سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-245 Fatwa no: 1447-245

نمازمیں کھانسی یا مائیک ٹھیک کرنے کیلئے ہاتھ اٹھانے سے نماز کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ
میں ایک مسجد کا امام ہوں اور  مجهے کھانسی کی الرجی ہے۔نماز پڑھاتے ہوئے مائک لگا ہوتا ہے اور   دورانِ نماز مجھے اکثر کھانسی آجاتی ہے جس کی وجہ سے مجھے بار بار ہاتھ منہ پر رکھنا پڑتا ہےتاکہ کھانسی کی آواز مائک میں نہ جائے   اور  نماز میں بار بار مائک بھی درست کرنا پڑتا ہے۔ 
اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا اس طرح ہاتھ منہ پر رکھنے اور بار بار مائک درست کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے یا نہیں کیونکہ عمل کثیر سے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اس طرح بار بار منہ پر ہاتھ رکھنا اور مائک ٹھیک کرنا بھی بظاہر عمل ِ کثیر دکھائی دیتا ہے؟ اس حوالے سے آپ حضرات شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب :

عملِ كثير سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور عملِ کثیر ہر اس عمل کو کہتے ہیں  جو اعمالِ نماز میں سے نہ ہو  اور جس کے کرنے والے کو دیکھ کر یہ یقین ہوسکے کہ یہ بندہ نماز میں نہیں ہےمثلا ً  ،نماز میں  دونوں ہاتھوں سے کوئی کام کرنا یا  کھجلانے یا کھانسی کے وقت تین مرتبہ  ہاتھ اٹھانا وغیرہ وغیرہ  لیکن دونوں ہاتھوں سے کوئی کام کرنے کی صورت میں وہ عملِ کثیر تب ہی شمار ہوگا کہ خارج میں بھی اس کام کو کرنے میں دونوں ہاتھ استعمال ہوتے ہوں، بصورت دیگر وہ عملِ قلیل ہوگا،ایسے ہی  تین مرتبہ ہاتھ اٹھانا بھی عملِ کثیر تب ہی شمار ہوگا  کہ جب ایک ہی رکن مثلا ً تشہد ، قیام  یا قعدہ وغیرہ میں وہ عمل  الگ الگ طور پر تین مرتبہ  کیا جائے اور تینوں مرتبہ کی حرکات لگاتار ہوں اور لگاتار کا مطلب یہ ہے کہ     تینوں دفعہ ہاتھ اٹھانے کی درمیانی مدت یا درمیانی وقفہ اس مدت یا وقفےسے کم ہو کہ جس میں  تین مرتبہ سبحان ربی اعلی ٰ کہا جاسکے،بصورت دیگر وہ بھی عملِ قلیل  ہوگا اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔
بصورت مسؤلہ اگر آپ  کھانسی اور مائیک ٹھیک کرنے کیلئے ایک ہی رکن میں لگاتار تین مرتبہ  ہاتھ اٹھائیں گے  پھر تو آپ  کی اور مقتدیوں کی نماز فاسد ہوگی لیکن اگر آپ ایک رکن میں صرف ایک مرتبہ ہاتھ اٹھائیں گے  یا ایک ہی رکن میں بقدر رکن  وقفہ  کرکے بار بار ہاتھ اٹھائیں گےتو اس صورت میں عمل کثیر نہ پائے جانے کی وجہ سے نہ آپ کی نماز فاسد ہوگی اور نہ آپ کے مقتدیوں کی ،البتہ نماز میں بار بار مائیک ٹھیک کرنا مناسب نہیں  اس لئے  اگر ایک مرتبہ ٹھیک کرنے سے مائیک ٹھیک ہوجاتا ہے تو اچھا ہے ورنہ بار بار مائیک کو ٹھیک کرنے کیلئے ہاتھ  اٹھانے کی بجائے  پہلے سے کسی کو مقرر کريں   کہ وہ ایسے موقع پر آپ کے پیچھے تکبیر کہا کریں۔
في الدر المختار:
(و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها ولا لإصلاحها، وفيه أقوال خمسة أصحها (ما لا يشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها) وإن شك أنه فيها أم لا فقليل . . . . . الخ
و تحته في الشامية:
(قوله ليس من أعمالها) احتراز عما لو زاد ركوعا أو سجودا مثلا فإنه عمل كثير غير مفسد لكونه 
منها غير أنه يرفض لأن هذا سبيل ما دون الركعة ط قلت: والظاهر الاستغناء عن هذا القيد على تعريف العمل الكثير بما ذكره المصنف تأمل (قوله ولا لإصلاحها) خرج به الوضوء والمشي لسبق الحدث فإنهما لا يفسدانها ط. قلت: وينبغي أن يزاد ولا فعل لعذر احترازا عن قتل الحية أو العقرب بعمل كثير على أحد القولين كما يأتي، إلا أن يقال إنه لإصلاحها لأن تركه قد يؤدى إلى إفسادها تأمل (قوله وفيه أقوال خمسة أصحها ما لا يشك إلخ) صححه في البدائع، وتابعه الزيلعي والولوالجي. وفي المحيط أنه الأحسن. وقال الصدر الشهيد: إنه الصواب. وفي الخانية والخلاصة: إنه اختيار العامة. وقال في المحيط وغيره: رواه الثلجي عن أصحابنا حلية.
القول الثاني أن ما يعمل عادة باليدين كثير وإن عمل بواحدة كالتعميم وشد السراويل وما عمل بواحدة قليل وإن عمل بهما كحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها إلا إذا تكرر ثلاثا متوالية وضعفه في البحر بأنه قاصر عن إفادة ما لا يعمل باليد كالمضغ والتقبيل. الثالث الحركات الثلاث المتوالية كثير وإلا فقليل.
الرابع ما يكون مقصودا للفاعل بأن يفرد له مجلسا على حدة. قال في التتارخانية: وهذا القائل: يستدل بامرأة صلت فلمسها زوجها أو قبلها بشهوة أو مص صبي ثديها وخرج اللبن: تفسد صلاتها.
الخامس التفويض إلى رأي المصلي، فإن استكثره فكثير وإلا فقليل قال القهستاني: وهو شامل للكل وأقرب إلى قول أبي حنيفة، فإنه لم يقدر في مثله بل يفوض إلى رأي المبتلى. اهـ. قال في شرح المنية: ولكنه غير مضبوط، وتفويض مثله إلى رأي العوام مما لا ينبغي، وأكثر الفروع أو جميعها مفرع على الأولين. والظاهر أن ثانيهما ليس خارجا عن الأول، لأن ما يقام باليدين عادة يغلب ظن الناظر أنه ليس في الصلاة، وكذا قول من اعتبر التكرار ثلاثا متوالية فإنه يغلب الظن بذلك، فلذا اختاره جمهور المشايخ. اهـ.
(قوله ما لا يشك إلخ) أي عمل لا يشك أي بل يظن ظنا غالبا شرح المنية وما بمعنى عمل، والضمير في بسببه عائد إليه والناظر فاعل يشك، والمراد به من ليس له علم بشروع المصلي بالصلاة كما في الحلية والبحر. وفي قول الشارح من بعيد تبعا للبدائع والنهر إشارة إليه لأن القريب لا يخفى عليه الحال عادة فافهم (قوله وإن شك) أي اشتبه عليه وتردد. 
(کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها،1/624 ، دار الفکر)
و في الفتاوى السراجية:
’’لوحک جسده بأصبع ثلاث مرات متوالياً تفسد صلاته ‘‘.
(کتاب الصلاة ، ص:84، زمزم)
و في الهندية:
العمل الكثير يفسد الصلاة والقليل لا. كذا في محيط السرخسي واختلفوا في الفاصل بينهما على ثلاثة أقوال (الأول) أن ما يقام باليدين عادة كثير وإن فعله بيد واحدة كالتعمم ولبس القميص وشد السراويل والرمي عن القوس وما يقام بيد واحدة قليل وإن فعل بيدين كنزع القميص وحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها ونزع اللجام. . . . .(والثالث) أنه لو نظر إليه ناظر من بعيد إن كان لا يشك أنه في غير الصلاة فهو كثير مفسد وإن شك فليس بمفسد وهذا هو الأصح. هكذا في التبيين وهو أحسن. كذا في محيط السرخسي وهو اختيار العامة كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة.
(کتاب الصلاة، الباب السابع،1/101 ، دار الفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب