سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-253 Fatwa no: 1447-253

زمین کی فائل خریدنااوربیچنا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ جب سوسائٹی والے کوئی زمین خریدتے ہیں،تو سب سے پہلے اس کانقشہ بنایاجاتاہے نقشہ میں پوری زمین کوسیکٹرز میں تقسیم کیاجاتاہے(مثلا اے۔بی۔سی)اس کےبعدان سیکٹرز میں  پلاٹوں کی مقدار مثلا پانچ مرلے،دس مرلے وغیرہ،اور پلاٹوں کی  قیمتیں متعین کی جاتی ہیں ،تاہم سیکٹرمیں اس پلاٹ کی تعیین بعد میں قرعہ اندازی سے ہوگی،اس کےبعد ان پلاٹوں کی فائلز تیار کی جاتی ہیں ،فائل میں  پلاٹ سے متعلق تمام تفصیلات موجود ہوتی  ہیں،پھرممبرز کےدرمیان فائلز کی قرعہ اندازی ہوتی ہے،جن لوگوں کےحصے میں فائلز  آجاتی ہیں،ان میں سے بعض لوگ  پوری رقم ادا کرتے ہیں،جبکہ بعض لوگ  کچھ اڈوانس  ادا کرتے ہیں اورکچھ قسطوار۔ تو کیا سوسائٹی والوں سےفائل خریدنا اوراس کوآگےبیچنا شرعاجائز ہےیانہیں۔وضاحت فرمائیں۔

جواب :

مذکورہ مسئلہ سمجھنے سےپہلے تمہیدی طورپرچند باتیں سمجھنا ضروری ہے۔
1۔کہ منقولی (جو چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل کی جاسکتی ہو)چیز جب تک قبضہ میں نہ آئی ہو،اس وقت اس کو آگے بیچناشرعاجائزنہیں ہے،البتہ غیرمنقولی چیز جیساکہ زمین وغیرہ کوآگے بیچنےکےلئےقبضہ ضروری نہیں ۔
2۔کسی بھی عقد کےلئےضروری ہے،کہ اس میں ایسی جہالت نہ ہو،جومفضی الی النزاع یعنی جھگڑےوفساد کاسبب بن رہی ہو،بصورت دیگرعقد درست نہ ہوگا۔
3۔پراپرٹی کےکاروبار میں" فائل"بذات خود کوئی مقصودی چیزنہیں،بلکہ یہ زمین کےایک خاص حصہ کی نمائندگی کرتی ہے،لہذا اگراس زمین کی خریدوفروخت شرعا درست ہو،توفائل کی خرید وفروخت درست ہوگی بصورتِ دیگرنہیں۔اس تمہید کےبعداصل مسئلہ ملاحظہ ہو۔
بصورتِ مسئولہ  چونکہ نقشےکی حد تک پلاٹ کی مقدار اورقیمت متعین ہے۔لہذا اگرسارےممبرزپلاٹ کی تعیین کےلئےبعد میں قرعہ اندازی پرراضی ہوں، تواس صورت میں سوسائٹی  والوں سے اس  پلاٹ کی فائل خریدنااوراس کوآگے بیچناشرعادرست  ہوگا،کیونکہ  مبیع (پلاٹ)معلوم ہے یعنی  اس میں کوئی ایسی جہالت نہیں ،جو بعد میں  لڑائی جھگڑےکاسبب  ہو۔
في فقه البيوع:وقد تباع قطعة من الارض مقدرة بالخطوات او الامتا،ولكن يترك تعيينها للمستقبل.وهذا يكون عادة في ارض واسعة تشتريها شركة،ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات اوالامتار،فمثلا كل قطعة منها بقدر خمسائة متر،ولكن لايتعين محل تلك الخمسمائة عند الشرا‘.وإنما يتعين حسب التصميم الذي تعلمه الشركة فيما بعد.فالسوال:هل يصح هذا البيع على انه بيع حصة مشاعة من تلك الارض الواسعة؟وهل يجوزلمن يشتريها ان يبيعها إلى الاخر؟
وتخرج هذه المسئلة على ما ذكره الفقهاء الحنفية من ان باع عشرة اذرع غير معينة من دار،فان هذاالبيع فاسد عندابي حنيفة رحمه الله،لجهالة القدرالمبيع...وقال صاحباه يجوز ذلك على أساس انه بيع لحصة مشاعة من الدار وبيع المشاع جائز.

وفی البحرالرائق:قوله :( صح بيع العقارقبل قبضه ) أي عند أبي حنيفة وأبي يوسف ، وقال محمد لا يجوز لإطلاق الحديث ، وهو النهي عن بيع ما لم يقبض، وقياسا على المنقول وعلى الإجارة ، ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله ولا غرر فيه لأن الهلاك في العقارنادر بخلاف المنقول ، والغرر المنهي غرر انفساخ العقد ، والحديث معلول به عملا بدلائل الجواز‘‘۔(کتاب البیوع(ﻓَﺼْﻞٌ) ﻓِﻲ ﺑَﻴَﺎﻥِ اﻟﺘَّﺼَﺮُّﻑِ ﻓِﻲ اﻟْﻤَﺒِﻴﻊِ ﻭَاﻟﺜَّﻤَﻦِ ﻗَﺒْﻞَ ﻗَﺒْﻀِﻪِ:6/126:دارالكتاب العربي)
وفی بدائع الصنائع :( وأما ) بيع المشتري العقار قبل القبض فجائز عنه عند أبي حنيفة ، وأبي يوسف استحسانا‘‘۔(ج:5 ،ص: 181، ط: دارالکتب العلمية)
وفي شرح المجلة للاحكام  العدلية:للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا ( باب البيوع المادة 235، ج:1 ،ص: 104، ط:دارالکتب العلمية، بيروت)
في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (وفسد بيع عشرة اذرع من دار لا اسهم) وهذا عند أبي حنيفة. وقالا: هو جائز كما لو باع عشرة أسهم من دار. ومبنى الخلاف في مؤدى التركيب، فعندهما شائع كأنه باع عشر مائة وبيع الشائع جائز اتفاقا، وعنده مؤداه قدر معين والجوانب مختلفة الجودة فتقع المنازعة في تعيين مكان العشرة فيفسد البيع، فلو اتفقوا على مؤداه لم يختلفوا(ط العلمية 5/ 486)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب