نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں نے ایک آدمی کو کہا کہ آپ میرے لئے فلاں گاڑی خریدے اور خریدنے کے بعد پھر میں آپ سے وہ گاڑی قسطوں پہ خریدوں گا اور پھر ریٹ بھی اسی وقت طے ہوگا۔اب وہ گاڑی وہ آدمی خرید چکا ہے تو کیا میرے لئے جائز ہے کہ میں اس سے وہ گاڑی قسطوں پر کچھ زیادہ قیمت پر خریدوں؟کہیں یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
تنقیح:شروع ہی سے اس آدمی سے میری یہ بات طے ہوئی تھی کہ آپ جب گاڑی خرید لیں گے اور پھر مجھے جس ریٹ پر گاڑی بیچیں گے اگر میں اس ریٹ پر خرید سکا تو خرید لوں گا ورنہ آپ یہ گاڑی کسی اور کو بیچ سکتے ہیں ،میری طرف سے آپ پر لازم نہیں ہوگا کہ آپ نے وہ گاڑی ضرور مجھے ہی بیچنی ہوگی۔
بصورت مسؤلہ آپ کیلئے اپنے ساتھی سے مذکورہ گاڑی نقد یا قسطوں پہ جس طرح چاہے خریدنا جائز ہے ،اس میں کوئی سود نہیں البتہ قسطوں پہ خریداری درست ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ خریداری کے وقت ہی یہ طے کیا جائے کہ مذکورہ گاڑی قسطوں پر خریدی جارہی ہے اور خریداری کے وقت ہی گاڑی کی کل قیمت طے کی جائے اور یہ بھی طے کیا جائےکل کتنی قسطیں ہونگیں اور ایک قسط کتنی مدت کی اور کتنی رقم کی ہوگی اور یہ بھی شرط ہے کہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا ورنہ سود ہوگا اور اگر عقد کے وقت ہی جرمانہ کی شرط لگائی گئی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا۔
في شرح مجلة الأحکام العدلية مع شرح سليم رستم باز:
البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح…يلزم أن تکون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط.
(رقم المادة : 245 ، مکتبة الإتحاد ديوبند)
و في المبسوط للسرخسي:
وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.
(كتاب البيوع ، باب البيوع الفاسدة، 13/ 7، دار المعرفة)
و في بدائع الصنائع:
وکذا إذا قال: بعتک هذا العبد بألف درهم إلی سنة أو بألف وخمسة إلی سنتين؛ لأن الثمن
مجهول، فإذا علم ورضی به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد، وقد زالت في المجلس وله حکم حالة العقد، فصار کأنه معلوم عند العقد . . . الخ
(کتاب البيوع،جهالة الثمن 4/ 358، ط: مکتبة زکريا ديوبند)
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثين فقد أجازوا البيع المؤجّل بأکثر من سعر النقد بشرط أن يبتّ العاقدان بأنه بيع مؤجّل بأجل معلوم بثمن متفق عليه عند العقد . . . الخ
(احكام البيع بالتقسيط ، 1/ 12، معارف القرآن)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔