نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمرحوم نےاپنی کمائی سے خریدے یاتعمیر کئے گئے اپنے تین مکانات میں سے ایک اپنے آبائی گاؤں والا مکان دو گواہان کی موجودگی میں (گوایان میں سے ایک گواہ وفات پاچکے ہیں جبکہ ایک گواہ حیات ہیں،اوراب بھی گواہی دینے کےلئیے تیار ہیں)اپنی بیوی کے نام کردیا تھا،جس کا تحریری ثبوت اسٹامپ پیپر کی شکل میں بمع دستخط مرحوم وگواہان موجودہے،اور اس سوالنامے کے ساتھ حوالے کےلئے منسلک ہے،اب چونکہ مرحوم اس دنیا میں نہیں رہے،تو مذکورہ مکان جو مرحوم نے اپنی حیات میں بیوی کو دیدیاتھا،میں بہن بھائیوں کا کوئی حصہ یا دعوی باقی رہتاہے...؟یادرہےکہ مرحوم کی کوئی اولاد نہیں اورصرف بیوہ حیات ہیں۔قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی وفتوی مرحمت فرمائیں۔دراز عمراوراچھی صحت کےلئے دعاگو ہوں۔
بصورتِ مسئولہ اسٹامپ پیپر میں شوہر نے اپنا مکان بیوی کودینےکاتین جگہ تذکرہ کیا ہے۔1۔"مکانِ مذکورہ زوجہ مسماۃ رفیقہ کےنام بخوشی ورضا ورغبت تملیک کرتا ہوں۔
2۔میرے مرنےکےبعد زوجہ ام میرے سارے مکان آباد کی واحد مالکہ ہوگی،اگروہ میرےپت میں بیٹھی رہیگی۔
3۔اگروہ میرےپت میں زندگی گزاریگی تواس صورت میں سارےمکان کی بیع ورہن کی مجاز ہوگی۔
نوٹ:۔مستفتی سے اس جملے کامطلب" اگروہ میرےپت میں بیٹھی رہیگی"پوچھا گیا،اس نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہےکہ اگرعورت میرےمرنےکےبعد کسی اورجگہ نکاح نہیں کریگی ،تب یہ گھر اس کی ملکیت ہوگی۔
ان عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے،کہ شوہرنےاگرچہ تملیک وغیرہ کےالفاظ استعمال کئے ہیں،لیکن چونکہ تملیک کومرنے کےبعد پرمعلق کیاہے،جیساکہ خط کشیدہ الفاظ میں مذکورہے،اس لئے یہ ہبہ نہیں بلکہ وصیت ہے،اورشرعا چونکہ وصیت اپنے وارث کےلئے نہیں ہوتی ،اس لئے مذکورہ وصیت بھی درست نہیں ،لہذا اس مکان میں بھی عورت کےساتھ دیگرورثاء بھی شریک ہونگے،اورمرحوم کی چونکہ اولاد نہیں ،اس لئےاس کو مرحوم کےپورےمال وجائیداد کاربع یعنی ایک چوتھائی حصہ ملےگا،چنانچہ اگرمذکورہ مکان مرحوم کےکل مال وجائیداد کےچوتھائی حصہ کےبرابر ہو،تو یہ گھرمرحوم کی بیوہ کو دیا جاسکتا ہے،بصورتِ دیگرسارےمکانات کی قیمت لگاکرنیز اگرمرحوم کےکچھ اور مال و متاع ہوں تو سب کو ملاکران میں سے ایک چوتھائی رقم مرحوم کی بیوہ کو دی جائیگی۔
في سنن ابن ماجه: عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَهُمْ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعابهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ لِكُلِّ وَارِثٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ، فَلَا يجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ(2/319:مكتبة رحمانية)
وفي فتاوى التاتارخانية:وإذا قال أوصيت أن يوهب لفلان سدس داري بعد موتي،وكان ذلك وصية عملا بقوله بعد موتي،فالهبة بعد الموت هي الوصية...وكذالك إذا قال بعد موتي،لأنه لما قال بعد موتي فقد نص على الوصية بخلاف ماإذا قال في صحته:ثلث مالي لفلان،لأنه لم يصرح بالوصية ولا ذكرها في خلال الوصايا ولا أضافه إلى ما بعد الموت فلا يجعل وصية بل يجعل هبة،حتى لوذكرها في خلال الوصايا،أو أضافه إلى ما بعد الموت،وكان ذلك في حالة الصحة يكون وصية.(كتاب الوصايا:19/371:مكتبة اعزازية)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔