سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-246 Fatwa no: 1447-246

والد مرحوم کا ترکہ اس کے تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب جن کا نام محمد طارق تھا وہ 2022 میں فوت ہوچکے ہیں ۔ہم نے ایک گائے پال رکھی ہے جو کہ ہمارے والد صاحب کے وقت کی ہے۔والد صاحب نے اس گائے کے بارے میں کہا تھا کہ جب یہ گائے بوڑھی ہوجائے گی تو اس کو صدقہ کریں گے۔اب گھر میں میں اکیلا ہوں میری تین بہنیں ہیں جن میں سے دو کی شادی ہوچکی ہے  اور ایک کی نہیں ہوئی۔میرے اوپر تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے قرضہ ہے اور گھر میں کمانے والا میں اکیلا بندہ ہوں۔وہ گائے ہم نے آج 147000 روپے کی بیچ دی۔اب آپ حضرات اس بارے میں کیا فرماتے ہیں

جواب :

آپ کے والد کا یہ کہنا کہ ہم اس گائے کو بوڑھا ہونے پر صدقہ کریں گے یہ محض ان کا ارادہ تھا کوئی وصیت نہیں تھی لہذا بصورت مسؤلہ اس گائے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری نہیں البتہ اگر یہ گائے آپ کے والد مرحوم کی ملکیت تھی تو اس صورت میں مذکورہ رقم صرف آپ کی ملکیت شمار نہیں ہوگی بلکہ یہ رقم آپ کے والد مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا جو مرحوم کے حقوق متقدمہ (کفن دفن کا خرچہ،قرض کی ادائیگی ،وصیت وغیرہ) ادا کرنے کے بعدان کے تمام شرعی ورثاء میں ان  کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا البتہ اگر ورثاء مرحوم کے ارادہ کو پورا کرنے کیلئے اپنا اپنا حصہ صدقہ کرتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے اور اس پر ان کو اجر بھی ملے گا لیکن چونکہ آپ لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جیسا کہ سوال سے واضح ہے اس لئے تمام ورثاء اپنا اپنا حصہ بغیر کسی شک و شبہ کے  اپنی ضروریات میں خرچ کرسکتے ہیں۔
الهندية:
التركة تتعلق بها حقوق أربعة. . . . . ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض . . . . . ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث . . . . . الخ
(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض،6/ 447 ، دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Mar 2026

واللہ اعلم بالصواب