سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-237 Fatwa no: 1447-237

ملاوٹ سمیت سونا بیچنے اور خريدنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ایک سنار ہوں  ۔ہم سونا کے ہر ایک تولہ میں ایک گرام یا اس سے کم وبیش پیتل ملاتے ہیں کیونکہ   اسکے بغیر  زیور نہیں بن سکتا ہے۔ اب میں جب ایک تولہ سونےکا زیور بیچتا ہوں تو مکمل پیسے لیتا ہوں مثلا ایک تولہ چار لاکھ کا ہے تو چار لاکھ پر ہی بیچتا ہوں لیکن جب ایک تولہ سونے کا زیور خریدتا ہو تو اس پیتل والے گرام کی قیمت نہیں دیتا ہوں مثلا تین لاکھ پچاس ہزار روپے دے کر خریدتا ہوں ۔اب پو چھنا یہ ہے کہ اس طرح سے پیتل ملانا اور کم قیمت سے خریدنا جائز ہے ؟اور میں جب زكوة نکالتا ہوں  تب بھی پیتل والے گرام کو نکال کر بقایا یعنی تین لاکھ پچاس ہزار کے حساب سے سارے سونے اور جائیداد  کی زکواة نکالتا ہوں ۔

جواب :

واضح رہے کہ دوسری دھات ملائے بغیر خالص سونے سے زیور نہیں بنتا اور  ہماری معلومات کے مطابق  عام طور پر سونار  22 کیرٹ سونے کے ایک تولہ میں تقریبا ایک گرام جبکہ 21 کیرٹ میں تقریبا ً ڈیڑھ گرام پیتل یا کوئی دوسری  دھات ملاتے ہیں  ۔
بصورت مسؤلہ آپ کیلئے سونے کا زیور بناتے ہوئے سونے کے ساتھ   پیتل یا دوسری دھات کی ایک معتد بہ مقدار(اتنی مقدار جس سے زیور جڑا رہے) میں ملاوٹ جائز ہے البتہ  بیچتے ہوئے اس کا کیرٹ متعین کر کے  آپ گاہک کو اس زیور کے کیرٹ کے حوالے سے صراحتا ً آگاہ کر دیا کریں کہ یہ زیور اتنے کیرٹ کا ہےتاکہ اس کو معلوم ہوسکے کہ اس  زیور میں کتنی ملاوٹ ہوئی ہے کیونکہ ایک کیرٹ کا زیور بناکر خریدار کو دوسرے کیرٹ کا بتاکر بیچنا دھوکے کے زمرے میں آتاہے جو  ناجائز ہے اور جہاں تک خود سونا خریدنے کی بات ہے تو چونکہ عرف  اور تعامل الناس یہی ہے کہ سونار سونا خریدتے ہوئے صرف خالص سونے کی قیمت سے سونا خریدتے ہیں اور ملاوٹ والی دھات بغیر قیمت کے لیتے ہیں اس لئے آپ کیلئے یہ جائز ہے کہ صرف خالص سونے کی قیمت کے بدلے سونا خریدیں۔ 
اس کے علاوہ آپ کے پاس موجود سونے میں اگر سونا غالب اور کھوٹ مغلوب یعنی بہت کم  ہوتو   وہ معمولی کھوٹ سونے کے تابع ہوگا اور آپ سونے اور کھوٹ کے مجموعی وزن کے اعتبار سے زکوۃ ادا کریں گے اور اس کا  آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے پاس موجود سونے کی مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے اس کا ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کیا کریں۔ 
في صحيح لمسلم:
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني».
 (كتاب الإيمان،1/99 ، دار إحياء التراث العربي)
و في الدر المختار:
(وما غلب فضته وذهبه فضة وذهب) - حكما (فلا يصح بيع الخالص به، ولا بيع بعضه ببعض 
إلا متساويا وزنا و) كذا (لا يصح الاستقراض بها إلا وزنا) كما مر في بابه (والغالب) عليه (الغش منهما في حكم عروض) اعتبارا للغالب (فصح بيعه بالخالص إن كان الخالص أكثر) من المغشوش ليكون قدره بمثله والزائد بالغش كما مر (وبجنسه متفاضلا) وزنا وعددا بصرف الجنس لخلافه (بشرط التقابض) قبل الافتراق (في المجلس) في الصورتين لضرر التمييز (وإن كان الخالص مثله) أي مثل المغشوش (أو أقل منه أو لا يدرى فلا) يصح البيع للربا في الأولين ولاحتماله في الثالث (وهو) أي الغالب الغش (لا يتعين بالتعيين إن راج) لثمنيته حينئذ (وإلا) يرج (تعين به) كسلعة وإن قبله البعض فكزيوف فيتعلق العقد بجنسه زيفا إن علم البائع بحاله وإلا فبجنسه جيد.
و تحته في الشامية:
(قوله: حكما) تمييز محول عن المبتدإ: أي حكم ما غلب فضته وذهبه حكم الفضة والذهب الخالصين، وذلك لأن النقود لا تخلو عن قليل غش للانطباع وقد يكون خلقيا كما في الرديء فيعتبر القليل بالرديء فيكون كالمستهلك .
(كتاب البيوع ،5/267-265، دار الفكر)
و في  النهر الفائق شرح كنز الدقائق:
(وغالب الفضة) أي: والفضة الغالية (و) غالب (الذهب فضة وذهب) / لأن النقود لا تخلو عن قليل غش للانطباع وقد يكون خلقيًا فيكون كالمستهلك (حتى لا يجوز بيع الخالصة بها ولا بيع بعضها ببعض إلا متساويًا). . . . .الخ
 (كتاب البيوع، كتاب الصرف،3/537 ، دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب