سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-249 Fatwa no: 1447-249

وکیل بالشراء كا فروخت كننده سے كميشن لينے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
مختلف کمپنیاں اپنے دفتر کے تنخواہ دار لوگوں کو مارکیٹ بھیجتی ہے کہ وہ کمپنی کیلئے ماہانہ کرایہ پر مشینری حاصل کریں ، جب کمپنیوں کے لوگ ہمارے پاس مشین کرایہ پر  لینے کی ڈیل کرنے آتے ہیں تو وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کمپنی کو جس ریٹ پر مشینری دیں گے اس میں سے ہمیں کمیشن دیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ تو کمپنی کے وکیل کے طور پر آتے ہیں  اگر ہم ان کو کمیشن دیتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟ اس کمیشن سے کمپنی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔آجکل مارکیٹ میں یہ طریقہ کار عام ہے  اگر ہم انکار کرتے ہیں تو وہ دوسروں کے پاس جاکر ان سے اپنی ڈیل کرلیتے ہیں ، انکار کی صورت  میں ہمیں کاروبار کا نقصان ہوتا ہے ۔برائے مہربانی  ہماری رہنمائی فرمائیں اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔

جواب :

 مذکورہ اشخاص کمپنی کے ملازمین ہوتے ہیں جن کو کمپنی کی طرف سے باقاعدہ متعین اجرت ملتی ہے  اور کمپنی کیلئے مشینری خریدنے کے معاملہ میں ان کی حیثیت کمپنی کے وکیل بالشراء کی ہوتی ہیں  اس لئے بصورت مسؤلہ کمیشن کے نام پر کچھ لینا دینا  آپ دونوں(فروخت کنندہ اور کمپنی کا ملازم) کے حق میں رشوت ہے جس سے اجتناب ضروری ہے،البتہ اگر آپ (فروخت کنندہ )کمپنی کو دی جانے والی مشینری کی قیمت میں کمیشن کی رقم نہ کاٹیں بلکہ الگ سے اپنی ذاتی رقم سے بطور ہدیہ دیں اورمشینری بھی معیاری اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق  ہواورمذکورہ ملازمین متعلقہ کمپنی کوآگاہ کریں کہ کمپنی کیلئے خریداری کرتے وقت ہمیں فروخت کنندہ کی طرف سے کچھ کمیشن دی جاتی ہے اور  کمپنی کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو تو اس صورت میں یہ بطور ہدیہ کچھ لینا اور دینا جائز ہے۔  
سنن ابي داؤد:
عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "لعنة الله على الراشي والمرتشي"
(أبواب الأحكام ،باب الحاكم يجتهد فيصيب الحق ،3/411 ،دار الرسالة العالمية)
الفتاوى الهندية:
(وأما حكمها) فمنه قيام الوكيل مقام الموكل فيما وكله به...الخ
(كتاب الوكالة ، الباب الاول ، 3/ 566 ، دار الفكر)
ردالمحتار على الدرالمختار:
(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها 
إلى هبة العين (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي....الخ
(كتاب الهبة ،5/687 ، دار الفكر)
الفتاوى الهندية:
أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز.وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له حتى لو حلف أن لا يهب فوهب ولم يقبل الآخر حنث، كذا في محيط السرخسي.
(كتاب الهبة، الباب الأول، 5/687،دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب