نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص کا دینی کتب کا کاروبار ہے اور اس میں ایک مد اس نے غریب طلباء اور علماء کو مفت کتابیں دینے کی رکھی ہے اور اس کیلیے مخیر حضرات سے بات کی جاتی ہے جو صدقات واجبہ اور نافلہ کی مد میں کتابوں کی قیمتوں کی ادائیگی کرتے ہیں اور اسی طرح ایک دوسری صورت یہ بھی رکھی ہے کہ بعض اوقات مثلا کتاب کی قیمت 5 ہزار ہے تو مستحق طلباء سے کہتے ہیں کہ آپ 1500 دے دیں باقی زکات کی مد میں ادائیگی ہو چکی ہے تو کیا یہ دونوں صورتیں شرعا جائز ہیں یا نہیں اور تاجریعنی کتب خانہ والے کا ان مدات کی صورت میں اپنا نفع رکھنا کیسا ہے۔
بصورت مسؤلہ جو لوگ مذکورہ کتب خانہ کے مالک کو زکوۃ یا صدقات نافلہ کی رقم دیتے ہیں کتب خانہ کا مالک مستحقین تک ان کی زکوۃ اور صدقات پہنچانے میں ان کا وکیل ہے لہذا اگر مؤکلین (زکوۃ اور صدقات دینے والے) کی طرف سے یہ اجازت ہو کہ ان کی رقم کتابوں کی صورت میں مستحقین تک پہنچائی جائے تو سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتوں کے مطابق کتب خانہ کے مالک کیلئے زکوۃ اور صدقات کی مد میں مستحقین کو اپنے کتب خانہ کی کتابیں دینا اور مذکورہ رقم سے اس کی قیمت لینا جائز ہے ،بشرطیکہ کتب خانے کا مالک مارکیٹ ریٹ کے مطابق اپنے لئے نفع رکھے اس سے زیادہ نہیں بصورت دیگر زکوہ تو ادا ہوجائے گی لیکن کتب خانہ کے مالک نے جو مارکیٹ ریٹ سے زائد نفع لیا ہوگا وہ خلاف مروّت ہوگا۔
في الدر المختار:
وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.
و تحته في الشامية:
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت . . . الخ
(كتاب الزكاة ، 2/ 269، دار الفکر)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا وإلى امرأته إذا كانوا محاويج ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيأ اه. إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه. كذا في الولوالجية.
(كتاب الزكاة ، شروط أداء الزكاة، 2/ 369، دار الكتاب الإسلامي)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب . . . الخ
(كتاب الزكاة ، فصل شرائط جواز النصاب، 2/ 53 ، دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔