سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-254 Fatwa no: 1447-254

عقد مضاربہ اورمشارکہ میں نفع کی تقسیم کاطریقہ کار

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں  کہ ایک آدمی مجھے سرمایہ کاری کےلئے دس لاکھ روپے دیناچاہتاہے،معاہدہ ہمارا یہ طے ہوا،کہ جتنا منافع ہوگا،اس میں سےساٹھ فی صد نفع شخص مذکور کا ہوگا،جبکہ چالیس فیصد میرا ہوگا،اب پوچھنا یہ ہے:
1-کہ کیا ہمارا یہ عقد شرعا درست ہےیانہیں؟ 
2۔اگرکسی وجہ سےنقصان ہوجاتاہے،تو اس کی تلافی کی کیا صورت ہوگی؟میں بھی اس نقصان میں شریک ہونگا یانقصان صرف سرمایہ کارکا ہوگا۔
3۔اگرسرمایہ کاری کرنےوالا یہ شرط لگائے،کہ نقصان کی صورت میں آپ  ہی ضامن ہونگے،تو کیا اس کا یہ شرط شرعاً معتبر ہوگا یانہیں ؟وضاحت فرمائیں۔
تنقیح:اس دس لاکھ کےساتھ آپ اپنا سرمایہ بھی لگائینگے،یا صرف آپ  شخص مذکور کی رقم سے کاروبار کرینگے؟
جواب تنقیح: دونوں صورتوں کا حکم  واضح فرمائیں۔

جواب :

مذکورہ مسائل سمجھنےسے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے،کہ اگرکسی عقد میں ایک آدمی کی طرف سےمال  ہواوردوسری آدمی کی طرف سے فقط محنت،تو اس عقد کو شریعت کی اصطلاح میں "مضاربہ"کہا جاتاہے،اوراگردونوں طرف سےمال بھی ہو اورمحنت بھی  ،یا مال دونوں طرف سے ہو لیکن محنت ایک طرف سے ہوتو اس عقد کو شریعت کی اصطلاح میں "مشارکہ "کہا جاتاہے۔اس تمہید کےبعد پوچھے گئے مسائل کےجوابات ملاحظہ ہوں۔
بصورت مسئولہ:
1۔ مضاربت کی صورت میں عقد مذکور بلاکسی شرط کےدرست ہے،جبکہ مشارکہ کی صورت   میں اگرشخصِ مذکور آپ کےساتھ کام میں شریک ر ہےگا،تو پھر عقد مذکور درست ہوگا،اگرچہ نفع ایک کےلئےاس کےسرمایہ سےزائد جبکہ دوسرےکےلئےاس کےسرمایہ سےکم  کیوں نہ ہو،تا ہم اگرشخص مذکور یہ شرط لگائے کہ وہ کام نہیں کرےگا،تو پھراس عقد کےصحیح ہونےکےلئے  ضروری ہے کہ وه شخص جس كا صرف سرمایہ لگا ہوا ہو اس کے نفع کا تناسب اس کےلگائے ہوئےسرمایہ  کےتناسب سے زیادہ  نہ ہو،مثال کی طور پر شخص مذکور کی دس لاکھ روپے ہیں،جبکہ آپ کےبیس لاکھ۔اب اگرشخص مذکور کام نہ کرنےکی شرط لگاتاہے،تو اس  صورت میں ضروری ہے،کہ اس کانفع  ایک تہائی سےزیادہ نہ ہو،بصورت دیگرعقد درست نہ ہوگا۔
2۔اگر"مضاربت"کی صورت میں نقصان ہوجاتاہے،تو اگر کوئی نفع حاصل ہوچکا ہے تو وہ نقصان اسی نفع سے پورا کیا جائے اور اگر وہ نفع نقصان سے کم ہو تو باقی ماندہ اور نفع نہ ہونے کی صورت میں  سرمایہ کار کاتمام سرمایہ ضائع ہوجائےگا،جبکہ آپ کی محنت،تاہم  اگرآپ  کاروبار میں سرمایہ کارکےحکم کی مخالفت کرینگے، یامال کی حفاظت  میں کوتاہی  کریں گے،تو اس صورت میں  آپ پرضمان آئےگا،یہ اس صورت میں جب مضاربت ختم  کرنےکا ارادہ ہو،اگرمضاربت برقرار رکھنا ہے،تو اس صورت میں حاصل ہونےوالے نفع سے پہلےسرمایہ پورا کیاجائےگا،بعد میں نفع تقسیم  ہوگا۔اوراگرمشارکہ کی صورت میں نقصان ہوجاتاہے،تو آپ دونوں میں سے ہرشخص اس کےلگائےہوئےسرمایہ کےحساب سےضامن ہوگا۔
3۔شخصِ مذکور کی  اس  شرط "کہ نقصان کاذمہ دار آپ ہونگے"کی شرعا کوئی حیثیت نہیں،بلکہ  یہ شرط باطل ہے،اس کی وجہ سےعقد پرکوئی اثر نہیں پڑےگا۔
في الهداية في شرح بداية المبتدي :المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر... ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة... وكل شرط يوجب جهالة في الربح يفسده لاختلال مقصوده، وغير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسدها، ويبطل الشرط كاشتراط الوضيعة على المضارب.(كتاب المضاربة: 3/ 200:داراحياء التراث العربي)
وفيه ايضا:"الشركة جائزة" لأنه صلى الله عليه وسلم بعث والناس يتعاملون بها فقررهم عليه.والضرب الثاني: شركة العقود، وركنها الإيجاب والقبول، وهو أن يقول أحدهما شاركتك في كذا وكذا ويقول الآخر قبلت" وشرطه: أن يكون التصرف المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة ليكون ما يستفاد بالتصرف مشتركا بينهما فيتحقق حكمه المطلوب منه (كتاب الشركة:3/7:داراحياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب