نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ میراث کےباب میں عصبہ ،ذوی الارحام سے مقدم ہے،تاہم اگرمیت کےعصبات میں سےکوئی نہ ہوتو پھرذوی الارحام حق دار ہوتے ہیں۔
بصورت مسئولہ آپ کی پھوپھی اوروالد کارشتہ اگرچے میت کےساتھ برابر کا ہے،لیکن شریعت میں آپ کے والد میت(اپنے مرحوم بھتیجے)کےلئےعصبہ ہے جبکہ آپ کی پھوپھی ذوی الارحام میں سےہیں،اس لئے اس صورت میں ساری کی ساری میراث آپ کےوالد(اگراس کےعلاوہ کوئی اوروارث نہ ہو) کی ہوگی،جبکہ آپ کی پھوپھی میراث سے محروم ہوگی،تاہم اگرآپ کاوالد پھوپھی کےدل جوئی کےلئے کچھ نہ کچھ دیدیں،تو یہ باعث ثواب ہوگا۔
وفي السراجي: أولاهم بالميراث جزء الميت...ثم جزء جده أي الأعمام،ثم بنوهم ان سفلوا(باب العصبات:54:بشرى)
وفيه أيضا:ومن لا فرض لها من الاناث وأخوها عصبة بأخيها،كالعم والعمة،المال كله للعم دون العمة.(باب العصبات:57:مكتبة بشرى)
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔