سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-236 Fatwa no: 1447-236

ملازم کا جھوٹا بل بناکر اپنے ادارے سے رقم وصول کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ایک ادارے میں کام کرتا ہوں اور اس ادارے  نے اپنے ملازمین کے ساتھ یہ ایگریمنٹ کیا ہے کہ ادارہ  ملازمین کی بیماری کی صورت میں  میڈیسن کی مد میں سالانہ ایک لاکھ روپے تک الاؤنس دے گا لیکن یہ صرف میڈیسن کا خرچہ ہوگا باقی جو ہسپتال وغیرہ میں داخلہ اور ڈاکٹر کی فیس اور آپریشن وغیرہ کے اخراجات ہوں گے وہ اس میں شامل نہیں بلکہ یہ صرف  میڈیسن کا خرچہ دیاجائے گا اور  یہ پیسے اکھٹے نہیں دئے جائیں گے بلکہ جتنا خرچہ ملازم کا میڈیسن کی مد میں  ہوگا وہ اس کی ایک رسید جمع کرے گا اور اسی کے مطابق اس کو ادائیگی کی جائے گی اور اگر پورے سال میں ایک لاکھ کی میڈیسن ملازم نے نہ خریدی ہو بلکہ اس سے کم خریدی ہو توجتنی میڈیسن خریدی ہو اس کے پیسے دئے جائیں گے اور  بقایا رقم اس کو نہیں دی جائے گی بلکہ وہ انتظامیہ والے پھر ادارے کو واپس کریں گے اور دوسرا سال شروع ہونے پر دوبارہ ایک لاکھ روپے اسی ملازم کے نام سے آجاتے ہیں اور اسی مذکورہ ترتیب کے مطابق ملازم کو اس کی ادائیگی کی جائے گی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جتنے پیسے اس ایک لاکھ میں سے بچ جاتے ہیں وہ پھر انتظامیہ والے ادارے کو واپس نہیں کرتے یعنی وہ پیسے مالک تک نہیں پہنچتے بلکہ انتظامیہ والے آپس میں بانٹ  لیتے ہیں ۔
اب اگر اس بنیاد پہ کہ اصل مالک تک یہ باقی رقم ویسے بھی نہیں پہنچ پاتی اور انتظامیہ والے کھا لیتے ہیں تو کیا یہ باقی رقم ملازم  لیکر اپنے لئے میڈیسن کے علاوہ کسی دوسری ضرورت میں استعمال کرسکتا ہے لیکن اس  رقم کو وصول کرنے کیلئے اس کو کسی ڈاکٹر یا میڈیسن والے کو پیسے دیکر اس سے رسید بنانی پڑے گی اور اس رسید کی بنیاد پر پھر وہ ادارے سے باقی رقم حاصل کر سکے گا تو کیا کسی ملازم کیلئے اس طرح عمل کر کے باقی پیسے لینا اور کسی دوسری ضرورت میں استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب :

بصورت مسؤلہ  چونکہ مذکورہ ادارے نے اپنے ملازمین کے ساتھ صرف میڈیسن کی مد میں ایک لاکھ روپے تک الاؤنس دینے کا معاہدہ کیا ہے اس لئے متعلقہ ملازمین کیلئے مذکورہ کمپنی سے صرف میڈیسن کی مد میں ایک لاکھ روپے تک الاؤنس وصول کرنا جائز ہےاور میڈیسن کی مد میں ایک لاکھ سے کم خرچ ہونے کی صورت میں پیسے دیکر جھوٹی رسیدیں بنانا اور ان جھوٹی رسیدوں پر مزید رقم وصول کرنا بالکل بھی جائز نہیں  کیونکہ جھوٹی رسید بنانے کیلئے ملازم جو پیسے ڈاکٹر یا میڈیسن والے کو دے گا وہ رشوت ہوگی اور اس طرح کا معاملہ کرنے سے ملازم  جہاں رشوت دینے کے گناہ میں ملوث ہوگا ادھر اپنے ادارے کے ساتھ دھوکہ کرنے والا بھی ہوگا اور اس جھوٹ اور رشوت کی بنیاد پر وصول ہونے والی رقم بھی حرام ہوگی ،اس لئے اس قسم کا معاملہ کرنے سے مکمل اجتناب ضروری ہے باقی رہی یہ بات کہ بقایا رقم انتظامیہ والے اصل مالک تک نہیں پہنچاتے بلکہ آپس میں بانٹتے ہیں یہ ان کا اپنا گناہ ہے جس کا حساب انہیں اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور دینا ہوگا لیکن  ان کے اس طرح کرنے سے ادارے کے ملازم کیلئے یہ جائز نہیں ہوتا کہ وہ  رشوت دیکر اور دھوکہ دہی کر کے ادارے سے بقایا راقم وصول کرے۔

قال تبارك و تعالى:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا 
أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا  وَ مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا             (النساء: 30، 29)
في سنن الترمذي:
عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا»
 (أبواب البر والصلة ،باب ما جاء في الصدق والكذب، 4/ 348،شركة مكتبة)
الجامع لشعب الإيمان للبيهقي:
عن مصعب بن سعد، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يطبع المؤمن على كل شيء, إلا الخيانة، والكذب.
(حفظ اللسان عما لا يحتاج اليه ،6/ 454 ، مكتبة الرشد بالرياض)
و في الفتاوى الهندية:
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.
(كتاب الحدود، الباب السابع ، 2/ 167،دار الفکر)
و في حاشية ابن عابدين:
وما كان سببا لمحظور فهو محظور اه
(كتاب الحظر والإباحة، 6/ 350 ، دار الفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب