سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-250 Fatwa no: 1447-250

آفس میں باپردہ خواتین کاکام کرنےکاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں ایک پراپرٹی ڈیلر ہوں،میرےساتھ کئی مرد حضرات بھی کام کررہے ہیں،تاہم  اب بعض خواتین کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے،آپ حضرات سے یہ شرعی  مسئلہ پوچھنا ہے،کہ اگرمیں کسی باپردہ خاتون کو ایک آفس میں رکھوں،جہاں مردوں کےساتھ بالکل اختلاط نہ ہو،صرف عورت کاکام یہ ہو،کہ وہ فون پرلوگوں کےساتھ ڈیل کرتی رہے،اورجب کلائینٹ آناچاہئے،تو اگرمرد ہے،تو ان کےساتھ ڈیل بھی یہاں  مرد کرینگے،اوراگرخاتون ہے،تو آفس میں موجود مذکورہ لیڈی    اس کےساتھ ڈیل کریگی،تو کیا ان تمام باتوں کی رعایت رکھتے ہوئے میں کسی عورت کو نوکری پررکھ سکتا ہوں یانہیں؟ تفصیل کےساتھ جواب عنایت فرمائیں۔والسلام 

جواب :

بصورتِ مسئولہ چونکہ پراپرٹی  کےکاروبار میں عموماً واسطہ مرد ہی سےپڑتاہے،اس لئے احتیاط اسی میں ہے،کہ مرد ملازم ہی پر اکتفاء کیاجائے،کیونکہ آج کل فتنوں کادور ہے،کسی عورت کااجنبی مردسےباتیں کرنافتنےسےخالی نہیں،اس لئےاس سےاحترازہی بہترہے،تاہم اگرکسی عورت کوملازمہ کےطورپررکھنا ضروری  ہو،تو پھرسوال میں  مذکورہ  تمام شرائط کےساتھ ساتھ درج ذیل شرائط کالحاظ رکھنا بھی ضروری ہے:
1۔عورت دفتر میں اپنےمحرم کےساتھ آنے كی کوشش کرے۔
2۔فون پراجنبی مردوں کےساتھ غیرضروری باتوں سے مکمل طور پراحتراز کرے۔
3۔بات کرنےکےدوران آواز لچک دار اورنرم نہ رکھے،بلکہ سخت لہجہ اختیار کرے،تاہم چونکہ یہ ڈیلر کا مسئلہ ہے اس میں ایسی نرم کلام ہی کرنی پڑتی ہے جس سے خریدار کو ڈیل کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے ، اس لئے بظاہر عورت کے ڈیل کے لئے بات کرنے میں فتنہ ہے اس لئے یہ کام مردوں کے ذریعے سے کیا جائے نہ عورت کے ذریعے ۔
قال الله تعالى:{يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا  [سورة الأحزاب: 32]
في الموسوعة الفقهية الكويتية: الاِخْتِلاَطُ إِذَا كَانَ فِيهِ:أ - الْخَلْوَةُ بِالأْجْنَبِيَّةِ، وَالنَّظَرُ بِشَهْوَةٍ إِلَيْهَاوعَبَثٌ وَلَهْوٌ وَمُلاَمَسَةٌ لَلأْبْدَانِ كَالاِخْتِلاَطِ فِي الأْفْرَاحِ وَالْمَوَالِدِ وَالأْعْيَادِ، فَالاِخْتِلاَطُ الَّذِي يَكُونُ فِيهِ مِثْل هَذِهِ الأْمُورِ حَرَامٌ، لِمُخَالَفَتِهِ لِقَوَاعِدِ الشَّرِيعَةِ.
قَال تَعَالَى: {قُل لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ} . . . {وَقُل لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ} ...  وَيَجُوزُ الاِخْتِلاَطُ إِذَا كَانَتْ هُنَاكَ حَاجَةٌ مَشْرُوعَةٌ مَعَ مُرَاعَاةِ قَوَاعِدِ الشَّرِيعَةِ وَلِذَلِكَ جَازَ خُرُوجُ الْمَرْأَةِ لِصَلاَةِ الْجَمَاعَةِ وَصَلاَةِ الْعِيدِ، وَأَجَازَ الْبَعْضُ خُرُوجَهَا لِفَرِيضَةِ الْحَجِّ مَعَ رُفْقَةٍ مَأْمُونَةٍ مِنَ الرِّجَال.كَذَلِكَ يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ مُعَامَلَةُ الرِّجَال بِبَيْعٍ أَوْ شِرَاءٍ أَوْ إِجَارَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ. وَلَقَدْ سُئِل الإْمَامُ مَالِكٌ عَنِ الْمَرْأَةِ الْعَزَبَةِ الْكَبِيرَةِ تَلْجَأُ إِلَى الرَّجُل، فَيَقُومُ لَهَا بِحَوَائِجِهَا، وَيُنَاوِلُهَا الْحَاجَةَ، هَل تَرَى ذَلِكَ لَهُ حَسَنًا؟ قَال: لاَ بَأْسَ بِهِ(اختلاط الرجال بالنساء:2/ 290)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب