سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-238 Fatwa no: 1447-238

مورث کی اولاد کی موجودگی میں مورث کے ترکہ میں اس کے بھائیوں کے حصے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص جہانگیر والد عزیز رحمن ساکن  کٹھائی نے ایک زمین خریدی جس کا کل رقبہ 18 کنال تھا اور اس زمین میں مذکورہ شخص کے بھائی دلاور اور پرستان بھی شریک تھے پھر جہانگیر صاحب نے اپنے حصے کی زمین میں ٹاور لگایا اور سکول بنایا اور اس کے بعد باقی زمین دونوں بھائیوں کے حوالے کر دی اور ٹاور والی کمپنی کے ساتھ جہانگیر صاحب کا ایگریمنٹ ہوا  2008  میں اور یہ ایگریمنٹ 2018 تک چلتا رہا پھر دوبارہ جو ایگریمنٹ ہوا وہ 2018 سے2033تک ہوا  پھر جہانگیر صاحب کا انتقال ہو گیا اور ٹاور کمپنی نے مذکورہ ایگریمنٹ کے تحت سالانہ رقم جہانگیر صاحب کے شرعی ورثہ یعنی ان کی اولاد کے نام پر بھیجنا شروع کی ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس ایگریمنٹ کی رقم میں جہانگیر صاحب کے دونوں بھائیوں کا کوئی شرعی حصہ بنتا ہے یا نہیں حالانکہ جہانگیر کی اولاد میں بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی۔

جواب :

آدمی کی وفات کے بعد اس کا ترکہ یعنی اسکی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور اس جائیداد سے حاصل ہونے والے منافع ان کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہونگے جبکہ مرحوم کے شرعی ورثاء کے علاوہ باقی رشتہ داروں کا اس میں کسی قسم کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
بصورت مسؤلہ  اگر جہانگیر مرحوم نے  اپنے بھائیوں کو مذکورہ زمین میں سے انکا پورا حصہ  دے دیا تھا اور اس نے صرف اپنے حصہ کی زمین میں ٹاور لگایا تھا جیسا کہ سوال سے بھی یہی واضح ہورہا ہےتو اس صورت میں مذکورہ کمپنی کی طرف سے ٹاور لگانے کے بدلےملنے والی سالانہ رقم صرف جہانگیر کی اولاد میں تقسیم ہوگی اور مرحوم کے بھائیوں کا اس رقم میں کوئی حق نہیں ہوگا،تاہم اگر جہانگیر مرحوم نے  مذکورہ زمین  میں سے اپنے بھائیوں کو پورا حصہ نہیں دیا تھا بلکہ بھائیوں کوتھوڑی بہت زمین دیکر باقی زمین اپنے قبضہ میں رکھی تھی تو اس صورت میں چونکہ ٹاور والی زمین میں باقی بھائیوں کا حصہ بھی شامل ہے اس لئےکمپنی کی طرف سے ملنی والی رقم میں باقی بھائی بھی اپنے حصہ کے بقدر حق دار ہونگے۔
و في السراجي في الميراث:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدة، والثلثان للإثنین فصاعدة، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وهو یعصبهن. . . . . و بنو الاعيان و الاخوات كلهم يسقطون بالابن ، وابن الابن. . . . . الخ
(باب معرفة الفروض و مستحقيها،فصل في النساء، ص  42-32، البشرى)
و في الفتاوى الهندية:
وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار.
 فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته 
 إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده. . . . وعصبة بغيره وهي 
كل أنثى تصير عصبة بذكر يوازيها وهي أربعة: البنت بالابن . . .الخ
 (كتاب الفرائض،الباب الثالث في العصبات،6/ 451، دار الفكر)
و في تحفة الملوك:
ويسقط الأجداد بالأب والجدات من الجهتين بالأم والأبويات خاصة بالأب وأولاد الابن بالابن والإخوة والأخوات بالابن وابن الابن والأب والجد وأولاد الأب بهؤلاء وبالأخ لأب وأم والبعدى من الجدات. . . . الخ
(فصل فِي الْمَيِّت ،1/ 256، دار البشائر الإسلامية)

 

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب