نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی ڈاکٹر مریض کو فیس معاف کردے اور چٹ پر لکھ بھی دے ، لیکن سٹور والوں سے کہے کہ فیس دوائی میں ایڈجسٹ کرلیں یعنی لےلیں تو کیا یہ فیس جائز ہوگا اور سٹور والے لے سکتے ہیں ؟
بصورت مسئولہ چونکہ صاحب حق یعنی ڈاکٹر صاحب اپنا حق ایک مرتبہ معاف کرچکا ہے ،لہذا مریض کی رضامندی کے بغیر سٹور والوں کیلئے دوائی کی قیمت بڑھاکرڈاکٹر کی فیس لینا جائز نہیں ۔
كما في الفتاوى الهندية:
ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم ينفرد الواهب بذلك هكذا في الذخيرة.
(ألباب الخامس في الرجوع في الهبة،ج7،ص343،ط:مكتبة رشيدية)
وفي المحيط البرهاني :
يجب أن يعلم بأن الرجوع في الهبة لا يصح إلا بقضاء أو برضا، إما لأن الرجوع مختلف فيه بين العلماء فكان في أصل ثبوته نوعها، أو لأن فيه قطع الملك على الموهوب له، وقطع الملك على الإنسان من غير قضاء ولا رضا لا يجوز.
(ألفصل الخامس في الرجوع في الهبة،ج9،ص188،ط:إدارة القرآن )
Mufti
تاریخ جواب: 10 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 11 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔