھ کہا کہ مجھے ابھی طلاق دے دو ، نہیں تو میں  خود کو مار دوں گی اور خود تو مروں گی ،تم اور تمہاری اولاد کو بھی عبرت کا نشان بنا دوں گی میں اس دورہ کی شدت کو کم کرنے کے لیے کہتا رہا کہ صبح تم جو کہو گی وہ کر دوں گا لیکن ابھی ایسا نہیں کروں گا لیکن وہ بالکل حواس باختہ ہوگئی اور ہاتھا پائی بدتمیزی گالم گلوچ کے ساتھ ایک ہی مطالبہ کرتی رہی کہ ابھی طلاق دے دو نہیں تو میں آج رات اپنے آپ کو مار دوں گی اور تم سب کو جواب دیتے رہنا ۔
تقریبا دو تین گھنٹے میں اس کا تمام ناقابل برداشت رویہ اس ڈر سے برداشت کر کے انکار کرتا رہا کہ یہ جو کہتی ہے اس حالت میں وہ یہ کر گزرتی ہے کیونکہ پہلے بھی کئی دفعہ اس کا مشاہدہ ہوچکا تھا  لیکن آخر میں میں نے اپنی اور اپنی بچی کی جان بچانے کی خاطر  مجبورا حسب مطالبہ ان الفاظ سے طلاق دی کہ" میں نے تمہیں تین طلاقیں  دی"، لیکن میرا کوئی ارادہ طلاق کا نہیں تھا ۔یہ سنتے ہی وہ بالکل ٹھیک ہوگئی۔اس حوالہ سے میں نے ایک مقامی دارالافتاء میں دارالعلوم کراچی کے متخصص سے فتوی لیا جو منسلک ہے جس میں انہوں نے ایک طلاق کے وقوع کا فتوی دیا ، لہذا ہم دوبارہ نارمل طریقے سے رہنے لگی بہرحال نفسیاتی مسائل بڑھتے ہی رہے یہاں تک کہ نیند کے انجکشن لگانے تک کی نوبت آگئی، اس دوران میرے ایک اہل حدیث عالم دوست نے مجھ سے کہا کہ درحقیقت تمہاری دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ایک وہ جو پہلی دفعہ نکاح کے بعد دی تھی اور ایک جو 2022 میں دی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے پھر جھگڑے کی نوبت آئی اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے حالات کافی سنگین ہو گئے تو میں نے اس کے والد کو کہا اور وہ اس کو لے گئے میں نے کہا میں طلاق نہیں دے رہا لیکن اس کا علاج کروائیں۔ وہ لے گئے لیکن تین دن بعد وہ وہاں سے بھاگ کر میرے پاس پھر آرہی تھی تو میں نے فون پر اس کو ایک طلاق دی باقاعدہ ایک کی نیت سے اورچونکہ اس  اہل حدیث عالم دوست نے مجھے کہا تھا کہ دو طلاقیں ہوچکی ہیں تو میرے ذہن میں اسی کی بات تھی  اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے اب میں جو طلاق دے رہا تھا تو ذہن میں یہ  تھا کہ اب میں تیسری طلاق دے رہا ہوں لہذا طلاق دینے کے بعد میں نے بطور سند ایک طلاق نامہ بھی بنوا لیا جو ساتھ منسلک ہے اب اس کے والد نے بھی اس کو لا تعلق کر دیا ہے وہ باہر اکیلی کسی فلیٹ میں رہ رہی ہے جہاں اچھی سے زیادہ بری زندگی میں جانے کا خدشہ ہے۔ پھر میری توجہ میرے ایک دوست نے اس طرف دلائی کہ 2012 والے نکاح کے ختم ہونے کے بعد تو اس طلاق کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی تو گویا کہ تلاقیں دو ہوئی ہیں۔ 
لہذا عرض ہے کہ مذکورہ بالا تحریر اور منسلک فتوے کی روشنی میں ازروئے شریعت کیا اب میرے لیے گنجائش ہے کہ میں رمشا جدون سے رجوع یعنی نکاحِ جدید کر لوں تاکہ اس کی زندگی بھی اور ہمارے بچوں کی زندگی بھی خوشگوار ہو سکے۔

جواب :

چونکہ ہمارے فقہاء احناف کے نزدیک مکرہ کی زبانی طلاق واقع ہوتی ہے اس لئے بصورت مسؤلہ دوسری مرتبہ نکاح میں لانے  کے بعد 2022 میں مذکورہ شب والے واقعہ کے دوران رمشا جدون کو آپ کے الفاظ " میں نے تمہیں تین طلاقیں  دی" سے تین طلاقیں واقع ہوچکی تھی اور وہ طلاق مغلظہ کے ساتھ آپ پر دوبارہ حرام ہوچکی تھی جس کے بعد آپ دونوں پر فوراً جدا ہونا لازم تھا اس لئے اس کے بعدجتنا عرصہ بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہ چکے ہیں اس پر اللہ کی بارگاہ میں توبہ  و استغفار کریں اور اس دوران چونکہ آپ دونوں کا نکاح ختم ہوچکا تھا اس لئے مزید جو زبانی اور تحیریری طلاقیں آپ نے دی تھیں وہ لغوتھیں ۔اب آئندہ پھر اگر ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دوبارہ حلالہ شرعیہ کرکے نکاح کرنا ہوگا۔
باقی جہاں تک بات ہے منسلکہ فتوے کی جس میں مسؤلہ صورت میں ایک طلاق کے وقوع کا حکم لگایا گیا ہے تو ہماری تحقیق کے مطابق وہ درست نہیں ۔ذیل میں اس فتوے کے وہ تین وجوہات ذکر کئے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر مذکورہ صورت میں ایک طلاق کے وقو ع کا حکم لگایا گیا ہے اور ہر وجہ کے بارے میں اس کے برخلاف اپنی تحقیق بیان کی جائے گی۔
منسلکہ فتوے میں دار الافتاء سے  تین وجوہات کی بنیاد پر ایک طلاق کے وقوع کا حکم لگایا گیا ہے؛
(1)مذکورہ صورت میں شوہر نے بیوی کے ہاتھوں مجبور  ہوکر طلاق دی ہے یعنی یہ طلاقِ مکرہ کی صورت تھی اور  طلاقِ مکرہ فقہاء کے درمیان ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے ۔
یہ بات درست ہے  کہ طلاق ِ مکرہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے اور اکثر فقہاء اس مسئلہ میں عدم ِ وقوع کے قائل ہیں لیکن  ہماری تحقیق  کے مطابق یہ کوئی ایسا عام مسئلہ نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے اپنے حنفی مسلک کو چھوڑ کر دوسرے مسلک پر فتوی دیا جائے خصوصا ایک فرد کیلئے اور اگر اس مسئلہ میں دوسرے فقہاء کے مسلک کو لیا بھی جائے تو وہ تو بالکل طلاق کے عدمِ وقوع کے قائل ہیں اس لئے مثلاً  اگر ان کے مسلک کو لیا جاتا تو پھر  بالکل ایک بھی طلاق واقع نہ ہونے کا حکم لگانا چاہئے تھا  جبکہ منسلکہ فتوے میں ایک تو غیر ِ حنفی فقہاء کے مسلک کو لیتے ہوئے  وقوع ِ طلاق کا حکم لگایا گیا ہے اور دوسرا اکراہ کی حالت میں شوہر کی طرف سے زبانی تین طلاقیں دینےکی  صورت میں باقی فقہائے کرام کے مطابق بھی ایک طلاق کا حکم لگایا گیا ہے جودرست  نہیں۔
في المبسوط للسرخسي:
ثم بدأ الكتاب بحديث رواه عن إبراهيم رحمه الله قال في الرجل يجبره السلطان على الطلاق والعتاق فيطلق أو يعتق وهو كاره أنه جائز واقع ولو شاء الله لابتلاه بأشد من هذا وهو يقع كيفما كان وبه أخذ علماؤنا رحمهم الله وقالوا طلاق المكره واقع سواء كان المكره سلطانا أو غيره أكرهه بوعيد متلف أو غير متلف والخلاف في هذا الفصل كان مشهورا بين السلف من علماء التابعين رحمهم الله ولهذا استكثر من أقاويل السلف على موافقة قول إبراهيم.
(كتاب الإكراه ، 24/ 73 ،  دار الفكر)
و في الفتاوى الهندية:
(وأما) (‌أنواعه) ‌فالإكراه ‌في ‌أصله ‌على ‌نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ . . . . (وأما) (حكمه) وهو الرخصة أو الإباحة أو غيرهما فيثبت عند وجود شرطه، والأصل أن تصرفات المكره كلها قولا منعقدة عندنا إلا أن ما يحتمل الفسخ منه كالبيع والإجارة يفسخ، وما لا يحتمل الفسخ منه كالطلاق والعتاق والنكاح والتدبير والاستيلاد والنذر فهو لازم، كذا في الكافي.
(كتاب الإكراه، الباب الأول، 5/ 35 ،  دار الفكر)
(2)دوسرای وجہ   یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق کا لفظ  کئی مرتبہ کہے  اور اس کی کوئی نیت نہ ہو یا ایک طلاق کی نیت ہو تو احناف کے نزدیک دیانتا ً ایک  طلاق  واقع ہوتی ہے ،لہذا منسلکہ فتوے میں بھی ایک طلاق کا حکم لگایا گیا ہےحالانکہ اس طرح مطلقا ً کہنا  کہ طلاق کا لفظ کئی مرتبہ کہا جائے اور نیت ایک طلاق کی ہو تو احناف کے نزدیک دیانتاًایک طلاق واقع ہوتی ہے یہ درست نہیں بلکہ دیانتاً ایک طلاق کے وقوع میں الفاظِ طلاق کےتکرار کے حوالے سےقدرے تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق کے متعدد الفاظ کہے اور ان متعدد الفاظ سے اس کی نیت  تاکید کی ہو پھر تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور وہ  متعد الفاظ تاکید کے لئے ہونگے لیکن اگر کوئی شخص طلاق کے الفاظ کئی بار کہے اور اس کی کوئی نیت نہ ہو تو اس صورت میں ایک سے زائد طلاقیں واقع ہونگی،خاص طور پر اگر بیوی مدخول بہا ہو یا اس کے ساتھ خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہواور اس کو بغیر کسی نیت کے تین مرتبہ الفاظِ طلاق کہے جائیں تو اس صورت میں  تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں ۔
في رد المحتار:
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو 
أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد.
(كتاب الطلاق ، 3/ 293 ، دار الفكر)
پھر جہاں تک طلاق میں تاکید کی نیت کی بات ہے تو  طلاق میں تاکید کی نیت کا اعتبار اس صورت میں کیا جائے گا جب الفاظِ طلاق میں  تکرار ہو لیکن ساتھ میں کوئی عدد ذکر نہ ہو،لیکن اگر الفاظِ طلاق کے ساتھ عدد بھی ذکر کیا جائے تو اس صورت میں طلاق کی تعداد کا فیصلہ الفاظِ طلاق کے ساتھ ذکر شدہ عدد سے کیا جائے گا نہ کہ نیت سے،لہذا اس اصول کے تحت الفاظِ طلاق  کے ساتھ تین کا عدد ذکر کرنے سے تین طلاقیں ہی واقع ہونگیں ۔
في الرد:
(قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا، ولو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، ومن أنه لو قال أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء ولو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلا فوقع.
(كتاب الطلاق،باب طلاق غير المدخول بها، 3/ 287،  دار الفكر)
اس ساری تفصیل کے بعد سوال میں مذکورہ صورت پر غور کیا جائے تو اس میں بھی یہی بات ہے کہ الفاظِ طلاق کے ساتھ واضح طور پر  3 کا عدد ذکر کیا گیا ہے اس لئے اگرچہ شوہر  کی نیت ان الفاظ سے کوئی نہ ہو یا ایک طلاق کی ہو، پھر بھی دیانتا ً و قضاءً ہر دو اعتبار سے تین طلاقوں کا ہی حکم لگے گا ۔
(3) تیسری وجہ  یہ بیان کی گئی  ہے کہ مذکورہ صورت میں یعنی جب طلاق کے الفاظ کئی بار کہے جائیں اور ایک طلاق کی نیت ہو یا کوئی نیت نہ ہو تو شوافع کے نزدیک دیانتاً بھی اور قضاءً بھی ایک ہی  طلاق واقع ہوتی ہے۔
اس نقطہ کو بیان کرنے سے مقصود مذکورہ مسئلہ  میں غیرِ حنفی مسلک پر فتوی دینے کا زجواز پیش کرنا ہے حالانکہ فقہائے احناف کی تصریحات کے مطابق حنفی مفتی کیلئے عام حالات میں فقہ حنفی چھوڑ کر دوسری فقہ پر فتوی دینا درست نہیں کیونکہ اپنی فقہ چھوڑ کر دوسری فقہ کے مطابق فتوی دینا چند خاص حالات و شرائط کے ساتھ مقید ہے جبکہ طلاقِ مکرہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کی وجہ سے اپنی فقہ چھوڑ کر دوسری فقہ کے مطابق فتوی دیا جائے ۔
في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
قال في جواهر الفتاوى: لو أن رجلا من أهل الاجتهاد برئ من مذهبه في مسألة أو في أكثر منها باجتهاد لما وضح له من دليل الكتاب أو السنة أو غيرهما من الحجج لم يكن ملوما ولا مذموما بل كان مأجورا محمودا وهو في سعة منه وهكذا أفعال الأئمة المتقدمين فأما الذي لم يكن من أهل الاجتهاد فانتقل من قول إلى قول من غير دليل لكن لما يرغبمن غرض الدنيا وشهوتها فهو مذموم آثم مستوجب للتأديب، والتعزير لارتكابه المنكر في الدين واستخفافه بدينه ومذهبه. اهـ
(مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك ، 2/ 327 ،  دار المعرفة)
خلاصہ یہ کہ منسلکہ فتوی ہماری تحقیق کے مطابق درست نہیں اور مسؤلہ صورت میں ہماری رائے وہی ہے جو شروع میں ذکر کی کہ  2022 میں مذکورہ شب والے واقعہ کے دوران رمشا جدون کو آپ کے الفاظ " میں نے تمہیں تین طلاقیں  دی" سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ طلاق مغلظہ کے ساتھ آپ پر دوبارہ حرام ہوچکی ہیں۔ اب آئندہ پھر اگر ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دوبارہ حلالہ شرعیہ کرکے نکاح کرنا ہوگا۔
في عقود رسم المفتي:
لا یجوز للمفتي والعامل أن یفتي أو یعمل بماشاء من القولین أو الوجهین من غیر نظر، وهذا لا خلاف فیه، وقوله: إن المجتهد والمقلد لایحل لهما الحکم والإفتاء بغیر الراجح؛ لأنه اتباع للهوی وهو حرام إجماعا. 
( ص: 44،جدید زکریا دیوبند)
و في الدر المختار:
(‌ويقع ‌طلاق ‌كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح.
(كتاب الإكراه، الباب الأول، 3/ 235 ،  دار الفكر)
و في العقود الدرية في تنقيح الفتاوي الحامدية:
(سئل) في رجل قال لزوجته روحي طالق وكررها ثلاثا ناويا بذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان؟
(الجواب) : لا يصدق في ذلك قضاء لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان لأن روحي طالق رجعي كما في الفتاوى الخيرية والتمرتاشي وغيرهما وأما روحي فقط فإنه كناية إذ هو كاذهبي كما صرح به صاحب البحر لكن لا يصدق أنه قصدا لتأكيدإلا بيمينه لأن كل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في 
ضميره والقول قوله مع يمينه كما في الزيلعي وأفتى بذلك التمرتاشي.وقال في الخانية لو قال أنت طالق أنت طالق أنت طالق وقال أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا. اهـ.
(كتاب الطلاق، 1/ 37 ، دار المعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب