سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-247 Fatwa no: 1447-247

وقف زمین پر قبضہ کر کے اس میں کاشتکاری کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے دادا جان نے اپنی زندگی میں اپنی تمام  جائیداد میں سے  اپنے2 بیٹوں اور 1بیٹی کو حصہ دیا اور باقی ایک کھیت اپنے لئے چھوڑ کر مسجد اور قبرستان کے لیے وقف کی تھی لیکن میرے چاچا جان نے اس کھیت پر قبضہ کر کے اس پر کاشتکاری کر دی اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں وقف جگہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر فائدہ اٹھایا جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔
تنقیح:دادا جان نے جو کھیت وقف کر دیا تھا اس پر دادا کی فوتگی کے بعد مسجد اور قبرستان بنی ہے لیکن مزید بھی اس کھیت میں کچھ جگہ خالی رہ گئی تھی جس پر اب میرے چچا نے قبضہ کیا ہے اور ابھی اس میں کاشتکاری کی ہے اور وہ اب ہمیں یہ کہہ رہ ہیں کہ یہ جگہ آپ کے والد نے مجھے دی تھی حالانکہ میرے والد صاحب دو سال قبل فوت ہوچکے ہیں اور سب کو پتہ ہے کہ وہ زمین تو میرے دادا نے وقف کی تھی اور ابھی یہ پہلی ہی فصل ہے جو انہوں نے لگائی ہے اور ابھی تک یہ  پہلی فصل  بھی نہیں کٹی۔

جواب :

وقف صحیح اور تام ہونے کے بعد موقوفہ چیز ہمیشہ کیلئے واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے جس کے بعد واقف کیلئے اس کو استعمال کرنا ، اس کو بیچنا اس میں تعمیر یا  کاشت کرنا یا کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھانا جو جہتِ وقف کے خلاف ہو بالکل بھی جائز نہیں۔
بصورت مسؤلہ  اگر واقعی آپ کے دادا نے مذکورہ جگہ وقف کی تھی تو اس صورت میں آپ کے چچا کا اس جگہ پر کوئی حق نہیں اور ان کا اس جگہ پر قبضہ کرنا اور اس میں کاشتکاری کرنا ناجائز ہے کیونکہ یہ جگہ صرف اسی  مسجد اور قبرستان کے مصالح میں استعمال کی جاسکتی ہے،لہذا آپ کے چچا پر لازم ہے کہ فوراً اس جگہ کو فصل سے فارغ کر کے اس سے اپنا قبضہ ختم کرے ،بصورت دیگر ان کو آخرت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
في الدر المختار
(ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ..... (فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) فبطل شرط واقف الكتب، الرهن شرط كما في التدبير.
و تحته في الشامية:
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله وسيأتي الكلام عليه، وعلى بيع الوقف إذا افتقر الواقف، لم يكن مسجلا، ويستثنى من عدم الإعارة ما لو كان دارا موقوفة للسكنى؛ لأن من له السكنى له الإعارة كما صرح به في البحر وغيره، بخلاف الموقوف للاستغلال.
(كتاب الوقف، مطلب في وقف المرتد والكافر، 4/ 352-348 ،  دار الفكر)
و في مجمع الانهر:
" (ولو شرط) الواقف (الولاية لنفسه وكان خائنا تنزع منه) أي يعزل القاضي الواقف المتولي على وقفه (وإن) وصلية، شرط الواقف (أن لا تنزع) لأنه شرط مخالف للحكم الشرعي فيبطل وبهذا علم أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع ليس على عمومه وتمامه في البحر.
(كتاب الوقف ،الوقف في المرض، 1/ 753 ،دار إحياء التراث العربي)
و في الهندية:
أما تعريفه فهو في الشرع عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حبس العين على ملك الواقف والتصدق بالمنفعة على الفقراء ..... وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما ..... الخ
(كتاب الوقف، الباب الأول، 2/ 350 ،دار الفكر )

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب