نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ (1):
چونکہ شخصِ مذکور اپنی زندگی میں اپنےمال اورجائیداد کا خود مالک ہے،اس لئے وہ اس میں جس طرح تصرف کرناچاہے کرسکتاہے۔تاہم اگروہ میراث کی ترتیب پرتقسیم کرناچاہے،تو کل مال کے چارحصے بنائےجائینگے،ان میں سے بیوی کوربع(چوتھا حصہ)ملےگا،جبکہ باقی تین حصےشخصِ مذکور کے بھائی اوربہن میں للذکر مثل حظ الانثیین( مذکر کومؤنث سے دگنا دیاجائےگا)کے قانون کے مطابق تقسیم ہونگے،یعنی بھائی کو دو حصے جبکہ بہن کو ایک حصہ ملےگا۔
(2):-
اگر شخصِ مذکور کی بیوی پہلے فوت ہوجائے،تو اس صورت میں بھی اگروہ خود زندہ ہے،تو اپنےمال و جائیدا کا خود مالک ہے( نیزاگراس کی بیوی کچھ مال وجائیداد چھوڑتی ہے اور بیوی کے اور ورثاء بھی ہوں تو اس میں بھی شخص مذکور کو ادھا حصہ ملےگا)اس کی زندگی میں کسی کو اس کےمال میں تصرف کا حق حاصل نہیں ،تاہم اگرعورت کی وفات کےبعد شخص مذکور بھی فوت ہوجائے،تواس صورت میں اس کےمال میں سے اس کےکفن دفن کےاخراجات نکالےجائینگے،اس پرکسی کا قرض ہو تو وہ اداکیاجائےگا،اسی طرح اگر اس نےکسی غیروارث کےلئے کوئی جائز وصیت کی ہو،وہ پوری کی جائےگی،اس کےبعد جوکچھ بچ جائے،وہ سارا کا سارا شخصِ مذکور کے بھائی اوربہن میں للذکر مثل حظ الانثیین( مذکر کومؤنث سے دگنا دیاجائےگا)کے قانون کے مطابق تقسیم ہوگا(بشرطیکہ مرحوم کے بہن بھائی کےعلاوہ کوئی اوروارث نہ ہو)لہذا کل مال کی تین حصے بنائےجائینگے،ان میں سےدو حصے بھائی کوملیں گے جبکہ ایک حصہ بہن کو ملےگا۔
قال الله تعالی: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام:لِلْإِنْسَانِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ فَلَا يُعَدُّ تَصَرُّفُهُ فِيهِ مَهْمَا كَانَ تَعَدِّيًا(المادۃ:المتسبب لايضمن الاباالتعمد:ص: 1/ 83:ط:دارالکتب العلمية بيروت)
وفي السراجي في الميراث:قال علماءنا:تتعلق بتركة الميت حقوق اربعةمرتبة:الاول يبدأبتكفينه وتجهيزه من غيرتبذيرولاتقتير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ،ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي.(الحقوق المتعلقة بتركة الميت:ص:5:ط:بشرى)
وفيه ايضا:ثم العصبات من جهة النسب،والعصبة:كل من يأخذ ما أبقته اصحاب الفرائض...ثم جزء ابيه اي الاخوة.(ترتيب تقسيم التركة:ص:9:ط:بشرى)
في البحر الرائق:وَإِنَّمَا كان كَذَلِكَ لِأَنَّ الْإِرْثَ يبنى على الْيَقِينِ بِسَبَبِ الِاسْتِحْقَاقِ وَشَرْطُهُ وهو حَيَاةُ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرَّثِ ولم يَثْبُتْ ذلك فَلَا يَرِثُ بالشك (كتاب الفرائض:ص: 8/ 577:ط:دارالمعرفة)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔