سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-21 Fatwa no: 1447-21

اپنا حق معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی ڈاکٹر مریض کو فیس معاف کردے اور چٹ پر لکھ بھی دے ، لیکن سٹور والوں سے کہے کہ فیس دوائی میں ایڈجسٹ کرلیں یعنی لےلیں تو کیا یہ فیس جائز ہوگا اور سٹور والے لے سکتے ہیں ؟

جواب :

بصورت مسئولہ چونکہ صاحب حق یعنی ڈاکٹر صاحب اپنا حق ایک مرتبہ معاف کرچکا ہے ،لہذا مریض کی رضامندی کے بغیر سٹور والوں کیلئے  دوائی کی قیمت بڑھاکرڈاکٹر کی فیس  لینا جائز نہیں ۔
كما في الفتاوى الهندية:
ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم ينفرد الواهب بذلك هكذا في الذخيرة.
(ألباب الخامس في الرجوع في الهبة،ج7،ص343،ط:مكتبة رشيدية)
وفي المحيط البرهاني :
يجب أن يعلم بأن الرجوع في الهبة لا يصح إلا بقضاء أو برضا، إما لأن الرجوع مختلف فيه بين العلماء فكان في أصل ثبوته نوعها، أو لأن فيه قطع الملك على الموهوب له، وقطع الملك على الإنسان من غير قضاء ولا رضا لا يجوز.
(ألفصل الخامس في الرجوع في الهبة،ج9،ص188،ط:إدارة القرآن )

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 May 2026

واللہ اعلم بالصواب