سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-261 Fatwa no: 1447-261

لیکوریا کی صورت میں نماز اور تراویح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کو لیکوریا کی بیماری ہے،کبھی اتنا وقت ہوتا ہے،کہ وضو کرکے نماز پڑھ لیتی ہیں،کبھی وضو کرکے پانچ یا دس منٹ کسی کام میں لگ جائیں،تو ڈسچارج ہونے لگتا ہے۔اب درج ذیل  سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:۔
1-کیاہرنماز کےلئے نیا وضو کریں؟اور وضو کے ساتھ واش بھی کریں؟
2-اگروہ تراویح پڑھنے جاتی ہیں،تو کیا اس میں بھی ہر دو رکعت بعد وضو کرنا ہوگا،دوسری جگہ پر واش روم جانا مشکل ہوتا ہے۔
3-وضوکے کتنی دیر بعد ڈسچارج ہو کہ عورت معذور مانی جائےگی؟
4-روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟اس بیماری میں نفلی عبادات،اور اذکار کے بارے میں کیا کریں۔ وضاحت فرمائیں۔ 

جواب :

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو ایسا عذر لاحق ہو،کہ وہ ایک وقت  کی نماز کے پورے وقت میں  نماز اس عذر کے بغیر(پاکی کی حالت میں ) نہ پڑھ سکتا ہو،تو اس کو شریعت کی اصطلاح میں معذور شرعی کہا جاتا ہے،اور معذور کا حکم یہ ہے،کہ وہ ہرنماز کے وقت کےلے وضو بنائےگا،اور پھر اسی وضو کےساتھ  نماز کے پورے وقت میں  فرض،قضاءنفل نمازیں،قرآن مجید کی تلاوت اور دیگر عبادات کرسکتا ہے،تاہم دوسری نماز کے وقت کےلئے پھر وضو کرنا پڑےگا۔
بصورتِ مسئولہ :۔
1-جب   آپ کووضو کرنے کے بعد فرض نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے،تو آپ معذور شرعی نہیں  ہیں،لہذا  و ضو کرنے کے بعد اگرآپ کسی کام میں لگ جائیں،اور پھر بیماری شروع ہوجائے،تو آپ پر نماز پڑھنے کےلئے دوبارہ  وضو کرنا لازم ہے۔جہاں تک  نجاست دھونے کا تعلق ہے تو اگر آپ کو یقین ہے،کہ وہ ادھر ادھر پھیل گئی ہے،تو اس کا دھونا بھی ضروری ہے،بصورتِ دیگر صرف استنجاء کا فی ہے۔
2۔تراویح کے ہردو رکعات کے  بعد وضو بنانا ضروری نہیں ،وضو تب بنانا ضروری ہوگا،جب آپ کو یقین ہوجائے کہ  وضو ٹوٹ گیا ہے۔اگر آپ   کوکسی اورجگہ  جاکر تراویح پڑھنے کی صورت میں  مشکل پیش آرہی ہو،تو آپ گھر ہی  میں  نماز پڑھا کریں،بلکہ خواتین کےلئے گھر ہی  میں نماز پڑھنا اولی  اور بہتر ہے۔
3-اس کی تفصیل اوپر ذکر کی گئی  ہے۔
4۔لیکوریا، روزے پر اثرانداز نہیں ہوتا،اس لئے آپ روزے رکھیں گے،اور اس کے علاوہ ذکر واذکار کو تو بغیر وضو کے بھی کرسکتی ہیں ،اگرچہ بہتر یہ ہے کہ آدمی باوضو ہو۔باقی نوافل کی  تفصیل اوپر گزر گئی ہے۔
في سنن أبى داود :عن عبد الله عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « صلاة المرأة فى بيتها أفضل من صلاتها فى حجرتها وصلاتها فى مخدعها أفضل من صلاتها فى بيتها(باب التشديد في ذلك: 1/ 223:دارالكتاب العربي)
في الدر المختار:( وصاحب عذر من به سلس ) بول لا يمكنه إمساكه ( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة ) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة ( إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث ( ولو حكما ) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم ( وهذا شرط ) العذر ( في حق الابتداء وفي ) حق ( البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت ) ولو مرة ( وفي ) حق الزوال يشترط ( استيعاب الانقطاع ) تمام الوقت ( حقيقة ) لأنه الانقطاع الكامل ( وحكمه الوضوء )(مطلب في أحكام المعذور: 1/ 305:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب