سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-258 Fatwa no: 1447-258

زندگی میں تقسیمِ میراث کا طریقہ کار

براہ راست فتویٰ
سوال :
ایک شخص شادی شدہ ہے،جس کی عمرتقریبا 70سال ہے،بےاولاد ہے،صرف بیوی ہے۔اس بےاولاد شخص کا ایک بھائی اورایک بہن بھی زندہ ہیں،مذکورہ صورت میں شخص مذکور کی جائیداد میں اس کی بیوی کا حصہ کتنا ہوگا؟َبہن اوربھائی کا حصہ کتنا ہوگا؟علاوہ ازیں بھی کسی کو حصہ ملےگا؟شخصِ مذکور اپنی ہی زندگی میں جائیدا د ورثاء کو دیناچاہتاہے۔ دوسری صورت:اگرشخصِ مذکور کی بیوی پہلےوفات پاجائے،تو پھرشخصِ مذکور کی جائیداد کا وارث کون ہوگا؟جب کہ اس شخص کا ایک بھائی صاحب مع اولاد زندہ ہے،اورایک بہن صاحبہ مع اولاد زندہ ہے۔
جواب :

بصورت مسئولہ (1):
چونکہ شخصِ مذکور اپنی زندگی میں اپنےمال اورجائیداد کا خود مالک ہے،اس لئے وہ اس میں جس طرح تصرف کرناچاہے کرسکتاہے۔تاہم اگروہ  میراث کی ترتیب پرتقسیم کرناچاہے،تو کل مال کے  چارحصے بنائےجائینگے،ان میں سے بیوی کوربع(چوتھا حصہ)ملےگا،جبکہ باقی  تین حصےشخصِ مذکور کے بھائی اوربہن میں للذکر مثل حظ الانثیین( مذکر کومؤنث سے دگنا دیاجائےگا)کے قانون کے مطابق تقسیم ہونگے،یعنی بھائی کو دو حصے جبکہ بہن کو ایک حصہ ملےگا۔
(2):-
اگر شخصِ مذکور کی بیوی پہلے فوت ہوجائے،تو اس  صورت میں بھی اگروہ خود زندہ ہے،تو  اپنےمال و جائیدا کا خود مالک  ہے( نیزاگراس کی بیوی کچھ مال وجائیداد چھوڑتی ہے اور بیوی کے اور ورثاء بھی ہوں تو اس میں بھی شخص مذکور کو ادھا  حصہ ملےگا)اس کی  زندگی میں کسی کو اس کےمال میں تصرف کا حق حاصل نہیں ،تاہم  اگرعورت کی وفات کےبعد شخص مذکور بھی فوت ہوجائے،تواس  صورت میں اس  کےمال میں سے اس کےکفن دفن کےاخراجات  نکالےجائینگے،اس  پرکسی کا قرض ہو تو وہ اداکیاجائےگا،اسی طرح اگر اس نےکسی غیروارث کےلئے کوئی جائز وصیت کی ہو،وہ پوری کی جائےگی،اس کےبعد جوکچھ بچ جائے،وہ  سارا کا سارا شخصِ مذکور کے بھائی اوربہن میں  للذکر مثل حظ الانثیین( مذکر کومؤنث سے دگنا دیاجائےگا)کے قانون کے مطابق تقسیم ہوگا(بشرطیکہ مرحوم کے بہن بھائی  کےعلاوہ کوئی اوروارث نہ ہو)لہذا کل مال کی  تین حصے بنائےجائینگے،ان میں سےدو حصے بھائی کوملیں گے جبکہ ایک حصہ بہن کو ملےگا۔
قال الله تعالی: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام:لِلْإِنْسَانِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ فَلَا يُعَدُّ تَصَرُّفُهُ فِيهِ مَهْمَا كَانَ تَعَدِّيًا(المادۃ:المتسبب لايضمن الاباالتعمد:ص: 1/ 83:ط:دارالکتب العلمية بيروت)
وفي السراجي في الميراث:قال علماءنا:تتعلق بتركة الميت حقوق اربعةمرتبة:الاول يبدأبتكفينه وتجهيزه من غيرتبذيرولاتقتير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ،ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي.(الحقوق المتعلقة بتركة الميت:ص:5:ط:بشرى)
وفيه ايضا:ثم العصبات من جهة  النسب،والعصبة:كل من يأخذ ما أبقته اصحاب الفرائض...ثم جزء ابيه اي الاخوة.(ترتيب تقسيم التركة:ص:9:ط:بشرى)
في البحر الرائق:وَإِنَّمَا كان كَذَلِكَ لِأَنَّ الْإِرْثَ يبنى على الْيَقِينِ بِسَبَبِ الِاسْتِحْقَاقِ وَشَرْطُهُ وهو حَيَاةُ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرَّثِ ولم يَثْبُتْ ذلك فَلَا يَرِثُ بالشك (كتاب الفرائض:ص: 8/ 577:ط:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب