سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-251 Fatwa no: 1447-251

ٹاپ مارنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
پراپرٹی کےکاروبار میں میں بسا اوقات ایسا بھی ہوتاہے،کہ ایک دکان یاگھرکامالک پراپرٹی ڈیلر سےکمیشن طے کرکےگھریادکان بیچنےکےلئےحوالہ کرتاہے،کبھی یہ بھی بتادیتاہے،کہ مثلا اس کو پچاس(50) یاپچپن (55)لاکھ تک بیچ دے،اورکبھی یہ وضاحت نہیں ہوتی،پراپرٹی ڈیلر اس کو پچپن (55)یاتریپن(53) میں بیچ دیتاہے،اوراصل مالک کوپچاس لاکھ ہی دےدیتاہے،کہ اسی کا بیچا ہے،اس کو مارکیٹ میں "ٹاپ"مارنا کہتے ہیں،اوریہ آج کل بکثرت پایاجاتاہے،کیا شرعا ایسا کرنا درست ہے یانہیں؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ کمیشن ایجنٹ کےلئےاپنےطےشدہ کمیشن کےعلاوہ دکان یاگھرکے   مالک کی اجازت کےبغیر ایک پیسہ  لینا بھی شرعا ناجائز اورحرام ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے"اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کےمال ناحق طریقے سےنہ کھاؤ،الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو(تو وہ جائز ہے)اسی طرح ایک  حدیث میں  وارد ہے،آپﷺ نےفرمایا"وہ گوشت جس نےحرام مال سےپرورش پائی ہے،جنت میں داخل نہیں ہوگا"لہذاشریعت میں "ٹاپ مارنے"کا کوئی  جوازنہیں،بلکہ یہ بیک وقت جھوٹ،فراڈ اورخیانت پرمشتمل ہے،اس لئے اس سے احتراز ضروری ہے۔
قال الله تعالى :يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَينَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ(سورة النساء4/29)
في سنن الدارمي:عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ(باب السحت: 3/ 1827:دارالمغني)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب