نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی کا فلیٹ بنانےکاارادہ ہے،پلاٹ اس کےپاس موجود ہے،وہ لوگوں کوبکنگ کی دعوت دیتاہے،فلیٹ کاصرف نقشہ بنایاگیاہےتاہم اس میں ہرفلور میں ہونےوالی سہولیات اوراوصاف کاتذکرہ ہوتاہے، اس میں ایک فلور کی قیمت مثلا ایک کروڑ ہے،اس میں سے20 فیصدکی ادائیگی اڈوانس ضروری ہے،جبکہ باقی رقم قسطوار2 سال تک اداکی جائیگی،تاہم اگر اس میں کوئی شخص مکمل ادائیگی اڈوانس کرتاہے،توپلاٹ کامالک اس کواسی دن سے لےکرفلورکےحقوق اس کی طرف منتقل کرنےتک ہرمہینے کاایک لاکھ کرایہ ادا کرتاہے،حالانکہ فلورابھی تک وجود میں نہیں آیاہے،جس کی وجہ سے ایک کروڑ کا فلور اس کوتقریبا 76لاکھ میں مل جاتاہے،اب پوچھنایہ کہ کیا مذکورہ طریقہ شرعا درست ہےیانہیں؟بصورتِ دیگرجواز کی کوئی صورت ہو تو تحریر فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا۔
واضح رہے کہ کسی چیز کوبنانےکےلئے کسی کوآڈر دیناشریعت کی اصطلاح میں "استصناع"کہلاتاہے،استصناع کےصحیح ہونے کےلئے جملہ شرائط میں سے یہ بھی ہے،کہ جس چیز کوبنایاجاتاہے،اس چیز کےاوصاف معلوم اورمتعین ہوں نیز اس کےعوض طےشدہ قیمت اوراس کی ادائیگی کی مدت اورطریقہ کاربھی متعین ہوبصورتِ دیگر عقد استصناع درست نہ ہوگا۔
بصورت مسئولہ فلیٹ والے اورخریدار کےدرمیان فلور بک کرنےکی حد تک معاملہ شرعا درست ہے،کیونکہ عقدِ مذکور استصناع ہے ،اوراس کےصحیح ہونےکی تمام شرائط بھی موجود ہیں،تاہم مکمل ادائیگی کی صورت میں اسی فلور(جوابھی تک وجود میں نہیں آیاہے)کوکرایہ پردیناشرعا درست نہیں ہے،اس لئے کہ کرایہ پرکسی چیزکا لینا دیناشرعااس وقت درست ہوتاہے،جب اس چیز کی کوئی نہ کوئی منفعت ہو،بصورت مسئولہ چونکہ فلورہی موجود نہیں ہے،اس لئے یہ عقد درست نہ ہوگا،تاہم چونکہ اس عقد سے فلیٹ کےمالک کامقصد نقد سرمایہ حاصل کرنا ہے،جبکہ مشتری کامقصدکم قیمت پرفلور وصول کرنا ،اس لئے اس مقصد کوحاصل کرنےکےلئےیہ طریقہ اختیارکیاجاسکتاہے،کہ فلیٹ کامالک یہ پالیسی اختیار کرے،کہ کل رقم کی نقد ادائیگی کر نےوالےشخص کوفلور کی قیمت میں مثلابیس فیصدرعایت دےدے،تو اس صورت مالک اورگاہک دونوں کےمقاصد بھی پورے ہونگے،اورعقدمیں کوئی شرعی خرابی بھی لازم نہیں آئی گی۔
في فقه البيوع:ومنه ما جرى به العمل من أن صاحب الارض الخالية يعمل خطة لبناء كبير يحتوي على شقق سكنية،أو مكاتب أو محلات،ثم يدعو الناس للاكتتاب،فيدفعون إليه مبالغ،ثم يسلم إليهم الشق بعداكتمالها،فهومخرج على الاستصناع،فالمكتتبون يعقدون مع صاحب الأرض استصناع الشقة اولمكتب أومحل تجاري بمواصفات معلومة حسب التصميم،فيجوز ذلك بشروط الاستصناع،ولكن مايفعله بعض الناس من بيع الشقة أوالمكتب قبل اكتمال بنائه وقبل ان يقع التسليم،فإنه لايجوز.(الاستصناع:1/588:ط:معارف القران كراتشي)
في الهداية شرح البداية:الإجارة عقد على المنافع بعوض لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع والقياس يأبى جوازه لأن المعقود عليه المنفعة وهي معدومة وإضافة التمليك إلى ما سيوجد لا يصح إلا أنا جوزناه لحاجة الناس إليه وقد شهدت بصحتها الآثار وهو قوله عليه الصلاة والسلام اعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه...ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة لما روينا ولأن الجهالة في المعقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع(كتاب الاجارة: 3/ 231:المكتب الاسلامي)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔