نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسؤلہ اگر میت کو مکمل طور پر کپڑے سے ڈھانکا جائے تو اس کے قریب تلاوت کرنا جائز ہے اور اگر اس کو مکمل طور پر کپڑے سے ڈھانکا نہ جائے تو اس صورت میں اس کے قریب تلاوت کرنا مکروہ ہے لیکن اگر قریب بیٹھے لوگ آہستہ آواز سے تلاوت کریں کہ ان کی آواز سنائی نہ دے تو اس صورت میں مکروہ نہیں ہے چاہے میت کو کپڑے سے ڈھانکا گیا ہو یا نہ ڈھانکا گیا ہو۔
الدر المختار:
ويقرأ عنده القرآن إلى أن يرفع إلى الغسل كما في القهستاني معزيا للنتف.
قلت: وليس في النتف إلى الغسل بل إلى أن يرفع فقط، وفسره في البحر برفع الروح. وعبارة الزيلعي وغيره تكره القراءة عنده حتى يغسل، وعلله الشرنبلالي في إمداد الفتاح تنزيها للقرآن عن نجاسة الميت لتنجسه بالموت قيل نجاسة خبث وقيل حدث، وعليه فينبغي جوازها كقراءة المحدث.
حاشية ابن عابدين:
الحاصل أن الموت إن كان حدثا فلا كراهة في القراءة عنده، وإن كان نجسا كرهت، وعلى الأول يحمل ما في النتف وعلى الثاني ما في الزيلعي وغيره. وذكر ط أن محل الكراهة إذا كان قريبا منه، أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة. اهـ.
قلت: والظاهر أن هذا أيضا إذا لم يكن الميت مسجى بثوب يستر جميع بدنه لأنه لو صلى فوق نجاسة على حائل من ثوب أو حصير لا يكره فيما يظهر فكذا إذا قرأ عند نجاسة مستورة وكذا ينبغي تقييد الكراهة بما إذا قرأ جهرا . . . . . الخ
(كتاب الجنائز، باب صلاة الجنازة ، 2/ 193، دار الفکر)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 13 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔