سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-260 Fatwa no: 1447-260

کیا چچازاد بہن چچازاد بھائی کی موجودگی میں میراث لےسکتی ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے ابو کےچچا کا بیٹاانتقال کرگیاہے،اس کا کوئی نہیں تھا دنیا میں نہ بیوی اورنہ ہی بچے سوائے ہمارے،اورہماری ایک پھوپھی کے،کیا وہ بھی ہمارے ساتھ میراث میں شریک ہوگی یانہیں؟جواب دےکر ممنون فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ  میراث کےباب میں   عصبہ ،ذوی الارحام سے مقدم ہے،تاہم اگرمیت کےعصبات میں سےکوئی نہ ہوتو پھرذوی الارحام حق دار ہوتے ہیں۔
بصورت مسئولہ آپ کی پھوپھی اوروالد کارشتہ اگرچے میت کےساتھ برابر کا ہے،لیکن شریعت میں  آپ کے والد میت(اپنے مرحوم بھتیجے)کےلئےعصبہ ہے جبکہ آپ کی پھوپھی ذوی الارحام  میں سےہیں،اس لئے  اس صورت میں  ساری کی ساری میراث آپ کےوالد(اگراس کےعلاوہ کوئی اوروارث نہ ہو) کی ہوگی،جبکہ آپ کی پھوپھی میراث سے محروم ہوگی،تاہم اگرآپ کاوالد پھوپھی  کےدل جوئی کےلئے  کچھ نہ کچھ دیدیں،تو  یہ باعث ثواب ہوگا۔
وفي السراجي: أولاهم بالميراث جزء الميت...ثم جزء جده أي الأعمام،ثم بنوهم ان سفلوا(باب العصبات:54:بشرى)
وفيه أيضا:ومن لا فرض لها من الاناث وأخوها عصبة بأخيها،كالعم والعمة،المال كله للعم دون العمة.(باب العصبات:57:مكتبة بشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب