سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-240 Fatwa no: 1447-240

میاں بیوی کے درمیان الفاظِ طلاق میں اختلاف کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 
میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوئی اور اس  کے بعدان کا  ازسرِ نو نکاح  ہوا۔اب نکاح ہونے کے چار سال بعد بیوی کا بیان ہے کہ شوہر نے جو مجھے پہلی مرتبہ طلاق دی تھی وہ ان الفاظ کے ساتھ دی تھی کہ " میں تمہے طلاق دیتا ہوں " اور یہ الفاظ انہوں نے مجھے غصہ میں تین مرتبہ سے بھی زیادہ کہے تھے  اور اس کے بعد یہ بھی کہا کہ " میری طرف سے فارغ ہواپنے بھائیوں کو فون کر کے ان کے پاس چلی جاو" اور اس کے بعد اس نے میرے بھائی کو فون کر کے کہا کہ میں نے اس کو فارغ کردیا آپ آکر اس کو لے جائیں۔  لیکن بعد میں  مجھ پر ان کی طرف سے یہ دباؤ تھا کہ اگر تم نے تین طلاقوں کا کہا تو تمہیں اپنے بچوں سے جدا ہونا پڑے گاحالانکہ اس وقت میرے بچے چھوٹے تھے اس لئے بچوں کیلئے میں نے تین طلاقوں کی بات نہیں کی  لیکن ابھی میں اللہ کو حاضر ناظر مان کر یہ کہتی ہوں کہ اس وقت انہوں مجھے مذکورہ بالا الفاظ کہے تھے اور میں اپنے اس بیان پر حلف لینے کو تیار ہوں۔البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرا خاوند چرس وغیرہ کا نشہ کرتا تھا لیکن جس وقت وہ مجھے طلاق دے رہا تھا اس وقت وہ غصہ ضرور تھا لیکن اس حالت میں نہیں تھا کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھا ہو یا کسی کی پہچان نہ کرسکتا ہو۔
شوہر کا بیان یہ ہے کہ میں نے بیوی کو براہ راست طلاق نہیں دی بلکہ معاملہ ایسا تھا کہ میں نے رات کو نشہ کیا تھا اور پھر جب صبح مجھے جگایا گیا تو بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی جس کے بعد میں گھر سے باہر نکلا اور باہر ہی میں نے اپنی بیوی کے بھائی کو فون پر کہا کہ "میں نے اس کو طلاقیں دی ہیں اس کو لے جائیں"۔میں اپنے اس بیان پر حلف لینے کو بھی تیار ہوں  اور بیوی نے جو بیان دیا ہے اس کی میں بالکل بھی تصدیق نہیں کرتا ہوں۔
اب آپ حضرات اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ مسئلہ کا کیا حکم ہوگا؟جزاکم اللہ خیرا ً

جواب :

فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق جب بیوی طلاق مغلظہ(تین طلاقیں) کا دعوی کرے اور خاوند اس کا منکر ہو تو اس صورت میں "البینۃ علی المدعی و الیمین علی من انکرہ" کے قاعدہ کے تحت سب سے پہلے بیوی سے اپنے اس دعوی پر کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی ہے شرعی گواہ (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) طلب کئے جائیں گے اگر وہ گواہ پیش کرے تو ان کے درمیان وقوعِ طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن اگر بیوی گواہ پیش نہ کر سکے تو پھر شوہر سے قسم لی جائے گی کہ اس نے واقعی اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ نہیں دی ،اگر  وہ قسم کھائے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ نہیں دی تو اس صورت میں شوہر کے قول کا اعتبار کرتے ہوئے اسی کے حق میں فیصلہ کر کے ان دونوں کو بدستور میاں بیوی سمجھا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان وقوع طلاق کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا،البتہ اگر شوہر نے قسم کھانے سے  انکار کیا تو پھر بیوی کے قول کا اعتبار کرتے ہوئے وقوع ِ طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا،تاہم اگر بیوی کو مکمل طور پر یقین ہو کہ اس کے شوہر نے اس کو واقعی تین طلاقیں دی ہیں تو اس صورت میں قاضی کی طرف سے طلاق کے عدم ِ وقوع کا فیصلہ دینے کے باوجود بیوی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ شوہر کو اپنے آپ پر قابو نہ دے بلکہ کسی بھی ممکن طریقے سے اس سے اپنی جان چھڑا کر علیحدگی اختیار کرے۔
 بصورت صحت سوال  چونکہ میاں اور بیوی دونوں کے بیانات میں مکمل تضاد ہے، بیوی کا دعوی ہے کہ شوہر  نے اس کو طلاق مغلظہ (تین طلاقیں ) دی ہیں جبکہ شوہر اس کا منکر ہے اور بیوی کے پاس اپنے دعوی پر کوئی گواہ بھی نہیں ، لہذا گاؤں  کے علماء کرام اور کچھ معزز حضرات مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق عمل کرتے ہوئے شوہر سے قسم لیں کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں نہیں دی۔اگر وہ  قسم سے انکار کرے تو اس صورت میں ان کے درمیان تین طلاقوں  کا فیصلہ کریں جس کے بعد بیوی  حرمتِ مغلظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی لیکن اگرشوہر  قسم کھائے کہ اس نے بیوی کو تین طلاقیں نہیں دی تو پھر ان کے درمیان تین طلاقوں کا فیصلہ نہ کریں ۔تاہم جیسا کہ سوال سے واضح ہے کہ بیوی  کو پورا یقین ہے کہ  شوہرنے اس کو کئی مرتبہ" میں تمہے طلاق دیتا ہوں "  کے الفاظ کہیں  ہیں اس لئے بیوی  پر لازم ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر  کو اپنے اوپر بالکل بھی قدرت نہ دے اور کسی بھی ممکن طریقے سے چاہے شوہر سے  طلاق کا اقرار کرا کے یا اس کو طلاق کیلئے راضی کر کے ہو یا خلع کے ذریعے ہو یا پھر عدالت سے فسخ ِ نکاح کی ڈگری حاصل کر کے   اپنی جان اس سے چھڑائے لیکن ان ساری کوششوں کے باوجود بھی اگر شوہر بیوی کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو زبردستی تعلقات قائم  کرنے کی صورت میں گناہ شوہر پر ہی ہوگا بیوی پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
نوٹ:اگر بیوی کا بیان واقعی حقیقت کے مطابق ہے تو چار سال جو یہ دونوں اکٹھے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ  چکے ہیں اس دوران وہ حرام میں ملوث رہے ہیں اس لئے دونوں کو چاہئے کہ اپنے اس فعل پر خوب توبہ و استغفار کریں اور صدقِ دل سے اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگیں۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ     (البقرة: 230)
سنن الدارقطني:
عن عمرو بن شعيب , عن أبيه , عن جده , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «البينة على المدعي , واليمين على المدعى عليه»
(كتاب السير، خبر الواحد يوجب العمل،5/ 276، مؤسسة الرسالة)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل - عليه الصلاة والسلام - البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين.
 (كتاب الدعوى ،فصل في حجة المدعي والمدعى عليه،6/ 225 ، مؤسسة الرسالة)
رد المحتار:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.
(كتاب الطلاق ،باب صريح الطلاق،3/ 251 ، دار الفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.
(كتاب الطلاق ،باب ألفاظ الطلاق،3/ 277 ، دار الكتاب الإسلامي)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب