نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میاں بیوی کے درمیان طلاق کے معاملہ میں اختلاف ہے اور دونوں کے بیانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ذیل میں دونوں کے بیانات ملاحظہ ہوں؛
شوہر کا بیان: میں مسمی سعد خان ولد ریاض خان ساکن کوٹ گلہ تحصیل و ضلع بٹگرام یہ بیان کرتا ہوں کہ میں مسماۃ نازش بنت ناصر خان کی طلاق ثلاثہ مغلظہ کا بالکل منکر ہوں ،میں نے طلاق نہیں دی البتہ آج سے دو سال قبل میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی راز کی بات تھی اگر کوئی اس راز پر مطلع ہوا تو میں آپ کو طلاق دے دوں گا، میں آپ کو طلاق دے دوں گا(صرف دو دفع یہ کہا)۔
میں نے ان کو صرف دھمکی کے طور پر یہ کہا تھا جبکہ مجھے علم نہیں تھا کہ اس راز سے کسی کو پتہ چل گیا ہے یا نہیں۔اس کے علاوہ میں نے کوئی بھی طلاق کے الفاظ اپنے منہ سے مذکورہ منکوحہ نازش کے بارے میں نہیں کہے اور جو وہ کہہ رہی ہے میں اس کا منکر ہوں۔میں نے اپنی بیوی کو راضی کرنے کیلئے میسج لکھا کہ میں آپ کا حلالہ کرادوں گا،صرف اس کی ضد تھوڑنے کیلئے۔میں نے 14 صفحات پر مشتمل ٹیکسٹ میسجز جو کہ مفتی عبد الولی کے پاس موجود ہیں ان کو دیکھا ہے اور وہ صحیح ہیں اور وہ میسجز میں نے اپنی منکوحہ کو کئے ہیں۔
بیوی کا بیان: میں مسماۃ نازش بنت ناصر خان ساکن کوٹ گلہ تحصیل بٹگرام بیان کرتی ہوں کہ میرے شوہر سعد ولد ریاض خان ساکن کوٹ گلہ نے مجھے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی راز کی بات ہے اگر اس کا کسی کو پتہ چل گیا تو تم میرے اوپرطلاق ہوگی،طلاق ہوگی ، طلاق ہوگی اور تو میری ماں بہن ہوگی۔اب وہ راز کی بات لوگوں تک پہنچ گئی ہے اور لوگ اس سے آگاہ ہوچکے ہیں۔
ایک اور موقع پر جبکہ میں اپنے والد کے گھر میں تھی مجھے کال کر کے سعد نے کہا کہ اگر آج تو ہسپتال نہیں گئی تو تُو مجھ پر طلاق ہوگی،طلاق ہوگی(دو دفعہ کہا)۔جب بھی سعد میرے ساتھ جھگڑا کرتا تو کہتا کہ میں آپ کو چھوڑ دوں گا،آپ میرے اوپر طلاق ہوگی(تعداد کا علم نہیں کہ کتنی بار کہا)۔
آج سے 6 ماہ قبل سعد نے مجھے والد کے گھر چھوڑ کر کہا کہ آپ میرے اوپر طلا ق ہے، طلاق ہے ، طلاق ہے جبکہ مذکورہ الفاظِ طلاق (خواہ شرط کے ساتھ معلق ہو یا بغیر شرط کے)اس پر میرے پاس کوئی شرعی گواہ موجود نہیں ہے۔مزید یہ کہ میرا سعد پر کوئی اعتبار نہیں ہے لہذا اس کو قسم دینے کیلئے راضی نہیں ہوں۔
فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق جب بیوی طلاق مغلظہ(تین طلاقیں) کا دعوی کرے اور خاوند اس کا منکر ہو تو اس صورت میں "البینۃ علی المدعی و الیمین علی من انکرہ" کے قاعدہ کے تحت سب سے پہلے بیوی سے اپنے اس دعوی پر کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی ہے شرعی گواہ (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) طلب کئے جائیں گے اگر وہ گواہ پیش کرے تو ان کے درمیان وقوعِ طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن اگر بیوی گواہ پیش نہ کر سکے تو پھر شوہر سے قسم لی جائے گی کہ اس نے واقعی اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ نہیں دی ،اگر وہ قسم کھائے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ نہیں دی تو اس صورت میں شوہر کے قول کا اعتبار کرتے ہوئے اسی کے حق میں فیصلہ کر کے ان دونوں کو بدستور میاں بیوی سمجھا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان وقوع طلاق کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا،البتہ اگر شوہر نے قسم کھانے سے انکار کیا تو پھر بیوی کے قول کا اعتبار کرتے ہوئے وقوع ِ طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا،تاہم اگر بیوی کو مکمل طور پر یقین ہو کہ اس کے شوہر نے اس کو واقعی تین طلاقیں دی ہیں تو اس صورت میں قاضی کی طرف سے طلاق کے عدم ِ وقوع کا فیصلہ دینے کے باوجود بیوی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ شوہر کو اپنے آپ پر قابو نہ دے بلکہ کسی بھی ممکن طریقے سے اس سے اپنی جان چھڑا کر علیحدگی اختیار کرے۔
بصورت صحت سوال چونکہ میاں اور بیوی دونوں کے بیانات میں مکمل تضاد ہے، بیوی کا دعوی ہے کہ شوہر سعد نے اس کو طلاق مغلظہ (تین طلاقیں ) دی ہیں جبکہ شوہر اس کا منکر ہے لہذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق عمل کرتے ہوئے اگر مذکورہ عورت(نازش بنت ناصر) اپنے اس دعوی پر شرعی گواہ پیش کرے کہ اس کے شوہر سعد خان نے اس کو طلاق مغلظہ دی ہے یا سعد خان قسم کے مطالبہ پر قسم سے انکار کرے تو اس صورت میں ان کے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی اور نازش بنت ناصر حرمت مغلظہ کے ساتھ سعد خان پر حرام ہوجائے گی لیکن اگر نازش كے گواه پيش نہ کرنے کی صورت میں سعد خان قسم کھائے کہ اس نے نازش کو کوئی طلاق نہیں دی تو پھر ان کے درمیان کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ وہ دونوں بدستور میاں بیوی رہیں گے،تاہم جیسا کہ سوال سے واضح ہے کہ نازش کو پورا یقین ہے کہ سعد نے اس کو کئی مرتبہ" تو مجھ پر طلاق ہوگی اور تو مجھ پر طلاق ہے" کے الفاظ سے طلاق مغلظہ دی ہے اس لئے نازش پر لازم ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سعد کو اپنے اوپر بالکل بھی قدرت نہ دے اور کسی بھی ممکن طریقے سے چاہے سعد کو طلاق کیلئے راضی کر کے ہو یا خلع کے ذریعے ہو یا پھر عدالت سے فسخ ِ نکاح کی ڈگری حاصل کر کے اپنی جان اس سے چھڑائے۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (البقرة: 230)
و في سنن الدارقطني:
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي , وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ»
(كتاب الوكالة،خبر الواحد يوجب العمل،5/ 276، مؤسسة الرسالة)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل - عليه الصلاة والسلام - البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين.
(كتاب الدعوى ،فصل في حجة المدعي والمدعى عليه،6/ 225 ، مؤسسة الرسالة)
و في رد المحتار:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.
(كتاب الطلاق ،باب صريح الطلاق،3/ 251 ، دار الفكر)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعَتْهُ أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهَا تَمْكِينُهُ هَكَذَا اقْتَصَرَ الشَّارِحُونَ وَذَكَرَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ وَذَكَرَ الْأُوزْجَنْدِيُّ أَنَّهَا تَرْفَعُ الْأَمْرَ إلَى الْقَاضِي فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا بَيِّنَةٌ يُحَلِّفُهُ فَإِنْ حَلَفَ فَالْإِثْمُ عَلَيْهِ اهـ. وَلَا فَرْقَ فِي الْبَائِنِ بَيْنَ الْوَاحِدَةِ، وَالثَّلَاثِ اهـ.
(كتاب الطلاق ،باب ألفاظ الطلاق،3/ 277 ، دار الكتاب الإسلامي)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔